زیک گولڈ سمتھ نے مسلم خواتین کے بارے میں ایسی افسوسناک بات کہہ دی کہ جمائمہ خان اپنے ہی بھائی کے خلاف میدان میں آگئیں، واضح اعلان کردیا

زیک گولڈ سمتھ نے مسلم خواتین کے بارے میں ایسی افسوسناک بات کہہ دی کہ جمائمہ ...
زیک گولڈ سمتھ نے مسلم خواتین کے بارے میں ایسی افسوسناک بات کہہ دی کہ جمائمہ خان اپنے ہی بھائی کے خلاف میدان میں آگئیں، واضح اعلان کردیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) فرانس میں ساحل سمندر پر مسلم خواتین کے پورا لباس پہننے پر پابندی عائد کیے جانے کا معاملہ مغربی ممالک میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور اس کی حمایت و مخالفت میں دلائل دیئے جا رہے ہیں۔ اب یہ موضوع لندن کے گولڈ سمتھ خاندان میں بھی جھگڑے کا باعث بن گیا ہے جہاں جمائما خان مسلم لباس کی حمایت اور ان کے چھوٹے بھائی بین گولڈ سمتھ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لندن کی میئرشپ کے انتخابات کے دوران زیک گولڈ سمتھ پر نسل پرستی کا جو الزام عائد ہوا تھا اب وہ ان کے چھوٹے بھائی بین گولڈ سمتھ پر لگ چکا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق بین گولڈ سمتھ کا کہنا ہے کہ ”برقینی“ (ساحل سمندر پر پہنا جانے والا مسلم خواتین کا پورا لباس)عورتوں کی غلامی کی بدترین علامت ہے۔ اس کے جواب میں جمائما خان کا کہنا تھا کہ ”خواتین کو مکمل آزادی ہے۔ وہ جس طرح کا لباس پہننا چاہیں پہن سکتی ہیں۔ لباس کے انتخاب کا حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

نفرت انگیز پوسٹر کی وجہ سے یورپی یونین میں برطانوی شمولیت کے حامیوں کو چھوڑا: سعیدہ وارثی

جمائما خان نے اپنی اور اپنی ایک دوست بیلا فروئیڈ کی ساحل سمندر پر لی گئی ایک تصویر بھی انٹرنیٹ پر شیئر کی ہے جس میں ان دونوں نے برقینی کی طرح کا پورا لباس پہن رکھا ہوتا ہے۔ اس تصویر کے ساتھ جمائما خان نے لکھا ہے کہ ”ہم خوش قسمت ہیں کہ اس پورے لباس کے ساتھ ہم فرانس کے کسی ساحل پر موجود نہیں ہیں۔“ انہوں نے تصویر کے نیچے یہ کیپشن فرانس میں پیش آنے والے اس حالیہ واقعے کے تناظر میں لکھا جس میں فرانسیسی پولیس نے نیس کے ساحل پر موجود ایک مسلمان خاتون کو لباس اتارنے پر مجبور کر دیا تھا۔ 45سالہ جمائما خان کا یہ نقطہ نظر براہ راست ان کے 35سالہ بھائی بین گولڈ سمتھ کے موقف سے متصادم ہے جس میں انہوں نے برقینی کو خوفناک غلامی کی علامت قرار دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جمائما خان نے ایک تصویر ری ٹویٹ بھی کی ہے جس میں ایک مرد کو ویٹ سوٹ(پیراکی کا پورا لباس)، ایک خاتون کو برقینی اور ایک عیسائی راہبہ کو ان کے مذہبی لباس میں ساحل سمندر پر دکھایا گیا ہے۔ عیسائی راہبہ کا لباس بھی برقینی کی ہی طرح کا ہوتا ہے۔ اس تصویر سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اگر برقینی معیوب ہے تو پھر عیسائی راہباﺅں کو ان کے مخصوص مذہبی لباس اور مردوں کو بھی ویٹ سوٹ میں ساحل سمندر پر آنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

مزید :

بین الاقوامی -