بڈگام میں بھارتی فورسز اور پولیس نے نصف درجن نوجوانوں کو گرفتار کر لیا

بڈگام میں بھارتی فورسز اور پولیس نے نصف درجن نوجوانوں کو گرفتار کر لیا

  

سری نگر(کے پی آئی)بڈگام میں بھارتی فورسز اور پولیس نے نصف درجن نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔مقامی طور پر ڈانگرپورہ چاڈورہ چلو کی کال دی گئی تھی جبکہ انتظامیہ نے پہلے ہی اس علاقے میں غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا ۔اس دوران نوگام بائی پاس اور پہرو موڑ پر خار دار تاریں بچھادی گئیں تھیں جبکہ چھترگام اور چک پورہ سمیت دیگر داخلی راستوں کو بھی بند کر کے راستے مسدود کئے گئے تھے۔عینی شاہدین کے مطابق ان علاقوں میں اضافی فورسز اہلکاروں کو بھی تعینات کیاگیا تھا جبکہ ڈانگر پورہ میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ اتوار کی صبح برستی بارشوں کے دوران ونگی پورہ، نیوہ،کھندہ، چھترگام،گنگی پورہ،چک پورہ سوٹھسو، کنی پورہ ،آری باغ،منگن واجی،ڈونی وارہ، ماگرئے پورہ،زنگی باغ،کینہ ہامہ سمیت درجنوں علاقوں سے جلوسوں کی صورت میں لوگ ڈانگر پورہ کی طرف مارچ کیا اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔

نوجوانوں نے چھوٹے چھوٹے جلوسوں کی شکل میں اندرون راستوں کا استعمال کر کے ڈانگر پورہ کی طرف رخ کیا اور اس دوران سبز ہلالی پرچم بھی لہرائے گئے۔ پولیس،فورسز اور فوج نے انکی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے پیلٹ اور ٹیر گیس اور بندوقوں کے دہانے کھول دئیے جس کی وجہ سے جلوس میں بھگڈر مچ گئی اوراس دوران15افراد زخمی ہوئے جن میں کئی خواتین بھی شامل ہیں۔ فورسز اور پولیس نے نصف درجن نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا ۔عینی شاہدین کے مطابق گرفتاریوں کی خبر سنتے ہی خواتین بھی گھروں سے باہر آئیں اورحتجاج کیا جبکہ فورسز نے ان پر بھی پیلٹ چلائے جس کی وجہ سے جلوس میں بھگدڑ مچ گئی اور کئی خواتین زخمی ہوئیں جنہیں چھترگام اسپتال پہنچایا گیا۔نوجوانوں نے فورسز اور پولیس پر سنگباری کی جس کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ ادھر مقامی لوگوں نے فورسز اور پولیس پر گھروں میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ اور مکینوں کو ہراساں کرنے بھی الزام عائد کیا۔انہوں نے کہا کہ درجنوں مکانات کے شیشوں کو چکنا چور اور گھریلو اشیا کو بھی تہس نہس کیا گیا۔

مزید :

عالمی منظر -