پیپلز پارٹی نے بالآخر مفاہمت کا جوا اپنی گردن سے اتار پھینکا

پیپلز پارٹی نے بالآخر مفاہمت کا جوا اپنی گردن سے اتار پھینکا
پیپلز پارٹی نے بالآخر مفاہمت کا جوا اپنی گردن سے اتار پھینکا

  


تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری:

پیپلزپارٹی نے بہت اچھا فیصلہ کیا کہ حکومت کے ساتھ مفاہمت ختم کر دی۔ اس نام نہاد مفاہمت نے پارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا، ایک حصے کا خیال تھا کہ مفاہمت کا یہ جذبہ پارٹی کے لئے باعث نقصان ہے، جبکہ آصف علی زرداری کا خیال تھا کہ انہوں نے اس طرح بڑی بڑی چوٹیاں سر کی ہیں، لیکن جیالے مان ہی نہیں رہے تھے، ان کا یہ خیال تھا کہ جتنی دیر یہ مفاہمت ان کے گلے کا ہار بنی رہے گی، پارٹی خسارے میں رہے گی، پارٹی کو کھل کر حکومت کی مخالفت کرنی چاہئے اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کو بھی ’’اصلی تے وڈے‘‘ اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرنا چاہئے، ویسے جب قائد حزب اختلاف کے عہدے پر تقرر کا سوال اٹھا تو یار لوگوں نے عمران خان کے حق میں مہم چلائی تھی کہ چلئے وزیر اعظم نہ سہی، پارلیمانی جمہوریت میں قائد حزب اختلاف بھی تو ’’وزیر اعظم ان ویٹنگ‘ ‘ کہلاتا ہے۔ یعنی جس پارٹی سے قائد حزب اختلاف کا تعلق ہوتا ہے وہ اگر انتخاب جیت جائے تو وزیر اعظم کا قرعہ اس کے نام نکل سکتا ہے، لیکن شیخ رشید احمد کی بھاگ دوڑ بھی کام نہ آئی اور نمبر گیم کی وجہ سے خورشید شاہ قائد حزب اختلاف بن گئے، یہ الگ بات کہ انہیں دھرنے والوں کی جانب سے کبھی ’’وزیر اعظم کا منشی‘‘ اور کئی دوسری ایسی ترکیبوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دھرنے کے دوران عمران خان کا بار بار یہ دعویٰ تھا کہ اصل حزب اختلاف ان کی پارٹی ہے اور پارلیمنٹ کے اندر جو لوگ بیٹھے ہیں، ان کا تعلق حکومت سے ہے یا حزب اختلاف سے ۔یہ سب چور اچکے اور ڈاکو ہیں اور یہ اسمبلی جعلی ہے۔ ہم نے اس کی رکنیت کو لات مار دی ہے۔ کوئی ہمیں استعفے واپس لینے کے لئے نہ کہے۔ ایک بار انہوں نے وزیر اعظم کو للکارا‘‘ تم کون ہوتے ہو، ہمارے استعفے واپس کرنے والے ‘‘

پارلیمینٹ کے مشترکہ سیشن میں اگرچہ تمام جماعتیں حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آئیں، لیکن ان تمام جماعتوں نے یہ وضاحت کی کہ وہ حکومت کے ساتھ نہیں، پارلیمنٹ کے ساتھ ہیں، انہی دنوں پارلیمنٹ کے اندر پیپلزپارٹی کے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر چودھری اعتزاز احسن اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان میں اچھی خاصی جھڑپ ہو گئی، اسی وقت مفاہمت کا کچا دھاگہ ٹوٹتا نظر آیا۔پیپلزپارٹی کے طرف داروں کا خیال تھا کہ اس نازک مرحلے میں یہ پیپلزپارٹی ہی ہے جس کی وجہ سے حکومت بچی ہوئی ہے ، اگر آصف زرداری بھی اپنی پارٹی کو دھرنے والوں کی حمایت میں کھڑی کر دیتے تو یہ حکومت دھڑام سے گر پڑتی، ایک دن تو یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ شایدآصف زرداری یہ مشکل فیصلہ بھی کر ہی لیں لیکن وہ بہرحال پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے رہے، کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے ارکان بھی اگر تحریک انصاف کے ساتھ ہی استعفے دے دیتے تو نہ صرف حکومت گرتی بلکہ ضمنی کی بجائے عام انتخابات کا ماحول بنتا لیکن یہ سب کچھ نہ ہوا۔

مفاہمت اپنے کرشمے دکھاتی رہی تاہم پیپلزپارٹی کی اندرونی حالت اس شعر کے مصداق ہی رہی۔

ترے قریب رہ کے بھی میں مطمئن نہ تھا

گذری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی

پیپلزپارٹی ہر چند مفاہمت کے گیت گاتی رہی لیکن ان دنوں کے اخبارات اور چینلز کے فیتے گواہ ہیں کہ پارٹی کی جانب سے پھول اور پتھر بیک وقت برسائے جاتے رہے، اوپر دو چودھریوں کے حوالے سے جس واقعے کا ذکر آیا ہے اسے آپ کس ذیل میں رکھیں گے، یہ آپ کی مرضی، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ مفاہمت کے باوجود دونوں پارٹیوں نے جب چاہا اسے مخاصمت میں بدل دیا، اب اگر پارٹی نے اس پالیسی کو خیر باد کہہ دیا ہے تو یہ اس لحاظ سے اچھا ہوا ہے کہ اب پارٹی کو اور اس کے ورکروں کو یہ تو پتہ چل گیا ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں اور کس کے ساتھ نہیں۔

پیپلزپارٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ اگر موجودہ الیکشن کمیشن کے تحت انتخاب ہوئے تو وہ بائیکاٹ کرے گی اس کے باوجود لاہور سے امیدواروں کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے اور پارٹی چیئرمین نے ضمنی انتخاب کی مہم کی نگرانی براہ راست اپنے ذمے لے لی ہے، اس فیصلے سے لگتا ہے کہ یا تو پارٹی کو یقین ہے کہ الیکشن کمیشن کے ارکان استعفے جیبوں میں لئے پھرتے ہیں۔ادھر دھرنوں اور بائیکاٹ کا فیصلہ ہوا، ادھر جھٹ سے یہ ارکان استعفے دے کر گھروں کو چلے جائیں گے۔ ورنہ اگر بائیکاٹ ہی کرنا ہے تو انتخابی مہم چلانے یا کسی نگرانی وغیرہ کی کیا ضرروت ہے۔ تقریباً سارے ہی اخبارات میں یہ خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی ہے کہ کمیشن کے تین ارکان نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ساتھ ہی ساتھ خبر کی تردید بھی شائع ہوئی ہے ۔ بہرحال فاضل ارکان اگر ذمہ داریوں کا بوجھ مزید نہیں اٹھانا چاہتے تو انہیں استعفا دینے کا اختیار ہے، لیکن اس طرح تو وہ ایک اور دھرنے کا غنچہ کھلنے سے پہلے ہی اس کے مرجھانے کا باعث بن جائیں گے، عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ اگر چاروں ارکان نے استعفا نہ دیا تو وہ 4اکتوبرکو الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دینگے، اس لئے ارکان کے پاس سوچ بچار کے لئے پورے ایک مہینے کا وقت ہے، انہوں نے اگر استعفا دینا بھی ہے تو کم از کم دھرنا تو ہو لینے دیں، اس کے بعد وہ اگر مستعفی بھی ہو جائیں تو کم از کم تحریک انصاف یہ کریڈٹ تو لے سکے گی کہ ہم نے دھرنا دے کر ارکان کمیشن کو استعفوں پر مجبور کیا اور پیپلزپارٹی بھی یہ کہنے کی پوزیشن میں ہو گی کہ ہماری دھمکی کام آ گئی جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے اس نے عام انتخابات کے بعد پنجاب میں کوئی بھی ضمنی انتخاب سنجیدگی سے نہیں لڑا، اول تو امیدوار ہی کھڑا ہی نہیں کیا اور اگر کہیں امیدوار تھا تو اس نے انتخابی مہم بھی گرم جوشی سے نہیں چلائی۔ اس لئے پارٹی کوئی ضمنی الیکشن نہیں جیت سکی ۔اب اگر ارکان کمیشن مستعفی ہو جائیں تو ممکن ہے پارٹی ضمنی الیکشن میں کوئی جان ڈال سکے ویسے تو کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں حالت یہ تھی کہ پارٹی کو امیدوار نہیں مل رہے تھے۔ پارٹی میں مفاہمت کے مخالفوں کا خیال تھا کہ اگر ان کے گلوں میں یہ جوا نہ ڈالا گیا ہوتا تو پارٹی کی یہ حالت نہ ہوتی اس لئے اب اس فیصلے پر پارٹی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے ایک جمہوری فیصلے کے ذریعے پارٹی کو دوبارہ متحرک کردار ادا کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کو بھی تصویر صاف نظر آنے لگے گی جس کو یہ پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ پیپلزپارٹی دراصل کس کے ساتھ ہے کیونکہ اس کے دو لیڈر اگر مفاہمت کی بات کرتے تھے تو چار مفاہمت کی اس چادر کو تار تار بھی کرتے رہتے تھے۔

مزید : تجزیہ


loading...