لاہور چیمبر میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر

لاہور چیمبر میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر

  

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا شمار ہر لحاظ سے پاکستان کے بہترین چیمبرز میں ہوتا ہے۔ پاکستان کا پریمئیر چیمبر آف کامرس ہونے کا اعزاز بھی اسے حاصل ہے۔ پہلے فاؤنڈیشن گروپ تنہاحکومت کرتا تھا، لیکن چند سال سے لاہور چیمبر میں فاؤنڈر پیاف اتحاد کی وجہ سے باری باری دونوں پارٹیوں کے منتخب ارکان میں سے صدر، سینئر نائب صدر اور نائب صدر کا انتخاب کیا جاتا ہے، فاؤنڈرز کے زمانے میں ایک بہت اچھا سسٹم تھا کہ صدر کے ساتھ جو سینئر نائب صدر منتخب ہوتا تھا، اسے آئندہ سال صدر منتخب کر لیا جاتا تھا، اس صدر کو پورا تجربہ حاصل ہو جاتاتھا جس کی وجہ سے لاہور چیمبر پاکستان کے دوسرے چیمبرز کے مقابلے پر زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ اب ایک بار پھر انتخابات کا موسم آگیا ہے اور پیاف اور فاؤنڈرز نے مشترکہ طور پر اپنی انتخابی مہم شروع کردی ہے۔ پیاف نے گزشتہ دنوں اپنے عہدیداروں اور اراکین کے ساتھ ایک مقامی ہوٹل میں تقریب کا اہتمام کیا، جس میں نئے امیدواروں کے بارے میں تفصیلی گفتگو اور فیصلے کئے گئے۔

فاؤنڈرز گروپ نے دور روز پہلے لینڈ مارک جیل روڈ پر اپنے انتخابی دفتر میں ایک بھرپور تقریب کا اہتمام کیا، جس میں فاؤنڈرز اور پیاف کے تمام اہم عہدیداروں نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کے موجودہ صدر کسی مصروفیت کی وجہ سے نہ آسکے، لیکن سینئر نائب صدر الماس نے لاہور چیمبر کی سالانہ رپورٹ کے اہم نکات پیش کئے۔ حاضرین میں محسن رضا بخاری سے لے کر عرفان اقبال شیخ تک تمام پرانے اور نئے لیڈر موجود تھے۔ اس موقع پر فاؤنڈرز گروپ کے لیڈر لاہور چیمبر کے سابق صدر اور یونائٹیڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے بھی خطاب کیا اور تفصیل سے اپنی خدمات کا تذکرہ کیا۔ بعد میں ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف میری کا رکردگی سے بہت خوش ہیں اور فیڈریشن کی اسلام آباد میں نئی بلڈنگ کا افتتاح کرنے کے بعد پوچھ رہے تھے کہ اور کتنی بلڈنگیں تعمیر کرو گے؟ اس پر مَیں نے انہیں بتایا کہ آج کل سارک چیمبر آف کامرس کی بلڈنگ تیزی سے تعمیر کے مراحل طے کر رہی ہے،جلد ہی اس کی تکمیل کے بعد امید ہے کہ سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر اس کا افتتاح کردیا جائے گا۔

وزرائے خزانہ کی کانفرنس جتنے اچھے ماحول میں ہوئی ہے، اسے دیکھتے ہوئے امید ہے کہ سارک سربراہی کانفرنس اس مرتبہ بہت کامیاب رہے گی۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک سربراہی کانفرنس میں سربراہوں کو وزیر اعظم محمد نواز شریف کی طرف سے دعوت نامے بھجوانے کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے، امید ہے کہ تمام سارک ممالک کے سربراہ اس کانفرنس کی رونق بڑھائیں گے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات سے لاہور کی بزنس کمیونٹی کو بھرپور دلچسپی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مسلسل تجربہ کار سابقہ صدور اور عہدیداروں کے مشوروں سے لاہور چیمبر مسلسل ترقی کررہا ہے ۔ جب مَیں ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے موجودہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے علاوہ محسن بخاری، شہزادہ عالم منوں،طارق، نسیم سیگل، طارق شفیع، سلیم شیخ، میاں ظفر، میاں انجم نثار، طارق حمید، میاں تجمل اور شہزاد ملک کے علاوہ بے شمار نام ہیں، جن سے مَیں نے بہت کچھ سیکھا اور انہوں نے لاہور چیمبر کی ترقی میں اپنا کردار بہت اچھے انداز میں ادا کیا۔

یہاں پر ایک دلچسپ انکشاف بھی ضروری ہے کہ ملک کی سیاست میں، بے شک کوئی فوجی حکومت ہو یا سول حکومت ہو، ہماری قیادت نے کبھی انتخابات کو ملتوی کرنے کا کوئی بہانہ نہیں بنایا اور لاہور چیمبر کے انتخابات ہمیشہ باقاعدگی سے ہوتے آرہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں پر جمہوری روایات نے خوب فروغ پایا ہے۔ ماضی میں بعض انتخابات تو اتنے زور شور سے لڑے گئے کہ ان کی کوئی مثال قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات سے ڈھونڈنا بھی مشکل ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ فاؤنڈر پیاف الائنس کی وجہ سے اب انتخابات میں نسبتاً کم محنت کرنا پڑتی ہے، لیکن حقیت یہ ہے کہ لاہور چیمبر کے منتخب ہونے والے عہدیدار پورا سال مل جل کر کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے ووٹر ہماری کار کردگی سے مطمئن ہیں۔ اب ماضی والا زمانہ قصۂ پارینہ بن چکا ہے کہ آپ کسی عہدے پر فائز ہو جائیں اور اپنے ووٹروں کی خدمت کئے بغیر آئندہ منتخب ہو جائیں۔ اب ووٹر بکرے کی طرح ٹٹول کر دیکھتا ہے کہ اس امیدوار میں اتنا دم خم ہے کہ ہمارے جائز، آئینی اور قانونی کام کر اسکے اور ہمارے لئے سہولتیں حاصل کرسکے۔ مَیں نے چیمبرز کی تیس سالہ سیاست سے صرف ایک بات سیکھی ہے کہ ووٹروں کی بھرپور خدمت کرو اور کسی قسم کی توقع نہ رکھو تو آنے والے انتخاب میں ووٹر آپ کو مایوس نہیں کرتا۔ موجود ہ انتخابات میں بھی فاؤنڈر پیاف کے امیدوار لاہور کی تمام مارکیٹوں میں جائیں گے اور اپنا منشور پیش کر کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے دروازے ہر کسی کے لئے کھلے ہیں، اس لئے فاؤنڈر پیاف الائنس کے مقابلے پر نئے نئے گروپ بنتے رہتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں، اس وجہ سے ہمارے عہدیدار انتخابی عمل کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور بھرپور کنویسنگ کے ساتھ ثابت کرتے ہیں کہ ہم لوگوں نے ماضی میں کیا کیا ہے اور مستقبل میں بھی اسی عزم اور لگن کے ساتھ ووٹروں کی خدمت کے لئے موجود رہیں گے۔

مزید :

کالم -