بادشاہ کیلئے لے جائی جانے والی 38 کنواری لڑکیاں ہلاک ہو گئیں

بادشاہ کیلئے لے جائی جانے والی 38 کنواری لڑکیاں ہلاک ہو گئیں
بادشاہ کیلئے لے جائی جانے والی 38 کنواری لڑکیاں ہلاک ہو گئیں

  


لوبامبا(مانیٹرنگ ڈیسک) پرانے وقتوں کے مطلق العنان بادشاہوںکی رنگین مزاجی اور کثیرالازدواجی کے قصے ہم آج بھی پڑھتے ہیں لیکن آج کے اس جدید دور میں بھی ایسی بادشاہتیں قائم ہیں جہاں بادشاہ آج بھی دادِ عیش دیتے نظر آتے ہیں۔ انہی ملکوں میں سے ایک افریقی ملک سوازی لینڈ بھی ہے۔ یہاں ہر سال ایک رقص کا میلہ منعقد کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے 40ہزار سے زائد کنواری لڑکیاں ہر سال شرکت کرتی ہیں اور سوازی لینڈ کا عیاش بادشاہ ان لڑکیوں میں سے اپنے لیے نئی بیوی کا انتخاب کرتا ہے۔یہ فیسٹیول قریب ہی ہے اور ملک سے لڑکیاں مختص جگہ پر پہنچ رہی ہیں۔

گزشتہ روز اس میلے میں شرکت کے لیے 70سے زائدکنواری لڑکیاں ایک ٹرک میں سوار ہو کر آ رہی تھیں کہ ان کا ٹرک مخالف سمت سے آنے والی گاڑی سے ٹکرا گیا جس سے 38لڑکیاں جاں بحق جبکہ 20 سے زائد شدید زخمی ہوگئیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ سوازی لینڈ کا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے لیکن یہاں کے بادشاہ کے شوق بہت ہی نرالے اور شرمناک ہیں۔ہر سال ملک کی حسین ترین نو عمر لڑکیاں بادشاہ مسواتی سوئم کے سامنے برہنہ رقص کرتی ہیں اور یہ ان میں سے حسین ترین لڑکی کو اپنی دلہن منتخب کرتا ہے۔

اب عیاش حکمران کے سر پر جنون سوار ہو گیا ہے اور اس نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے کہ ملک کی تمام نوعمر لڑکیاں کنواری رہیں تاکہ وہ جس کا بھی انتخاب کرے وہ کنواری ہو اور اس کے بدلے ملک بھر کی تمام کنواری لڑکیوں کو ماہانہ 11 پاﺅنڈ (تقریبا 1800 روپے) وظیفہ بھی دیا جائے گا۔ملک بھر کی لڑکیاں بادشاہ کے اس فیصلے پر غم و الم کی تصویر بن گئی ہیں کیونکہ اب وہ بادشاہ کی عیاشی کے لیے اپنی مرضی کی شادی بھی نہیں کر سکیں گی۔

ہوس پرست بادشاہ نے اپنی عیاشی کے اس منصوبے کو ملک میں تیزی سے پھیلتی ہوئی ایڈز کی بیماری کو روکنے کا اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ لڑکیاں جنسی فعل سے محفوظ رہیں گی تو ایڈزکا مرض ملک میں نہیں پھیلے گا،جبکہ درحقیقت بادشاہ کا اصل منصوبہ اپنی شیطانی خواہشات کی تکمیل کے لیے کنواری لڑکیوں کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔ہر سال نئی دلہن کا انتخاب کرنے والا سوازی لینڈ کا یہ عیاش بادشاہ اب تک 15 نو عمر دلہنیں منتخب کر چکا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...