کامیابی کی شاہ کلید

کامیابی کی شاہ کلید
 کامیابی کی شاہ کلید

  


جنگ ستمبر کو پچاس سال گزر گئے۔ اس کی ’’گولڈن جوبلی‘‘ تقریبات بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں میں منائی جا رہی ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے اِس حوالے سے مشاورت کے لئے میڈیا اداروں کا ایک اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ اور برادرم عرفان صدیقی بھی وزارتِ اطلاعات اور آئی ایس پی آر کے اعلیٰ حکام کے جلو میں تشریف فرما تھے۔ دو گھنٹے سے زائد تبادلہ خیال ہوا،احباب تجاویز پیش کرتے رہے کہ6ستمبر1965ء کو ہم پر مسلط کی جانے والی جنگ کی یاد کس طرح منائی جائے۔ بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کی سرکار پورے جوش و خروش سے حرکت میں آ چکی ہے، اور اس دن کو ’’یومِ فتح‘‘ کے طور پر منانے کے اعلانات کر رہی ہے۔ پاکستان میں اِس بات پر (قریباً) اتفاق رائے موجود ہے کہ اس کی مسلح افواج نے اپنے وطن کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیئے تھے۔ بھارت نے6ستمبر کو بین الاقوامی سرحد کو پار کرنے کی جسارت کی تھی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہی جنگ کا آغاز تھا۔ یہ درست ہے کہ اس سے پہلے کشمیر کی جنگ بندی لائن پر جھڑپیں جاری تھیں، لیکن جنگ بندی لائن اور بین الاقوامی سرحد کو ایک پلڑے میں نہیں رکھا جا سکتا۔بھارت اِس اعلان کے ساتھ آیا تھا کہ اُس کے جرنیل شام کو لاہور کے جم خانے میں ’’مشروبات‘‘ سے لطف اندوز ہوں گے۔ بی بی سی نے تو لاہور پر بھارت کے قبضے کی خبر نشر کر کے اپنی رسوائی کا سامان کر لیا تھا، لیکن پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے حملہ آور کے عزائم چکنا چور کر دیے، اور لاہور کیا سارے شہر مسکراتے اور جگمگاتے رہے۔

اگر بھارت اور پاکستان مسائل اور اختلافات کو طے کرنے کا کوئی پُرامن راستہ اختیار کر چکے ہوتے ، ماضی سے سبق سیکھ کر ’’جیو اور جینے دو‘‘ کی پالیسی اپنائی جا چکی ہوتی تو پھر اس جنگ کو ایک تلخ یاد کے طور پر منایا جا سکتا تھا، اور دونوں ممالک کی قیادتیں اور سول سوسائٹیز اُس روز یہ عہد کر سکتی تھیں کہ وہ کبھی جنگ کے قریب نہیں جائیں گی، اور اپنے وسائل اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی کے لئے وقف کر دیں گی، لیکن جہاں یہ حال ہو کہ 1965ء کے چھ سال بعد ایک اور جنگ مسلط کی گئی ہو، پاکستان کے مشرقی حصے میں علیحدگی پسندی کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے بھارت نے اپنے وسائل جھونکے ہوں، وہاں مسلح دستے تیار کیے ہوں، اور بالآخر اپنی فوج کو حرکت میں لا کر بنگلہ دیش کی تخلیق کر ڈالی ہو اس بداخلاقی پر شرمسار ہونے کے بجائے بھارتی وزیراعظم آج بھی ڈھاکہ جا کر اور چھاتی پھیلا کر یہ اعلان کرتے ہوئے کہ ہم ’’ریپسٹ‘‘ (RAPIST) ہیں۔ ہم نے بنگلہ دیشی بچے کو جنم دیا ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ اندرون مُلک دہشت گردی کی کارروائیاں بھی جاری ہوں۔ ایک دوسرے پر الزامات لگائے جا رہے ہوں۔ بلوچستان سے لے کر فاٹا تک گھات لگا کر وارداتیں کی جا رہی ہوں اور اپنے اندرونی مسائل کا الزام ہمسایوں پر ڈالا جا رہا ہو، وہاں نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے بڑے ہمسایے نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ہمیں بھی اس کی ’’اجازت‘‘ دینے پر تیار نہیں ہے۔ ایسے عالم میں ستمبر1965ء کی یاد منانا، اور اپنی سرحدوں کی حفاظت میں کامیابی کو دھوم دھام سے منانا قومی فریضہ بن جاتا ہے۔

پاکستان کو1965ء کے بعد1971ء کے ہولناک تجربے سے بھی گزرنا پڑا۔1965ء میں فوج اور قوم نے ایک ساتھ مل کر حملہ آور کے راستے میں دیوارِ چین کھڑی کر دی تھی، لیکن1971ء میں وہ ہمارے اندر پھوٹ ڈالنے میں کامیاب ہو گذرا تھا، اُس نے لوگوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا تھا، اور ہم قیادت کی کوتاہ نظری کی وجہ سے نرم چارہ بن گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں ہم نے پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنانے کا عہد کیا، اور بھارت کے ایٹمی عزائم کے مقابل کھڑے ہو گئے۔ ہماری سیاسی اور فوجی قیادتیں اس پر یکسوئی سے کاربند رہیں، اور بالآخر ہم نے اپنا آپ منوا لیا۔ آج ہماری سرحدوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنا ممکن نہیں رہا۔ایٹمی دہشت نے دونوں ممالک کے درمیان ناقابلِ تسخیر توازن قائم کر دیا ہے۔

آج ہمیں اپنے اندر دشمنوں کے آلات کار سے نبٹنا پڑ رہا ہے۔ الحمد للہ ہماری سیاسی اور فوجی قیادتیں یکسوئی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جنگِ ستمبر کی یاد مناتے وقت یہ بات ہر پاکستانی کے ذہن میں رہنی چاہئے کہ فوج اور سیاست کو ایک دوسرے سے اُلجھنا نہیں، ایک دوسرے کے ساتھ چلنا ہے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر رکھنا ہے کہ یہی کامیابی کی کلید ہے۔ کلید ہی نہیں شاہ کلید۔

(یہ کالم روزنامہ ’’ دنیا‘‘ اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : کالم


loading...