’ملک میں تمام لوگوں کا بلڈ ٹیسٹ کریں گے، جو بھی اپنے باپ کو شہری ثابت نہ کرسکا اُسے ملک سے نکال دیں گے‘ بڑے عرب ملک میں ایسا خوفناک قانون متعارف کروادیا گیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی

’ملک میں تمام لوگوں کا بلڈ ٹیسٹ کریں گے، جو بھی اپنے باپ کو شہری ثابت نہ ...
’ملک میں تمام لوگوں کا بلڈ ٹیسٹ کریں گے، جو بھی اپنے باپ کو شہری ثابت نہ کرسکا اُسے ملک سے نکال دیں گے‘ بڑے عرب ملک میں ایسا خوفناک قانون متعارف کروادیا گیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی

  

کویت سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) نائن الیون کے بعد جب دنیا میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر اٹھی تو لگ بھگ ہر ملک نے اس حوالے سے کچھ متنازعہ نئے قوانین بنائے۔ کویت نے بھی ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد ایک ایسا قانون بنا ڈالا ہے جس سے کویتی شہریوں سمیت تارکین وطن بھی انتہائی خوفزدہ ہیں۔ فیوژن ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق کویت میں اس نئے قانون کے تحت تمام شہریوں اور وہاں بسنے والے غیر ملکیوں کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروانا لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ قانون ایک مسجد پر ہونے والے ایک ہولناک حملے کے بعد متعارف کروایا گیا تھا۔رواں سال 26 جون کو کویت میںمسجد کے اندر ہونے والے اس خودکش حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی جس میں 26 افراد ہلاک اور200سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ حملہ آور ایک سعودی شہری تھا۔ اس ہولناک حملے کے فوراً بعد جولائی کے اوائل میں کویتی پارلیمان نے یہ نیا قانون منظور کیا تھا۔رواں سال کے آخر میں اس قانون پر مکمل عملدرآمد ہونے جا رہا ہے۔

’زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں‘جنوبی کوریا کی حکومت نے اپنے شہریوں سے اپیل کردی

انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”یہ قانون کسی شخص کی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات کے تحفظ کے حق کی خلاف ورزی پر مبنی ہے اور اس میں ترمیم کی جانی چاہیے۔ تنظیم کے مطابق انسداد دہشت گردی کے اس نئے قانون کے ذریعے کویت دنیا کا ایسا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں تمام شہریوں کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ کی مشرق وسطیٰ کے شعبے کی ڈائریکٹر سارا لی وٹسن کا کہنا تھا کہ”بہت سے اقدامات امکانی طور پر دہشت پسندانہ حملوں سے تحفظ کے معاملے میں سود مند ثابت ہو سکتے ہیں لیکن انسانی حقوق میں بڑے پیمانے پر مداخلت کے لیے ممکنہ سود مندی ہی کافی نہیں ہے۔“

واضح رہے کہ اس قانون میں ملکی وزارت داخلہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ایسا ڈیٹا بیس تیار کرے جس میں کویت کے تمام13لاکھ شہریوں کے ساتھ ساتھ ملک میں مقیم 29لاکھ غیر ملکیوں کے تمام کوائف اور ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج محفوظ کیے جائیں۔ ڈی این اے کی مدد سے کویت میںمقیم افراد کی ولدیت کا پتا چلایا جائے گا، اور اگر ڈی این اے کے مطابق کسی کا والد کویتی نا ہوا تو اسے بھی کویتی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس قانون کی زد میں وہ لاکھوں افراد آ سکتے ہیں کہ جنہوں نے کویت کی شہریت حاصل کرنے کے لئے خود کو کسی کویتی شہری کی اولاد ظاہر کر رکھا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -