پولیس نے لاہوریوں کو ڈٖاکوؤں اور نقب زنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا

پولیس نے لاہوریوں کو ڈٖاکوؤں اور نقب زنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) لاہور پولیس نے شہریوں کو ڈاکوؤں اور نقب زنوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ایک سال کے دوران شہر میں جرائم کے مجموعی گراف میں 66فیصد جبکہ صرف ڈکیتی کی وارداتوں میں68فیصد اضافہ ہوا۔2013کے دوران لاہور میں ڈکیتی اور نقب زنی کی 7ہزار6سو اور 90وارداتیں رجسٹرڈ ہوئیں۔جبکہ2014میں یہ تعداد 8ہزار 9سو 55تک جا پہنچی۔2013میں معصوم نابالغ بچوں سے بداخلاقی کا ایک بھی واقع پیش نہ آیا۔ البتہ 2014میں لاہور پولیس نے ایسے 15کیس رجسٹرڈ کیے ۔معلوم ہواہے کہ لاہور کی لگ بھگ ایک کروڑ کی آبادی کا کوئی پرسان حال نہیں۔شہر میں جرائم کی شرح روز بروز لگی ہے۔ شہری پولیس کی قیادت دعوے تو کرتی نظر آتی ہے۔ البتہ عملی طورپر اہلیان لاہور ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہیں۔شہر کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں ڈاکو راج نہ کرتے ہوں۔دن ہویا رات شہر کے چند ایک مقامات کو چھوڑ کر کسی بھی گلی یا بازار میں تنہا گھومنا پھرنا رسک سے کم نہیں ہے ۔ اور اس پر مستہزاد یہ کہ واردات کے بعد متاثرہ شخص پولیس کو شکایت کرتا ہے تو پولیس پہلے تو ٹال مٹول سے کام لیتی ہے۔ اور آخر میں کوشش کرتی ہے کہ ڈکیتی کی جگہ چوری اور چوری کی جگہ گمشدگی کا مقدمہ درج کرسکے۔ذرائع کے مطابق ایک سال کے دوران لاہور پولیس کے جرائم کے گراف میں مجموعی طورپر 66فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔جبکہ صرف ڈکیتی کی وارداتوں میں 68فیصد اضافہ ہوا ہے۔2013کے دوران شہر میں ڈکیتی کی 3ہزار 5سو 90وارداتیں ریکارڈ پر لائی گئیں۔ جبکہ 2014میں یہ رجسٹرڈ وارداتوں کی تعداد 4ہزار 3سو 54تک جاپہنچی ۔ اسی طرح 2013کے دوران لاہور میں نقب زنی کی 4ہزار ایک سو رجسٹرڈ وارداتوں کے مقابلے میں یہ تعداد 2014میں 4ہزار 6سو ہوگئی۔ذرائع سے یہ بات بھی علم میں لائی گئی ہے کہ گھروں میں ڈکیتی کی اکثر وارداتوں میں اہل خانہ کو یرغمال بنانے کے بعد خواتین کے بیحرمتی کی جاتی ہے۔ اور مجموعی طورپر ڈکیتی کی وارداتوں میں مزاحمت کرنے والوں قتل بھی کردیا جاتا ہے۔لاہور پولیس کا ریکارڈ ایسی وارداتوں سے بھرا نظر آتا ہے۔اسی طرح 2013میں لاہور شہر میں مصوم اور چھوٹے بچوں سے بداخلاقی کاایک بھی واقع ریکارڈ نہ کیا گیا۔ البتہ 2014میں لاہور پولیس نے ایسے15کیسوں کی رپورٹ کی۔ حالانکہ یہ تعداد اس سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔یہ بھی علم میں آیا ہے کہ لاہور پولیس کے بعضً نامی گرامی ً افسر اعلیٰ حکام کی نظروں میں اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کے لیے آئے روز ڈکیت گینگز کی گرفتاری شو کرتے رہتے ہیں۔ لیکن حقائق کچھ اور ہوتے ہیں۔اس سلسلے میں گفتگو کے لیے لاہور پولیس کے چیف کیپٹن (ر ) محمد امین وینس سے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے موقف دینے سے اجتناب کیا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...