آئی ایم ایف حکام نے وزیرخزانہ کی طرف سے پیش کیے اعدادوشمار مشکوک قراردیدیئے ، ازسرنوجانچ پڑتال کا فیصلہ

آئی ایم ایف حکام نے وزیرخزانہ کی طرف سے پیش کیے اعدادوشمار مشکوک قراردیدیئے ...
آئی ایم ایف حکام نے وزیرخزانہ کی طرف سے پیش کیے اعدادوشمار مشکوک قراردیدیئے ، ازسرنوجانچ پڑتال کا فیصلہ

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈ نے معاشی بہتری کے حوالے سے پاکستان کی فراہم کردہ معلومات مشکوک قرار دے دی ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کی بیلنس شیٹ کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔ آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مالی سال 2014-15ءمیں بجٹ خسارے کے جو اعدادوشمار فراہم کیے تھے وہ مشکوک ہیں۔ پاکستانی حکومت کے آئی ایم ایف کو نئے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق بجٹ خسارہ 14کھرب 50ارب روپے رہا جبکہ حکومت کی طرف سے ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بجٹ خسارہ 18کھرب روپے ہے۔

آئی ایم ایف کے حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ خسارے میں اتنی نمایاں کمی کیسے ہو گئی؟ آئی ایم ایف کا تین رکنی وفد پاکستان کی بیلنس شیٹ کا آڈٹ کرے گا اور اگر حکومت کے فراہم کردہ اعدادوشمار غلط ثابت ہو گئے تو نہ صرف عالمی مالیاتی فنڈ سے 6.2بلین ڈالر(تقریباً6کھرب2ارب روپے) کا بیل آﺅٹ پیکج کھٹائی میں پڑ جائے گابلکہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی قرضوں کا حصول انتہائی مشکل ہو جائے گاتاہم آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر آفس سے پاکستانی دستاویزات کی دوبارہ جانچ پڑتال کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

مزید : بزنس


loading...