ریسرچ کلچر کا فقدان شدید مسائل کو جنم دے رہا ہے:اعجاز بٹ‘ خواجہ خاوررشید

ریسرچ کلچر کا فقدان شدید مسائل کو جنم دے رہا ہے:اعجاز بٹ‘ خواجہ خاوررشید

  

لاہور (کامرس رپورٹر) فاؤنڈرز گروپ لاہور چیمبر آف کامرس کے چیئرمین محمد اعجاز بٹ، سابقہ صدور ایل سی سی آئی میاں محمد اشرف، ملک افتخار، فاروق افتخاراور ایگزیکٹو کمیٹی ممبر فاؤنڈرز گروپ خواجہ خاوررشید نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت معاشی نشونما کیلئے پالیسیوں کو بہتر بنائے، ملک میں بے روزگاری کی بڑھتی شرح اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ معاشی پالیسیاں عوام دوست نہیں، ملک میں ریسرچ کلچر کا فقدان شدید مسائل کو جنم دے رہا ہے حکومت بروقت نوٹس لے نہیں تو معاملات خرابی کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خامیوں کی درستگی کا عمل ریسرچ کلچر سے کرے، بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی بھی پروجیکٹ کی شروعات سے قبل اسکی جانچ پڑتال کی جاتی ہے مگر ہمارے ملک میں اس طریقہ کار کا سرے سے ہی نام و نشان موجود نہیں اگر ہے بھی تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ معاشی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل تمام ملکوں نے ریسرچ کلچر کو اپنے اصولوں میں شامل کیا ہوا ہے اسی وجہ سے وہاں پر پروجیکٹس کی ناکامی کی شرح نہایت کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں حکومت کاروبار ی اعتبار سے قوانین بنانے سے پہلے ان کے اثرات پر غور نہیں کرتی اکثر و بیش نئے قوانین کی وجہ سے کاروبار پر بوجھ بڑھتا ہے اور بزنس ٹھپ ہو جاتا ہے جس سے ملک میں نہ صرف بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اسکے اثرات کسی نہ کسی طور سے ملکی معیشت پر بھی پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر عالمی سطح پر تیزی سے بڑھتے چیلنجز کا مقابلہ، برآمدات میں آضافہ، توانائی کے بحران پر قابو اور ٹیکسز میں عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے ملک کے معاشی معاملات کو نہ صرف تحقیق کے خطوط پر استوار کرنا ہوگابلکہ مضبوط پالیسیاں بھی ترتیب دینا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا بڑا مسئلہ صنعتی پیداوار میں کمی ہے جس کی وجہ سے برآمدات میں کمی اور درآمدات میںآضافہ ہو رہا ہے، اسکی بڑی وجہ تجارت پر منفی اثرات ڈالنے والے قوانین ہیں جن میں تبدیلی کرنے کی اشد ضرورت ہے، ہمارا برآمدی ہدف تب ہی پورا ہو سکتا ہے جس وقت حکومت اس مسئلہ کو سیریس لے۔ اسکے علاوہ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات مخصوص مصنوعات اور مخصوص ممالک تک محدود ہیں جن کی وجہ سے ہم برآمدات بڑھانے کا خواب پورا نہیں کر پا رہے ہمیں نئی منڈیوں اور نئی مصنوعات کے متعلق ریسرچ بھی کرنا ہوگی تاکہ ہم اپنی ترقی کے راستہ پر تیزی سے بڑھ سکیں۔

مزید :

کامرس -