روس اور چین کا وہ زبردست منصوبہ جو امریکہ کا اہم ترین ہتھیار ناکارہ بنا دے گا

روس اور چین کا وہ زبردست منصوبہ جو امریکہ کا اہم ترین ہتھیار ناکارہ بنا دے گا
روس اور چین کا وہ زبردست منصوبہ جو امریکہ کا اہم ترین ہتھیار ناکارہ بنا دے گا

  


بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ نے اپنے ڈرون طیاروں کے ذریعے ایک عرصے تک دنیا کو خوف میں مبتلا کیے رکھا لیکن اب نہ صرف اس شعبے میں امریکہ کی اجارہ داری ختم ہونے والی ہے بلکہ اس کی جدید سٹیلتھ ایف 35جنگی طیارے پر خرچ کی گئی بھاری رقوم بھی غارت جانے والی ہیں کیونکہ چین اور روس ایسے ڈرون طیارے بنارہے ہیں جو سٹیلتھ طیاروں (جو طیارے راڈار پر نظر نہ آتے ہوں) کو تباہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔معروف امریکی جریدے ”دی نیشنل انٹرسٹ“ کے منیجنگ ایڈیٹر زرکرے کیک نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ روس اور چین ایسے ڈرون طیارے بنا رہے ہیں جو ہدف کو تلاش کرنے اور نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ سٹیلتھ ایئرکرافٹس کو بھی بے کار بنانے کی صلاحیت سے مالامال ہوں گے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ چین کے اس ڈرون طیارے کا نام ڈیوائن ایگل(Divine Eagle)ہے اور اس کے متعلق یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ خاص طور پر سٹیلتھ طیاروں کو چین کی سرزمین تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ایک اور میگزین ”پاپولر سائنس“ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ چین کے اس ڈرون کی طویل فاصلے تک سٹیلتھ طیاروں کو تباہ کرنے کی صلاحیتیں B-2 Bomberاور DDG-1000 destroyerدونوں قسم کے سٹیلتھ طیاروں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔اس ڈرون طیارے کے ذریعے چینی ایئرفورس دشمن کے سٹیلتھ طیارے، میزائل اور بحری بیڑوں کو چینی کی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی مار گرانے کی صلاحیت پا لیں گی۔

دوسری طرف روس کے ایسے ہی ڈرون طیارے کے متعلق امریکی جریدے” فلائٹ گلوبل“ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ روسی فوج کی ذیلی شراکت دار کمپنیKRETنے ماسکو میں ایئرشو کے دوران روس کے اس ڈرون طیارے کا ماڈل پیش کیا تھا۔ روس اس طیارے میں یو ایچ ایف اور ایکس بینڈ ریڈار سسٹم استعمال کر رہا ہے جو سٹیلتھ طیاروں کا سراغ لگانے کا کام کرے گا۔ اس ڈرون میں ایک الیکٹرانک وارفیئر سسٹم نصب کیا جائے گا جو اسے دشمن کے فضائی حملوں سے محفوظ رکھے گا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...