الیکشن ٹربیونل ہائیکورٹ کے جج ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پر مشتمل ہو گا

الیکشن ٹربیونل ہائیکورٹ کے جج ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پر مشتمل ہو گا

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے عدالت عالیہ کے ججوں کو الیکشن ٹربیونلز مقرر کرنے سے انکارکردیا ہے، اس سلسلے میں چیف جسٹس کی ہدایت پر رجسٹرار طارق افتخار احمد نے چیف الیکشن کمشنر کو مراسلہ بھجوادیا ہے ۔الیکشن ٹربیونلز کے طور پر کام کرنے والے ججوں کی مدت ملازمت میں عدم توسیع کے باعث خالی ہونے والے عہدوں پر تقرر کے لئے چیف الیکشن کمشنر نے لاہور ہائی کورٹ کو چٹھی لکھی تھی جس میں الیکشن ٹربیونلز کے طور پر ہائی کورٹ کے جسٹس صاحبان کے تقرر کے لئے کہا گیا تھا ۔چیف جسٹس نے برادر ججز سے مشاورت کے بعد چیف الیکشن کمشنر کو مراسلہ بھجوانے کی ہدایت جاری کی ، مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ انتخابی عذر داریوں کی سماعت کے لئے عدالت عالیہ کے جج کا بطور الیکشن ٹربیونل تقرر نہیں ہوسکتا ۔ عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 57کے تحت یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج پر مشتمل ہوگا ۔عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 57میں واضح کیا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل ایک ایسے شخص پر مشتمل ہوگا جو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہو یا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رہ چکا ہو اور وہ ریٹائرمنٹ کے وقت ہائی کورٹ کا جج بننے کی اہلیت رکھتا ہو ۔اس سیکشن کی روشنی میں عدالت عالیہ نے اپنے کسی جج کو الیکشن ٹربیونل مقرر کرنے سے انکار کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو اس سے آگاہ کردیا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...