عمران خان کی نئی مہم جوئی ،اب کی بار دھرنوں کا ہدف وزیر اعظم نہیں ،الیکشن کمیشن

عمران خان کی نئی مہم جوئی ،اب کی بار دھرنوں کا ہدف وزیر اعظم نہیں ،الیکشن ...

تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری

تحریک انصاف کے الیکشن کمشنر جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین ، عبدالعلیم خان اور نادر لغاری کے بارے میں جو سفارشات کی تھیں پارٹی چیئرمین نے انہیں تو پرکاہ کے برابر اہمیت نہیں دی بلکہ الٹا ان کی پارٹی رکنیت ہی معطل کر دی ، لیکن اب وہ تازہ دھرنے کے ذریعے الیکشن کمیشن کے صوبائی ارکان کے استعفے لینے نکلے ہیں تو کیا کوئی ان سے یہ نہیں پوچھے گا کہ جناب آپ اپنی پارٹی کے الیکشن کمشنر کی بات تو مانتے نہیں اور ان ارکان سے استعفے طلب کر رہے ہیں ، جو ایک آئینی عہدے پر فائز ہیں، جبکہ آئینی پوزیشن یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے ارکان کو مقررہ مدت سے پہلے نہیں ہٹایا جا سکتا، اگرچہ از خود استعفوں کی گنجائش ہے لیکن یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ ارکان دھرنے کے ذریعے استعفا دینے پر آمادہ ہو جائیں گے؟ یہ دھرنا ایک روزہ ہو گا اور 4اکتوبر کو دیا جائیگا۔ پیپلزپارٹی نے بھی حکومت کے ساتھ اپنی مفاہمت ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور الیکشن کمیشن کے ارکان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رکھا ہے،قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی مشاورت الیکشن کمیشن کی تشکیل میں باقاعدہ شامل تھی، اب وہ تو سیدھی سادی معافی مانگ کر اس معاملے سے الگ ہو گئے ہیں اور ارکان سے استعفا طلب کر رہے ہیں، جبکہ مستعفی انہیں خود ہونا چاہئے تھا کہ ان کی ’’غلط مشاورت ‘‘کی وجہ سے ایک غلط فیصلہ ہو گیا، لیکن وہ بکار خویش اتنے ہوشیار ہیں کہ معافی مانگ کر اس ضمن میں اپنا گناہ دھلوانا چاہتے ہیں لیکن کسی دوسرے کے ناکردہ گناہ کی معافی نہیں دینا چاہتے، خیر یہ تو ان کا نقش قدم ہے وہ جو چاہیں کہہ اور کر سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اب الیکشن کمیشن کے ارکان سے استعفے لینے کے لئے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی ایک ہی صفحے پر ہوں گے، اگرچہ حکومت کے ساتھ مفاہمت تو ختم کرنے کا اعلان پیپلزپارٹی نے کر دیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا مفاہمت کے خاتمے کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ دونوں جماعتیں اب حکومت کے خلاف اکٹھی ہوں گی اور کیا عمران خان کے ماضی قریب کے وہ بیانات اس اتحاد کے آڑے نہیں آئیں گے جو وہ آصف علی زرداری اور خورشید شاہ کے بارے میں دیتے رہے، آصف زرداری کو تو وہ نہ جانے کیا کچھ کہتے رہے لیکن شاہ صاحب کو انہوں نے وزیر اعظم کا منشی کہہ دیا تھا۔ اب وہ اس منشی کے ساتھ چلیں گے تو کیسا لگے گا؟ لیکن سیاست دور ان کا یہ عجیب کرشمہ ہو گا اگر عمران خان میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی پارٹنر شپ توڑتے توڑتے خود پیپلز پارٹی کے ساتھ اکٹھے چلنا شروع کر دیں، خیر سیاست میں تو سب کچھ چلتا ہے، سیاسی مصلحتیں ایسے اصولوں اور ضابطوں کو خش و خاشاک کی طرح بہا لے جاتی ہیں جو اس کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کریں۔

عمران خان نے وزیر اعظم نواز شریف کا استعفا لینے کے لئے اسلام آباد کے ڈی چوک میں 126دن تک دھرنا دیا لیکن وہ استعفا پھر بھی نہ آیا، جو ان کے خیال میں اگست کی آخری تاریخ کو آنا یقینی تھا۔ عمران خان نے انہی دنوں اعلان کیا تھا کہ وہ اسی طرح دھرنے پر بیٹھے رہیں گے مگر استعفے کے بغیر اسلام آباد سے نہیں جائیں گے لیکن حالات کے جبر نے انہیں اس کے بغیر اسلام آباد چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ عمران خان کے ساتھ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی دھرنا دیا تھا ، اگرچہ ان کا مطالبہ استعفا نہیں، پورے نظام کا خاتمہ اور انقلاب تھا، جس کی رعایت سے وہ قائد انقلاب کہلاتے ہیں، وہ بھی انقلاب کے بغیر ہی اپنے نئے ملک کو پدھار گئے، دونوں دھرنے اسلام آباد کے لئے لاہور سے آگے پیچھے رخصت ہوئے تھے اور یکے بعد دیگرے اسلام آباد میں دھرنا نشین ہوئے، دونوں رہنماؤں کی کنٹینر سے ہونے والی تقریروں کو آج دوبارہ سنا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ یقین و اعتماد کی دولت سے مالا مال یہ رہنما کتنے وثوق کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ چند دن میں استعفا آجائیگا، مہینوں اور ہفتوں کی بات نہیں دنوں اور گھنٹوں کی بات کی جا رہی تھی، لیکن مہینے کیا پورا ایک برس گزر گیا اور وزیر اعظم کا استعفا نہ آیا، اب عمران خان اسی وزیر اعظم کو للکار رہے ہیں کہ ان کے مقابلے پر آ کر حلقہ 122میں الیکشن لڑ لیں، کیا یہ چیلنج کچھ عجیب و غریب نوعیت کا نہیں لگتا پہلے تو عمران خان نے ایاز صادق کے مقابلے میں الیکشن لڑا اب وہ براہ راست نواز شریف کو کیوں مقابلے پر آنے کی دعوت دے رہے ہیں، ایاز صادق کا 2013ء کا الیکشن تو ٹربیونل نے کالعدم قرار دیدیا لیکن اسی ایاز صادق سے وہ 2002ء میں بھی ہار چکے ہیں، 2002ء کا الیکشن جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہوا تھا جنہیں ریفرنڈم میں کامیاب کرانے میں عمران خان کی کاوشیں بھی شامل تھیں۔ اس الیکشن کو عمران خان نے نہ تو چیلنج کیا تھا نہ اس پر دھاندلی کا الزام لگایا، یہاں یہ یاد دلانے میں کوئی حرج نہیں کہ اس الیکشن 2002ء میں عمران خان صرف اپنی ایک نشست میانوالی سے جیت سکے تھے اور ان کی پارٹی کا کوئی دوسرا رکن ملک بھر میں کہیں سے کامیاب نہیں ہوا تھا، انہیں اگر نواز شریف کے مقابلے میں ہی الیکشن لڑنا ہے تو عام انتخابات کا انتظار کریں جو ان کے پہلے سے کئے گئے اعلانات کے مطابق اسی سال ہوں گے، یہ سال ختم ہونے میں صرف چار ماہ باقی ہیں، تو زیادہ بے صبری کا مظاہرہ کیوں؟ جب ان کے خیال میں نئے عام انتخابات ہونے ہی والے ہیں تو نواز شریف کہیں بھاگے نہیں جا رہے جب الیکشن ہوں گے وہ براہ راست ان کے مقابلے پر آ جائیں کسی نے انہیں روکا ہوا نہیں ہے۔ اب ضمنی الیکشن کمیشن میں ان کی جماعت کی جانب سے دو ایسے حضرات امیدوار ہیں جن پر جسٹس وجیہہ الدین کمیشن مختلف نوعیت کے الزامات لگا چکا اور انہیں پارٹی سے نکالنے کی سفارش کر چکا ہے، لگتا ہے عمران خان نے حامد خان کو بھی کارنر کر دیا ہے، جو خواجہ سعد رفیق سے ہار گئے تھے اور جن کے خلاف کیس لڑنے کے لئے انہوں نے لاکھوں روپے ذاتی طور پر خرچ کئے ،انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے لئے رقوم حامد خان نے خود جمع کرائی تھیں، انہی حامد خان کا خیال ہے کہ جہانگیر ترین جیسے لوگوں کو پارٹیاں تباہ کرنے کے لئے تحریک انصاف جیسی پارٹیوں میں بھیجا جاتا ہے ۔ جس پارٹی کے سیکریٹری جنرل کے متعلق ایک سینئر رکن کا یہ خیال ہے کیا وہ ارکان الیکشن کمیشن کے استعفے لینے میں کامیاب ہو سکے گی اس کے لئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا، 4اکتوبر ایک مہینے کے فاصلے پر ہی تو ہے۔

مزید : تجزیہ


loading...