انڈین آبدوزوں کے آپریشنل راز لیک ہو چکے ہیں؟

انڈین آبدوزوں کے آپریشنل راز لیک ہو چکے ہیں؟
 انڈین آبدوزوں کے آپریشنل راز لیک ہو چکے ہیں؟

  

بھارت کی پیپلزپارٹی (بی جے پی)جب کانگریس کو دس سال بعد شکست دے کر برسراقتدار آئی تو اپنے رقیب کی وجوہاتِ شکست کا ایک گوشوارہ (Table) بھی مرتب کیا۔ ان اسبابِ ہزیمت میں ایک سبب یہ بھی تھا کہ کانگریس نے دفاعی ہتھیاروں کی خریداری میں ماضی میں انتہائی تساہل سے کام لیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ ایک انڈین آرمی چیف نے برملااظہار کر دیا کہ بھارت، پاکستان اور چین سے لڑنے کے لئے اسلحی اہلیت کے اعتبار سے بالکل مفلس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی سینا بے شک دیش بھگتی میں پیش پیش ہو گی، لیکن نہتا لشکر کیا کرے گا؟ چین اور پاکستان سے جنگ کرنے کے لئے اس لشکر کے پاس ساز و سامانِ جنگ ہی نہ ہو تو پھر سینا کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔ گزشتہ الیکشن میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مقابلے کے موضوعات میں یہ موضوع بھی ایک اہم موضوع تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب نئے سیاسی حالات میں نیا آرمی چیف آیا تو اس نے ببانگ دہل اعلان کر دیا کہ انڈیا میں آج اتنا دم خم موجود ہے کہ وہ چین اور پاکستان دونوں کو بیک وقت حملہ کرکے شکست دے سکتا ہے۔ بھارت کے ایک آرمی چیف کا تجزیہ، جہاں نہایت سوچ بچار کے بعد پبلک کیا گیا تھا وہاں ان کے جانشین نے 180 ڈگری کا جو ’’یوٹرن‘‘ لیا اس کی پشت پر بی جے پی کے کرتا دھرتاؤں کی عجلت اور جلد بازی پیش پیش تھی۔

پنجابی میں ایک ضرب المثل ہے : ’’کہل اَگّے ٹوئے‘‘۔۔۔ یعنی بغیر سوچے سمجھے اگر کسی سفر پر نکل کھڑے ہوں تو راستے میں ایسے گڑھے آ جاتے ہیں جن سے بچا نہیں جا سکتا۔ اردو اور ہندی زبان میں بھی اس قسم کی ایک ضرب المثل ہے کہ ’’سہج پکے سو مٹیھاہو!‘‘۔۔۔ یعنی جو آم پائل(یاپیل) ڈال کر اور مصالحہ لگا کر کریٹ میں بند کئے جاتے ہیں، وہ میٹھے نہیں ہوتے۔ ہر فروٹ کو فطری طور پر پکنے اور میٹھا ہونے کے لئے وقت درکار ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کی لڑکیاں چونکہ جلد جوان ہو رہی ہیں اس لئے نشہ بازوں کی بن آئی ہے۔ لیکن اس حقیقت کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی کہ یہی لڑکیاں جلد بوڑھی بھی ہوئی جا رہی ہیں۔۔۔ مودی سرکار جلد جوان ہونے کی فکر میں تو ہے لیکن جلد بوڑھی بھی ہو جائے گی، اسی لئے تو اس کے قومی منصوبوں کا یہ حال ہو رہا ہے!۔۔۔ جدید اسلحی دنیا کے بین الاقوامی نشہ بازوں نے بھارتی کنواری کنہیاؤں کو جلد جوان ہونے کی جو ترغیب دی ہے، اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔۔۔ میں آج اسی سکینڈل پر چند حروف لکھنا چاہتا ہوں جو ایک ہفتے سے بین الاقوامی دفاعی حلقوں میں ہلچل مچائے ہوئے ہے۔۔۔

اس سکینڈل کا خلاصہ یہ ہے کہ بھارت جو اپنے شپ یارڈز میں فرانس کی مدد سے چھ عدد سکارپین کلاس آبدوزیں بنا رہا تھا، ان کا حساس ترین اور اہم ترین ٹیکنیکل اور آپریشنل ڈاٹا (DATA) ہیک (Hack) کر لیا گیا ہے اور اب ساری دنیا کو معلوم ہو چکا ہے کہ یہ آبدوزیں جب تیار ہو کر سمندر میں اتاری جائیں گی تو ان کو تلاش کرکے غرقاب کرنا گویا ’’ڈک شوٹنگ‘‘ (مرغابی فائرنگ) کی طرح آسان ہو گا۔

مودی سرکاری جب برسراقتدار آئی اور آکر گوا کے ایک مقامی سیاستدان (منوہرپریکار) کو بھارت کا وزیر دفاع مقرر کیا تو ان کے ذمے یہ کام بھی لگایا گیا کہ وہ کانگریس کے دور میں دفاعی سودوں کی ’’تاخیری تکمیل‘‘ کی تلافی کریں۔۔۔ بھارت کی لحیم شحیمGDP مغربی اسلحہ سازوں کی نگاہ میں تھی اور وہ اس کی طرف للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے، اس لئے انہوں نے مودی صاحب اور ان کی حکومت کے کلیدی وزراء اور سفراء کورام کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ یہ موضوع بڑا طویل اور دلچسپ ہے کہ مغرب کے یہ دفاعی جادوگر کس کس طرح سے مشرق کے سادہ لوح نخچیروں کو اپنے دام میں گرفتار کرتے ہیں۔یہ ناٹو (NATO) صرف مغرب کی دفاعی تنظیم ہی نہیں، اقتصادی تنظیم بھی ہے جس کا ایجنڈا بھی دفاعی ایجنڈے کا تتمّہ ہے۔ اس میں شامل بڑے بڑے ملکوں نے اسی لئے اس معاہدے میں شرکت کر رکھی ہے کہ مشرق وسطیٰ، افریقہ اور برصغیر پاک و ہند میں بڑے بڑے دفاعی ٹھیکے ان کو ملتے رہیں۔ جرمنی کے ٹینک اگر سعودی عرب خرید رہا ہے تو فرانس کے طیارے امارات کے پاس جا رہے ہیں، آبدوزیں اگر انڈیا خرید رہا ہے تو جنگی بحری جہاز ترکی اور پاکستان کا بچا کھچا سرمایہ لوٹ کے لے جا رہے ہیں۔

مغرب والوں نے انڈیا کے منہ میں ایک اور بڑا سا لالی پاپ بھی ٹھونس رکھا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اُسے چین کے مقابل لاکھڑا کیا ہے۔ اسے اس خطے کی ایک منی سپرپاور کا خطاب بھی دے رکھا ہے اور اسی لئے انڈین نیوی کو ایک بلیو واٹر نیوی کا سٹیٹس دینے کے لئے دن رات اس کی ’’جڑوں میں بیٹھنے‘‘ کے اہتمامات کئے جا رہے ہیں۔۔۔ دوسری طرف مودی نے بزعمِ خود Make in India کا نعرہ لگا کر قوم کو مطمئن کر رکھا ہے کہ آئندہ جو بھی بھاری ہتھیار بنیں گے وہ انڈیا ہی میں بنائے جائیں گے اور ان کو دساور سے درآمد نہیں کیا جائے گا۔

انڈیا نے فرانس سے 126رافیل (Rafael) لڑاکا طیاروں کی خرید کا ڈول بھی ڈال رکھا ہے اور ساتھ ہی چھ عدد جدید ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں بھی اس سے خرید رہا ہے۔ لیکن یہ آبدوزیں انڈیا میں بنائی جا رہی ہیں۔ اہلِ بھارت پھولے نہیں سماتے کہ ان کو جدید مغربی دفاعی ٹیکنالوجی میسر آ رہی ہے۔ ان چھ سکارپین کلاس آبدوزوں کی کل مالیت 3.5 ارب ڈالر ہے۔ رافیل طیاروں کو انڈیا میں بنانے پر بھارت نے اگرچہ بہت زور دیا تھا لیکن فرانس نہ مانا۔ اسی طرح آبدوزوں کا معاملہ بھی تھا۔۔۔ آخر ’’اقتصادی ناٹو‘‘ نے مل کر فیصلہ کیا کہ بھارت کے مودی کی اس ’’ہوسِ ساختہء بھارت‘‘ (Make in India) کو لگام دی جائے۔ چنانچہ ایک گرینڈ پلان تیار کیا گیا جس کی تفصیل یہ تھی کہ عین اس وقت جب بھارتی شپ یارڈوں میں آبدوز سازی کا یہ سارا بنیادی انفراسٹرکچر نصب کر دیا جائے اور جب اس کی لاگت بھارتی خزانہ سے ڈالرز اور یوروز میں وصول کر لی جائے تو پھر پہلی سکارپین آبدوز تیار کی جائے اور جب وہ تیار ہو کر سمندر میں اتاری جائے اور اس کے ٹرائل ہو رہے ہوں تو عین اس وقت اِن آبدوزوں کا سارا ٹیکنیکل اور آپریشنل ڈاٹا Leak کر دیا جائے اور بھارت کو بتا دیا جائے کہ لیجئے ہم نہ کہتے تھے کہ آپ میں دفاعی راز سنبھالنے کی کوئی اہلیت ہی نہیں!۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا!

قارئین کرام! ان بھارتی سکارپین کلاس آبدوزوں کے ساتھ عین مین یہی کچھ ہوا ہے اور ابھی مزید ہو گا۔ پہلی آبدوز چند روز پہلے تیار ہو کر سمندر میں اتاری گئی تھی۔ اور اب اس کے مزید ٹرائل مکمل کئے جانے تھے۔ یہ ٹرائل دو تین ماہ جاری رہتے۔ اس طرح اکتوبر کے آغاز یا ستمبر2016ء کے اختتام پر اس آبدوز کو باقاعدہ انڈین نیوی کے حوالے کر دیا جاتا۔ انڈیا کو بلیو واٹر نیوی بننے کے لئے جن بحری اثاثوں (Assets) کی ضرورت تھی ان میں دو تین طیارہ بردار، ایک دو جوہری آبدوزیں اور روائتی ڈیزل الیکٹرک آبدوزوں کا ایک بڑا بیڑا درکار تھا۔ بظاہر یہ سب کچھ انڈیا کے پاس موجود ہے۔ طیارہ بردار بھی ہیں اور جوہری آبدوز بھی ہیں لیکن اگر یہ سکارپین آبدوزیں اگلے پانچ برسوں میں مکمل ہو جاتیں تو ان میں اکثر کو بحرہند اور بحیرۂ عرب میں ڈیپلائے کیا جاتا۔۔۔ بحیرۂ عرب میں گوادر اور CPEC کے پاکستانی منصوبوں کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے۔۔۔ اور بحرہند میں چین کے مجوزہ بحری بیڑوں کی اس آمد و رفت کو روکنے کے لئے جو آئندہ دو برسوں میں آبنائے ملاکا کے پانیوں سے گزرے گی اور جزائر انڈیمان اور نکوبار میں کہ انڈیا کا تیسرا بحری بیڑا بھی وہیں لنگر انداز رہتا ہے، سے ہوتی ہوئی چین جائے گی۔

سکارپین کلاس آبدوزوں کا جو ڈاٹا چوری یا ہیک ہوا ہے وہ ’’ٹاپ سیکرٹ‘‘ تھا۔ اس کے 22400 صفحات نیٹ پر دیکھنے کو مل جائیں گے۔ سب سے پہلے گزشتہ بدھ کے روز آسٹریلیا نے یہ خبر دی کہ ان آبدوزوں کا ڈاٹا ہیک کر لیا گیا ہے اور ہیک کرنے والوں کا کچھ پتہ نہیں اور یہ بھی خبر بریک کی کہ عین ممکن ہے کہ اس میں چین اور پاکستان شامل ہوں۔ یہ انکشافات کم اہم اور کم سنسی خیز نہیں ہیں!۔۔۔ ہمارا میڈیا پانامہ لیکس کو دن رات بیٹھ کر روتا رہتا ہے لیکن اس سکارپین لیکس کی کوئی خبر کسی پاکستانی چینل پر اس طرح بالتفصیل نہیں آئی جس طرح پانامہ لیکس کی آئی تھی(اور آ رہی ہے)۔ جب یہ شور بھارت میں عام ہوا تو وزیر دفاع نے فرمایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں کہ یہ لیک تو ہے لیکن اس لیک میں آبدوز کے ہتھیاروں کی کوئی تفصیل نہیں۔ مزید فرمایا کہ ہم نے فرانسیسی حکومت سے رابطہ کر رکھا ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس میں کون کون سے ممالک ملوث ہو سکتے ہیں۔ پریکار نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ ہم یہ معاہدہ منسوخ بھی کر سکتے ہیں اور آئندہ فرانس سے کوئی اور دفاعی معاہدہ بھی نہیں کریں گے۔ قبل ازیں اٹلی سے جو VVIP ہیلی کاپٹر انڈیا نے خریدے تھے اور آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی ساز کمپنی کو بلیک لسٹ کر دیا تھا تو اس سے اطالوی کمپنی کو کیا نقصان ہوا تھا؟۔۔۔ اسی طرح فرانس کو بھی کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ نقصان صرف بھارت کا ہوگا۔ اس کو بارِدگر ٹینڈر ایشو کرنے پڑیں گے اور نئے سرے سے آبدوز سازی کا آغاز کرنا پڑے گا۔ اس میں وقت لگے گا۔ لیکن اگر اس کا حشر بھی وہی ہوا جو سکارپین پراجیکٹ کا ہوا ہے تو؟

چیست یارانِ طریقت بعدازیں تدبیرِ ما

مغربی میڈیا میں یہ خبریں بھی گرم ہیں کہ آسٹریلیا نے اس لیک کی خبر اس لئے دی ہے کہ آسٹریلوی مالی مفادات اس معاہدہ سے وابستہ تھے جو فرانس کو دے دیا گیا۔ آسٹریلیابھی ان ملکوں میں شامل تھا جن کی بولی مسترد کر دی گئی تھی۔۔۔ قارئین یہ بھی تو سوچیں کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اتنی بڑی لیک کی خبر فرانس کو نہ ہو۔یعنی اندر سے فرانس، آسٹریلیا، جرمنی، برطانیہ، امریکہ اور ناٹو کے وہ ممالک (پلس اسرائیل) ایک ہی ہیں جو ہم جیسے پس ماندہ ممالک کا معاشی استحصال کر رہے ہیں۔ ہم جیسے ملک سال بھر کا کمایا ہوا زرِ مبادلہ صرف چند طیاروں، آبدوزوں، بحری جہازوں اور ٹینکوں وغیرہ کی خرید پر ضائع کر دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ مغرب کے یہ اسلحہ ساز اگر اپنی وارٹیکنالوجی کی اساس ہمیں منتقل کر دیں گے تو خود کہاں جائیں گے اور ان کی آنے والی نسلیں کیاکھائیں گی؟

آسٹریلوی اخبار نے سکارپین آبدوز کی جو ’’انتہائی خفیہ‘‘ معلومات لیک کی ہیں ان میں کئی اہم راز شامل ہیں مثلا (1) زیر آب جنگ و جدل میں ان آبدوزوں کا طریقِ جنگ کیا ہے۔۔۔(2) ان آبدوزوں کی کمبٹ (Combat) صلاحیت کیا ہے۔۔۔ (3) یہ چوری چھپے کتنی دور تک جا سکتی ہیں اور دشمن کے راڈاروں میں نہیں آتیں۔۔۔(4) ان کا زیرِ آب شور کس درجے کا ہے؟۔۔۔(5) کیا دشمن شور کی ان لہروں سے آبدوز کا درست (Accurate) محلِ وقوع معلوم کر سکتا ہے اور پھر اس کی بربادی کے لئے اینٹی سب میرین وار فیئر کی معمول کی تکنیکوں کو بروئے کار لا سکتا ہے؟۔۔۔ (6) جب یہ آبدوز زیر آب سفر کر رہی ہوتی ہے تو اس کی مواصلاتی فریکنسیوں کی وہ رینج کہاں تک جاتی ہے جس کی مدد سے یہ آبدوز دشمن کی بالائے آب تنصیبات اور زیرآب بحری اثاثوں کا سراغ لگا سکتی ہے؟۔۔۔ (7) اس آبدوز کی رینج کیا ہے؟۔۔۔(8) یہ کتنا عرصہ مسلسل زیرِ آب رہ سکتی ہے؟۔۔۔(9) پانی میں کتنا گہرا غوطہ لگا سکتی ہے؟۔۔۔(10) آبدوز کا سونار (Sonar) سسٹم کیا ہے جو زیرِ آب رہ کر دشمن کی انٹیلی جنس اکٹھی کرنے کا اہل ہے۔۔۔ (11) 2011ء میں اس آبدوز کے ساتھ جو کمرشل ایجنٹ وابستہ تھے اور جن کو فرانسیسی آبدوز کمپنی (DCNS) نے بعد میں سیک کر دیا تھا، ان کا اس لیک میں کیا اور کتنا ہاتھ ہو سکتا ہے؟

یہ دستاویزات جو لیک کی گئی ہیں ان میں بظاہر ان تفصیلات پر سیاہی پھیر دی گئی ہے جو انتہائی خفیہ کی ذیل میں آتی تھیں۔ فرانس کی بنی ہوئی یہی آبدوزیں ملائیشیا اور چلی کی بحریائیں (Navies) بھی استعمال کر رہی ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ وہ کہاں تک متاثر ہوں گی؟۔۔۔ اور سب سے آخری لیکن سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہم جیسے تیسری دنیا کے ممالک جو سٹیٹ آف دی آرٹ ہتھیار جدید ممالک سے خریدتے ہیں وہ ممالک اگر چاہیں تو کیا عین جنگ کے دوران ان ہتھیاروں کے آپریشنل راز ہمارے دشمنوں کو نہیں دے سکتے؟۔۔۔ اور کون جانے ماضی میں یہ کھیل ہمارے ساتھ کتنی بار کھیلا گیا !

مزید :

کالم -