مفاہمتی پالیسی ختم ،بلدیاتی الیکشن میں مسلم لیگ(ن) کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ نہیں ہو گی ،پیپلز پارٹی

مفاہمتی پالیسی ختم ،بلدیاتی الیکشن میں مسلم لیگ(ن) کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ ...

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی نے مفاہمتی پالیسی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاروں صوبائی الیکشن کمشنر فوری طور پر مستعفی ہوجائیں ان کا عہدوں پر برقرار رہنا آئینی ، قانونی اور اخلاقی طور پر جائز نہیں ہے ،2013ء کے عام انتخابات کو احتجاجی طور پر تسلیم کیا تھا ، صوبائی الیکشن کمشنر کے مستعفی ہونے تک پیپلز پارٹی ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی ، آئین کی شق 218-3 کے تحت آزادانہ ، منصفانہ ، غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن کروانا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری ہے ، دہشتگردی کے خاتمے میں مسلح افواج ، رینجرز اور دیگر سکیورٹی اداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے زرداری ہاؤس اسلام آباد کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمن نے کہا کہ پرامن اقتدار کی منتقلی کی وجہ سے عام انتخابات کے نتائج کو تسلیم کیا تھا الیکشن کمیشن بہت کمزور ہے اس کو تبدیل کیا جائے ہم پہلے بھی الیکشن ریفارمز کا مطالبہ کرتے رہے ہیں ۔ سابق گورنر پنجاب سردار لطیف خان کھوسہ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 218-3 کے تحت آزادانہ ، منصفانہ ، غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن کروانا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری ہے الیکشن کمیشن اپنے فرائض سے نبرد آزما نہیں ہوا شفاف الیکشن جمہوریت کی رو ح اور آئین کی بنیاد ہوتے ہیں موجودہ الیکشن کمشنر اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کسی بھی الزام سے مستثنیٰ ہیں صوبائی الیکشن کمشنر الیکشن پر اثر انداز ہوئے اور ایک ہی جماعت کو فائدہ پہنچایا ان چاروں الیکشن کمشنرز کا عہدے پر رہنا آئین قانون اور اخلاقی طور پر جائز نہیں ہے اگر ان کو ہٹانے کیلئے کسی قانون سازی کی ضرورت ہے تو وہ بھی کی جائے گی ۔پیپلز پارٹی کا ضمنی انتخابات میں حصہ لینا چاروں الیکشن کمشنر سے مشروط ہے اگر عہدوں پر برقرار رہے تو پیپلز پارٹی اپنے امیدواروں کو بٹھا دے گی پیپلز پارٹی نے کبھی کسی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا ہم بائیکاٹ کے لفظ کے بھی مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کرپشن کا دفاع نہیں کرتی اگر کرپشن کیخلاف ا حتساب کرنا ہے تو اوپر سے شروع کیا جائے وزیراعظم کے بچے سرکاری خرچ پر جہازوں کا سفر کرتے ہیں کیا وہ کرپشن نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی لوکل سطح پر نواز لیگ کے علاوہ دیگر جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے لہٰذا مفاہمتی پالیسی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے عہدیداروں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مفاہمتی پالیسی ختم کرنے کی سفارشات کی ہیں موجودہ حکومت کسان ، تاجر ، مزدور دشمن ہے حکومت لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے ہمارے حکومت کے دوران کرتی تھی لیکن تین سال ہونے والے ہیں لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی قاسم ضیاء اور ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتی ہے پارٹی کا عہدہ پارٹی کی امانت ہے پارٹی میں جب چاہے گی واپس لے گی دہشتگردی کیخلاف کامیابیوں پر مسلح افواج رینجرز ارو دیگر سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ دہشتگرد علم کے دشمن ہیں ہم ان سے لڑینگے۔

اسلام آباد(اے این این) پاکستا ن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیری عوام سب سے اہم ہیں اور پارٹی ان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ بات انہوں نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے دفد سے بات کرتے ہوئے کی جو ان سے ملاقات کے لیے زرداری ہاؤس اسلام آباد آیا۔ بیس رکنی وفد میں غلام محمد صفی، میر طاہر مسعود،محمود ساغر، محمد سفیر، یوسف نسیم، عبدالحمید لون، رفیق ڈار، اعجازبٹ، شمیم شال، فیض نقشبندی اور دیگر شامل تھے۔ صدر آزاد جموں وکشمیر سردار یعقوب ، وزیراعظم آزاد جموں وکشمیرچوہدری عبدالمجید ،اسپیکر آزاد جموں وکشمیراسمبلی غلام صادق، سینئر وزیرچوہدری یاسین، وزیر خزانہ چوہدری لطیف اکبر، وزیرہائر ایجوکیشن مطلوب انقلابی بھی آل پارٹیز حریت کانفرنس کے وفد کے ساتھ تھے۔ اس موقع پر فریال تالپور ، راجہ پرویز اشرف، سینیٹر شیری رحمن اور جمیل سومرو بھی موجود تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ہونے سے ہی علاقے میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا وژن ہے کہ جنوبی ایشیاء کو امن اور خوشحالی کے راستے پر اسی طرح گامزن کیا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بلاتعصب عملدرآمد کیا جائے۔ یہ راستہ اعتماد سازی ، تنازعات کے حل کے بہتر انتظامات اور قوموں کے درمیان تجارتی بلاک قائم کرنے ہی سے عوام کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد سازی کی فضاء قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مستحکم امن کے قیام کے لیے لوگوں سے لوگوں کے رابطے پیدا کرنا اور تجارت کو فروغ دینا اہم اقدامات ہیں جن سے نہ صرف کشمیر میں بلکہ پورے خطے میں طویل مدتی امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان آل پارٹیز حریت کانفرنس کو او آئی سی میں مبصر کی حیثیت دلانے میں کامیاب ہو گئی تھیں اور انہوں نے 1999میں تجویز دی تھی کہ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان سافٹ بارڈر قائم کیا جائے ۔ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی نے جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے الگ ٹیرف کو متعارف کروایا تھا اور مختلف لوگوں کے گروپ کا نظریہ پیش کیا تھا جیسا کہ پارلیمنٹیرینز اور ججوں کے گروپ جو سارک ممالک میں ویزا کے بغیر سفر کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوام کے بنیادی حقوق کا احترام کرتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے جموں وکشمیر کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات کایقین دلایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی جدوجہد میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا حق خودارادیت اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل ہے اور کسی قسم کی طاقت کے استعمال سے اسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔پاکستان پیپلز پارٹی مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پر امن اور منصفانہ طور پر چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو بھی مذاکرات کے عمل میں شامل کیا جائے کیونکہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حتمی اختیار رکھتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے لائن آف کنٹرول اور پاکستانی سرحدوں پر بھارتی گولہ باری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دیہات میں متعدد معصوم زندگیاں ضائع ہو گئی ہیں اور مطالبہ کیا کہ سیز فائر کا احترام کیا جائے۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے وفد نے بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان سے ملاقات کے لیے وقت نکالا اور کہا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ ہے کہ اس نے ہمیشہ کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کی ہے جس کو کشمیر بھر میں لوگ بہت سراہتے ہیں

مزید : صفحہ اول


loading...