پاک بھارت کرکٹ سیریز کا اانعقاد کھٹائی میں پڑ گیاہے

پاک بھارت کرکٹ سیریز کا اانعقاد کھٹائی میں پڑ گیاہے

پاکستان کی کرکٹ ٹیم آج کل زمبابو ے کے دورے کی تیاریوں میں مصروف ہے یہ دورہ اگلے ماہ سے شروع ہوگا اس دورہ کو پاکستانی ٹیم کے لئے بہت قرار دیا جارہا ہے اس دورہ کے بعد قومی ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف اس کی سرزمین پر کھیلنے کے لئے جانا ہے اور اس سخت دورے سے قبل پاکستان کی ٹیم اگر زمبابوے کے خلاف عمدہ پرفارمنس دکھا کر کامیابی اپنے نام کرلیتی ہے تو اس کو انگلش ٹیم کے خلاف سیریز کا ضرور فائدہ حاصل ہوگا پاکستانی ٹیم نے سری لنکا کے دورہ میں بری پرفارمنس سے حوصلے کئے ہوئے ہیں اس وقت ٹیم کے تمام کھلاڑی اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کررہے ہیں زمبابوین ٹیم اپنے ملک میں بہت کمزور ٹیم ہے اور اس نے ہمیشہ ہر ٹیم کو اپنے ملک میں ٹف ٹائم دیا ہے۔ پاکستان کے لئے یہ دورہ آسان ہے لیکن اس کے باوجود چونکہ اس وقت ٹیم بہت اچھی پرفارمنس دکھارہی ہے اس لئے پاکستانی ٹیم فیورٹ ہے۔ دوسری جانب ایک طرف تو ٹیم کی عمدہ پرفارمنس کا سلسلہ ہے اور شائقین اس سے مطمئن بھی ہیں، لیکن پاک بھارت سیریز کے انعقاد کے حوالے سے خبریں گرم ہیں اور اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ دسمبر میں پاک بھارت سیریز کا انعقاد اب کھٹائی میں پڑ گیا ہے اس کی وجہ دونوں ملکوں کے حالات ہیں جس کی وجہ سے اس سیریز کا اانعقاد ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایک مرتبہ دوبارہ اپنا حقیقی چہرہ دکھایا ہے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ دونوں ٹیمیں ایک ساتھ کھیلتے کھیلتے صرف اس لئے رہ گئیں کہ بھارتی بورڈ نے آخری وقت پر پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا جس سے نہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کا بہت نقصان ہوا، بلکہ بھارتی بورڈ کو بھی ہوا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ شائقین کے دلوں پر جو گزری اس کا ازالہ کوئی نہیں کرسکتا اس مرتبہ بھی بھارتی بورڈ نے اب تک اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا ہے، لیکن صورت حال کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ سیریز اب نہیں ہوگی اور کب ہوگی اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، بھارت کے اس رویہ پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہر یار خان بھی کافی برہم ہیں کیونکہ انہوں نے پاک بھارت کرکٹ سیریز کے لئے بہت اہم کردار ادا کیا تھا اور ان کی کوششوں سے ہی دونوں ٹیمیں کھیلنے کے قریب پہنچ گئیں تھیں اس حوالے سے ان کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، لیکن ان کو بھی اس سے ٹھیس پہنچی ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ دلبرداشتہ نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے کرکٹ نہ کھیلنے سے صرف ہمیں ہی نقصان نہوگا اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ پاک بھارت سیریز کے حوالے سے واضح کر دیا ہے کہ اگر ہم نے بھارت سے سیریز نہ کھیلی تو ہم مر نہیں جائیں گے ، شہر یار خان نے کہا پڑوسی ملک سے کر کٹ سیریز نہ کھیلنے سے پاکستانی کرکٹ کی بقا پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے سیریز مشکل نظر آتی ہے اور ہمیں اس حقیقت کے ساتھ جینا ہو گا کہ بھارت ہمارے ساتھ نہیں کھیل رہا۔ انہوں نے کہا بھارتی بورڈ نے باقاعدہ انکار کیا، لیکن ہم اس غیر یقینی کیفیت کے ساتھ زیادہ دیر انتظار کر سکتے اور ہمیں کوئی متبادل ڈھونڈنا ہو گا، ہم پلان بی پر عملدرآمد سے قبل مزید ایک دو ماہ انتظار کریں گے۔ انہوں نے کہا مجھے امید ہے کہ ماحول میں بہتری آئے گی، لیکن اس وقت بہت زیادہ سیاسی تناؤ ہے ، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہت کشیدہ ہیں، لیکن اس سے کرکٹ کو متاثر نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ بالآخر یہی وہ چیز ہے جو تناؤ کو کم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا بھارت کی جانب سے سیریز کھیلنے سے انکار پر پاکستان کو نشریاتی حقوق اور اشتہاری معاہدوں کی مد میں تقریباً سترکروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔شہریار نے کہا بھارتی بورڈ یقیناًمالی طور پر بہت کمزورہے، لیکن ایسا نہیں کہ ان سے کھیلے بغیر ہماری بقا پر اثر پڑے گا تاہم ہمارا موقف ہے کہ سیاست اور کھیل کو الگ الگ رکھا جائے، لہٰذا ہم کوشش کر رہے ہیں کہ معاہدے کی یادداشت کے مطابق سیریز کو بحال نہ کیا جا سکے۔پا کستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں مستقل تبدیلیوں کے حوالے سے سوال پر چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ہمارا مقصد ٹیموں کی تعداد کو کم کرنا ہے تاکہ ڈومیسٹک سطح پر کرکٹ کے معیار کو بلند کیا جاسکے۔واضح رہے کہ یہ گزشتہ چار سالوں میں تیسرا موقع ہے کہ پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی کی ہے۔انہوں نے کہاہمارے ڈومیسٹک سسٹم میں 24 ٹیمیں ہیں اور یہ تعداد دنیا میں کرکٹ کھیلنے والے ملکوں میں سب سے زیادہ ہے ، اس سے انٹرنیشنل سطح پر کرکٹ کا معیار گر رہا ہے۔ دوسری جانب چیئر مین پی سی بی شہر یار خان نے نجم سیٹھی سے اختلافات یا بورڈ میں تقسیم کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نجم سیٹھی کے خیالات کا مکمل احترام کرتے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ اور بھارت سے سیریز کے معاملے پر پی سی بی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی اور شہریار خان کے بیانات میں ایک دوسرے کی باتوں کی حمایت کی گئی جس سے پی سی بی کے محبت میں تاثر کو تقویت ملی۔تاہم پی سی بی چیئرمین نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ میں کسی قسم کی تقسیم یا گروپنگ نہیں، نجم سیٹھی کو بورڈ کے پیٹرن وزیراعظم نواز نے مقرر کیا ہے اور وہ ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ ہیں۔انہوں نے کہا چیئرمین میں ہوں اور تمام تر فیصلے میں ہی کرتا ہوں اور دیگر فیصلوں کو بھی منظور کرنے یا نہ کرنے کا اختیار میرے پاس ہے ، بورڈ میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں اور میرے خیال میں نہ ہی وزیر اعظم ہم پر اپنے احکامات مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چیئرمین پی سی بی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نجم سیٹھی کے اپنے خیالات ہیں جن کا میں احترام کرتا ہوں لیکن ہم سب ایک صفحے پر ہیں۔ انہوں نے کہا میں ایک منتخب چیئرمین ہوں اور یقیناًمیری بات کی اہمیت ایک نامزد رکن سے زیادہ ہوتی ہے۔پاکستانی ٹیم پر بھی ان حالات میں کارکردگی پر اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں سیاست کوکھیل سے دور رکھنے کی ضرورت ہے جب تک سیاست اور کھیل کاساتھ رہے گا اس وقت تک کھیلوں کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا، بلکہ اس سے اس کو نقصان ہی ہوگا شائقین کرکٹ کا کیا قصور ہے جو دونو ں ملکوں کی ٹیموں کو کھیلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ٹیمیں مستقل طو پر ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں اور اس سے اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے بھارتی حکومت جب بھی دل کرتا ہے اپنی ٹیم کو بلاوجہ ہی پاکستان سے کھیلنے سے روک دیتی ہے۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان سپر لیگ کے انعقاد کا شیڈول بھی جاری کردیا گیا ہے یقینی طور پر پاکستانی ٹیم کے لئے اس کا انعقاد بہت اہمیت کاحامل ہے ایک طویل عرصہ سے اس حوالے سے کام کیا جارہا تھا اب حتمی طور پر اس کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ پاکستان سپر لیگ اگلے سال 4فروری کو دوہا قطر میں ہوگی اور 24فروری تک جاری رہے گی ۔پی ایس ایل میں پانچ ٹیمیں کراچی ،کوئٹہ ،لاہور ،اسلام آباد اور پشاور شرکت کریں گی اور مجموعی طور پر 24میچز ہوں گے۔ ہر ٹیم میں پاکستانی کھلاڑیوں کے علاوہ دنیائے کرکٹ کےآٹھ آٹھ ٹاپ کھلاڑی شرکت کریں گے ۔انہوں نے بتایا کہ اب تک دنیا ئے کرکٹ کے 40اہم کھلاڑیوں نے پی ایس ایل میں شرکت کے لئے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ 40 ٹورنامنٹ کی انعامی رقم ایک ملین ڈالر رکھی گئی ہے جبکہ پانچ ٹیموں کی فرنچائز خریدنے کے لئے بھی دس بڑی پارٹیوں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور ہر پارٹی اپنی ٹیم اور سپورٹنگ سٹاف پر ایک ملین ڈالر کی رقم خرچ کرے گی ۔نجم سیٹھی نے بتایا کہ پی ایس ایل کا انعقاد پہلے یو اے ای میں ہونا تھا، لیکن وہاں پر ماسٹر لیگ ہونے کی وجہ سے وہاں انعقاد نہیں ہو سکتا اور اس کے بعد ہم نے قطر کی کرکٹ انتظامیہ سے رابطہ کیا تو ہمیں توقع سے بڑھ کر پزیرائی ملی۔ قطر میں مجھ سمیت پی سی بی کی ٹیم نے سٹیڈیم کی سہولیات دیکھی ہیں اور ہم نے انہیں سہولیات کو مذید بہتر بنانے کا کہا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم پی سی بی کی مرضی کے مطابق سٹیڈیم میں سہولیات فراہم کریں گے اور اگر پی سی بی آئندہ سالوں میں بھی پی ایس ایل کے انعقاد کی یقین دہانی کروادے تو ہم ایک نیا کرکٹ سٹیڈیم بھی بنادیں گے ۔نجم سیٹھی نے کہا کہ پی ایس ایل کے لئے فرنچائز کی فروخت لاہور پاکستان میں ہوگی اور پی ایس ایل کے انعقاد سے ہمارے کھلاڑیوں کو کافی فائدہ ہوگا ۔پی ایس ایل آئی سی سی کا منظور شدہ ٹورنامنٹ ہے اور اس میں انٹرنیشنل ایمپائر اپنے فرائض سر انجام دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ تین مہینوں میں فرنچائز، براد کاسٹر ز،اسپانسروغیرہ کو حتمی شکل دیدیں گے ۔نجم نے بتایا کہ آئندہ سالوں میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کی کوشش کریں گے ۔

***

مزید : ایڈیشن 1


loading...