تماشہء اہل کرم

تماشہء اہل کرم
 تماشہء اہل کرم

  

آخر کیا ہوا ہوگا کہ الطاف حسین نے 22 اگست کو لندن سے کراچی اور امریکہ میں ٹیلی فون کے ذریعہ خطاب کے دوران وہ کچھ کہہ دیا جس کی کسی بھی رہنماء سے سخت حالات کے باوجود بھی توقع نہیں کی جا سکتی۔ گزشتہ سال بھی اگست کے مہینے میں انہوں نے فوج کے خلاف جو گفتگو کی تھی اس کے بعد ملک کے کئی شہروں میں ان کے خلاف شہریوں نے پولیس میں مقدمات درج کرائے تھے ۔ عدالتوں نے ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے تھے ۔ ان کی پاکستان میں جائیداد کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں، لیکن تمام مقدمات ہنوز زیر سماعت تھے کہ پہلے سے زیادہ سنگین صورت حال پیدا ہو گئی۔ صوبہ سندھ کے کراچی اور حیدرآباد میں رینجرز کو گلی گلی اور دفاتر دفاتر گھوم کر ان کی تصاویر اتارنا پڑیں۔ بعض مقامات پر تو رینجرز کے افسران اور اہل کار صرف بینر اور پینا فلیکس ہٹاتے اور پھاڑتے ہی نہیں دیکھے گئے ، بلکہ الطاف حسین کی تصاویر کو حرف غلط کی طرح مٹانے میں بھی مصروف تھے۔ جو کام بلدیاتی اداروں سے لیا جاسکتا تھا اسے رینجرز کو کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔ تصاویر، ایم کیو ایم کے پرچم اور پوسٹر ہٹانے کی کارروائی کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کے دفاتر کو بھی مسمار کرنے کی کاروائی جاری ہے۔ یہ سب کچھ ماورائے عدالت کیا جارہا ہے۔ ناپختہ ذہن کے حامل سیاست دانوں کی تو بچکانہ خواہش ہے کہ ایم کیو ایم پر مکمل پابندی لگادی جائے اور ایم کیو ایم کے منتخب نمائندوں کی جگہ انہیں نامزد کر کے اسمبلیوں میں بھیج دیا جائے۔

پاکستانی سیاسی تاریخ میں ایسا بھی ہوا تھا۔ 1970 ء کے انتخابات کے بعد حکومت پاکستان نے عوامی لیگ کے کئی منتخب اراکین کو بھارتی ایجنٹ ہونے کے الزام میں نا اہل قرار دیا تھا اور ضمنی انتخابات کرائے گئے تھے ۔ عوامی لیگ نے ان ضمنی انتخابات کا بائی کاٹ کیا تھا۔ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور عوامی لیگ مخالف عناصر نے انتخابات میں حصہ لیا تھا ۔ نتیجہ اسی طرح خواہشات کے مطابق نکلا تھا جیسا سندھ میں پیپلز پارٹی نے جب 1979 ء میں جنرل ضیاء کے متعارف کرائے گئے بلدیاتی نظام میں انتخابات کا بائی کاٹ کیا تھا تو ایسے لوگ بھی منتخب قرار پائے تھے جنہیں دو ہندسوں سے زیادہ ووٹ نہیں پڑ سکتے تھے ۔ اسی کو تمسخر (mockery)بھی کہتے ہیں۔ ایم کیو ایم ،پاکستانی قوانین، الیکشن کمیشن کے تحت ایک تسلیم شدہ قانونی شناخت ہے جس کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں موجودگی بھی ہے ۔ اسے مٹانا نا ممکن کام ہے۔ ایم کیو ایم نہیں ہوگی تو کوئی اور نام دے دیا جائے گا۔ ووٹر اشاروں کے منتظر رہیں گے۔ کامیاب ہونے والے ایک لاکھ ووٹ حاصل نہیں کر سکیں گے، لیکن کامیاب وہی ہوں گے جنہیں اشاروں اور کنایوں میں نامزد کر دیا جائے گا۔

الطاف حسین پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسے رہنماء کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے اردو بولنے والوں کی تین نسلوں پر اثرات پائے جاتے ہیں اور مرتب بھی ہوئے ہیں۔ ان کے مخالفین ان اثرات کو ختم کرنے میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ حکومت غور کرے کہ لطاف حسین کے اثرات کی وجوہات کیا ہیں؟ الطاف حسین شہد کی ملکہ مکھی تو ہیں نہیں جس کے گرد دیگر مکھیاں جمع ہوجاتی ہیں۔ الطاف حسین 1992ء سے بیرون ملک موجود ہیں، ان کی تقاریر ہی بظاہر لوگوں سے رابطہ کا ذریعہ تھا اس سلسلے کو بھی کاٹ دیا گیا۔ مخالفین کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے دہشت گردی کرنے والے گروہ کی وجہ سے لوگ اس کا ساتھ دینے پر مجبور تھے ۔ آئندہ انتخابات میں ہی اس کا بھی جائزہ لیا جا سکے گا۔ الطاف حسین کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی قرار دی جاتی ہے کہ وہ انتہائی کم درجے کی حیثیت رکھنے والوں کو نامزد کراکے منتخب ایوانوں میں بھیجتے رہے ہیں۔ کسی بھی انتخاب میں انہوں نے اپنے منتخب ہونے کی خواہش ظاہر کی اور نہ ہی اپنے رشتہ داروں کو نامزد کیا۔ آج جن لوگوں کی شناخت بھی ہے وہ جب سیاست میں وارد ہوئے تھے تو کوئی شناخت نہیں رکھتے تھے۔

پاکستانی سیاست میں ایسا رواج ہی نہیں رہا ہے کہ خود یا رشتہ داروں کو منتخب نہ کرایا گیا ہو۔ موجودہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ خود کو منتخب کرانے اور رشتہ داروں کو سامنے لانے کی روایت گہری ہے، لیکن الطاف حسین کی اس خوبی اور خصوصیت کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ اپنے ہی ملک کے خلاف ایسی گفتگو کریں گے جسے حکومت ہی کیا، ان کے حامی اور عام لوگ بھی نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ یہی کچھ ہوا کہ فاروق ستار جیسے اطاعت گزار نائب بھی تائب ہو گئے اور انہوں نے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ ایم کیو ایم کے مخالف ان کے اس اعلان میں بھی کیڑے نکال رہے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ فاروق ستار لندن کے اشارے پر یہ سب کچھ اس لئے کر رہے ہیں کہ پارٹی کو بچایا جا سکے۔ سوال پارٹی کو بچانے یا نہ بچانے کا نہیں ہے۔ پارٹی پر پابندی لگانے کا فیصلہ اگر حکومت کرے گی تو اسے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔ عدالت میں فاروق ستار اپنے بیانات کی روشنی میں سرخ روئی حاصل کر سکیں گے۔ آئندہ انتخابات میں جو بھی امیدوار نامزد ہوں گے ان کے بارے میں ووٹر وں کو کسی نہ کسی ذریعہ سے اطلاع مل جائے گی اور وہ امید وار ہی کامیاب ہو گا۔ پاکستانی خصوصا سندھ کی سیاست کے حربے، چالیں اورحرکیات dynamics) (، طور طریقے کچھ ایسے ہیں کہ ذرا سا ذہن لڑانے کے بعد نتائج اپنے حق میں حاصل کئے جا تے رہے ہیں۔ گزشتہ ایک انتخاب کے دوران جب ایم کیو ایم پتنگ کا نشان حاصل نہیں کر سکی تھی تو حیدرآباد میں ایک ایم کیو ایم مخالف امیدوار نثار احمد پتنگ کا نشا ن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، لیکن منتخب نہیں ہو سکے تھے ۔

حکومت پاکستان کو کیوں نہیں عسکریت پسندوں، شدت پسندوں، علیحدگی پسندوں، انتہاپسندوں، منحرف، گمراہ عناصر سے کھلے دل کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہئیں۔ ملک کے حالات کیسے بھی ہوں ، اندروں ملک فوج کو کہاں کہاں ذمہ داریاں سونپی جا سکتی ہیں ۔ کمزور پاکستان کی حامی بین الاقوامی قوتیں تو یہ ہی چاہتی ہیں کہ ایسے حالات پیدا کر دئے جائیں کہ فوج کو شہر شہر کھڑا کر دیا جائے، تاکہ پاکستان کی کمزور معیشت بیٹھ جائے۔ بھارت جیسا مضبوط معیشت کا حامل ملک کشمیر اور سیاچن میں فوج لگا نے پر اس لئے پریشان ہے کہ یہ کام معیشت پر اضافی بوجھ بن گیا ہے۔ برہمداغ بگٹی ، حربیار مری، شفیع برفت ، الطاف حسین کے ساتھیوں اور طالبان کا اپنے مقاصد سے لگاؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں حکومت پاکستان اور مملکت پاکستان کے معاملات میں تحفظات ہیں۔ ن عناصر کو جن معاملات پر بھی تحفظات ہیں ان پر کیوں نہیں گفتگو کی جا سکتی ۔شکایات کا طویل المدتی بنیادوں پر حل تلاش کیا جا سکتا ہے جسے آئین میں ضمانت بھی دی جا سکے ۔ سیاسی کارکنوں کا لاپتہ ہوجانا، ان کی لاشوں کا ملنا، گرفتاریاں، مقدمات وغیرہ اپنی ہی قوت کو منتشر کرنے کا سبب ہیں۔

فوجی آپریشن تو کسی بھی بیماری کا مکمل علاج نہیں ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہے جیسا بعض کوتاہ نظر اور مفاد پرست ڈاکٹر حضرات ، اپنی نام نہاد شہرت کے لئے، مریضوں کو دوا میں کارٹیزون (cortisone) ملا کر دیتے ہیں، جس کے استعمال سے مریض کا وزن بڑھتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ صحت مند ہورہا ہے حالانکہ وہ مرض اور مرگ کی طرف جارہا ہوتا ہے۔ مریض سمجھتا ہے کہ اس کا مرض ختم ہو گیا ہے حالانکہ وہ جسمانی طور پر اس کا عادی اور جسم قوت مدافعت ختم ہونے کی وجہ سے کمزور ہو جاتا ہے۔ ایک بات اور بھی ہے کہ جنہیں حکومتی اقدامات کا حامی سمجھا جاتا ہے ان میں سے بعض آپ کے خیالات کے حامی نہیں ہوتے ۔ حالات کے تقاضے پورے کرنے کے لئے بظاہر حامی بن جاتے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں وائٹ ، گرے اور بلیک کی اصلاحات ناکام ہی رہی تھیں۔ بہت سارے بنگالی اعتراف کرتے ہیں کہ وہ عوامی لیگ کے حامی تھے، لیکن بظاہر فوجی حکومت کے ساتھ تھے ۔

پاکستانی تاریخ میں کئی ایسے موڑ موجود ہیں جب سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں، لیکن نتائج بر آمد ہونے سے قبل ہی سیاسی مصلحتیں فیصلوں پر حاوی ہو گئی تھیں ۔ سیاست دانوں کو تو یاد ہوگا کہ شیخ مجیب الرحمان کے خلاف اگر تلہ سازش کیس کتنا مضبوط تھا، لیکن طویل عرصہ زیر سماعت رہنے کے باوجود وہ مقدمہ واپس لے لیا گیا تھا۔ بھٹو دور میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا تھا، اس ریفرنس کی روشنی میں حیدرآباد ٹریبیونل قائم کیا گیا تھا۔ پارٹی کے صف اول کے تما م اہم رہنماء بشمول عبدالولی خان، خیر بخش مری، غوث بخش بزنجو، اس مقدمہ میں فریق بنائے گئے تھے۔ نتیجہ کیا نکلا تھا ؟ پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمہ کے بعد مارشل لاء نافذ کرنے والے جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے مقدمہ واپس لے لیا تھا ، ٹریبیونل کالعدم قرار دے کرتمام رہنماء رہا کر دئے گئے تھے ۔ نیشنل عوامی پارٹی کی بجائے عوامی نیشنل پارٹی قائم کر دی گئی تھی جو ابھی تک اسفند یار ولی کی قیادت میں کام کر رہی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے ایک جنرل مجیب الرحمان تھے جنہیں جنرل ضیاء نے حکومت پاکستان میں محکمہ اطلاعات میں سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا تھا ، ان کے بارے میں مشہور بھی کیا گیا تھا کہ وہ نفسیاتی جنگی امور میں دسترس بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھا نسی کے بعد پاکستان ٹیلی وژن ، ریڈیو پاکستان ، نیشنل سینٹروں سے بھٹو کی تقاریر اور تصاویر کو تلف کرا دیا تھا۔ کیا اس قدم سے لوگوں کے ذہنوں سے بھٹو کو کھرچا جا سکا تھا؟ سیاست میں سیاسی طریقہ کار کے تحت کئے جانے والے فیصلے ہی دور رس نتائج دیتے ہیں ، بقایا سب کچھ بے ثمر مشق ہوجاتی ہے۔

مزید :

کالم -