سرتاج عزیز کا وہ کام جس کے بعد بھارتی میڈیا بھی تعریف پر مجبور ہو گیا، اپنے سیاستدانوں کو طعنے دینے لگا

سرتاج عزیز کا وہ کام جس کے بعد بھارتی میڈیا بھی تعریف پر مجبور ہو گیا، اپنے ...
سرتاج عزیز کا وہ کام جس کے بعد بھارتی میڈیا بھی تعریف پر مجبور ہو گیا، اپنے سیاستدانوں کو طعنے دینے لگا

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی میڈیا جتنا چاہے پروپیگنڈہ کر لے لیکن سچائی سامنے آ ہی جاتی ہے۔ معروف صحافی کرن تھاپڑنے بھارتی سیاستدانوں کی نااہلی اور پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی قابلیت اورلیاقت کا کھل کراعتراف کر لیا۔بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی چرب زبانی کام نہیں آئی اور بھارتی صحافی ،پاکستانی مشیرخارجہ کے پرستار نکل آئے۔کرن تھاپر اپنے کالم میں سرتاج عزیزکی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں”ممکن ہے میرے الفاظ سے کسی کو تعجب ہو یاکسی کا موڈ خراب ہوجائے لیکن یہ سچ ہے کہ پاکستانی مشیرخارجہ میں کئی خوبیاں موجودہیں۔ سرتاج عزیز باوقار،ایماندار اورزیرک شخصیت کے مالک ہیں اور یہ خصوصیات ہماری وزیرخارجہ سشماسوراج سمیت بہت سے بھارتی سیاستدانوں میں موجود نہیں ہیں۔“

کرن تھاپر لکھتے ہیں کہ ”میری کہانی پاک بھارت مذاکرات معطل ہونے سے 5دن قبل شروع ہوئی جب میں نے پاکستانی مشیرخارجہ سرتاج عزیز کو ٹیلی فون کیا اور ان سے دورہ بھارت کے دوران ایک انٹرویو دینے کی درخواست کی۔ انہوں نے خندہ پیشانی سے میری درخواست فوراً قبول کر لی حالانکہ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے بالکل اجنبی تھے اور اس سے قبل کبھی نہیں ملے تھے۔ سرتاج عزیز نے مجھے کہا کہ میں پاک بھارت مذاکرات کے بعد اور میری پاکستان واپسی سے قبل کسی بھی وقت آپ کو انٹرویو دوں گا۔ ملاقات کا حتمی وقت آپ کو پاکستانی ہائی کمیشن بتا دے گا۔لیکن پاکستانی ہائی کمیشن نے سرتاج عزیز کی بھارت آمد سے ایک دن قبل تک مجھے اس حوالے سے کچھ نہ بتایا جس پر میں نے دوبارہ سرتاج عزیز سے رابطہ کیا۔ اس بار وہ اس طرح ہنسے جیسے ہم بہت گہرے دوست ہوں،اور کہا ”یقینا ! میں نہیں بھولا....لیکن کیا میں بھارت آ رہا ہوں؟“اس سے قبل کہ میں کوئی جواب دیتا انہوں نے پھر کہا ”پریشان نہ ہوں، اگر میں بھارت آیا تو یقینا آپ کو انٹرویو دوں گا۔“

پاک بھارت مذاکرات منسوخ ہوجانے کے بعد وہ بھارت نہ آ سکے۔ اس پر میں نے انہیں ایک بار پھر فون کیا اور سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرویو دینے کی درخواست کی جو انہوں نے معمولی پس و پیش کے ساتھ قبول کر لی۔ انہوں نے اگلے دن مجھے 40منٹ کا انٹرویو دیا اور میں نے جو بھی سوال کیے انہوں نے اس کے انتہائی بامعنی جوابات دیئے۔ ان کے روئیے سے پاک بھارت تعلقات میں حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والاتناﺅ بالکل نظر نہیں آ رہا تھا۔

کرن تھاپر نے اپنے کالم میں مزید لکھا کہ” میں یہاں ایک سوال کرتا ہوں کہ جس طرح کے کشیدہ حالات میں سرتاج عزیز نے مجھ سے بات کی، کیا کوئی بھارتی سیاستدان پاکستانی میڈیا کو اس طرح کے حالات میں انٹرویو دیتا؟ میرے خیال میں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔“کرن تھاپر نے لگے ہاتھوں بھارتی سیاستدانوں کو یہ مشورہ بھی دے ڈالا کہ انہیں پاکستانی مشیرخارجہ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”حالیہ کشیدگی کے دوران بھی سرتاج عزیزنے بھارتی میڈیا کوانٹرویودیااوراپنے موقف کی کھل کر تائید کی لیکن مودی کابینہ کاکوئی وزیرمذاکرات کی منسوخی کے بعد انٹرویودینے کے لیے دستیاب نہ ہوا۔“

مزید : بین الاقوامی


loading...