پاکستان اور ترکی یک جان دو قالب

پاکستان اور ترکی یک جان دو قالب

  

 پاکستان اورترکی کی دوستی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔اوردونوں ملکوں کے تعلقات تاریخ کے ہر مرحلے میں وقت کی آزمائش پر پورااترے ہیں۔ ترکی ان چند ممالک میں سے ہے جنہوں نے 1947میںآزادی کے بعد پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا اور اس سے سفارتی تعلقات قائم کئے تھے۔ دونوں ملکوں کے عوام بہت سے بین الاقوامی امور میں یکساں فکر اور سوچ کے حامل ہیں۔ ترکوں کی جدوجہد آزادی کے دوران برصغیرکے مسلمانوں نے جس طرح ترک عوام سے اپنی یکجہتی کا اظہار کیا وہ ہماری مشترکہ تحریک کا ایک زریں باب ہے۔ مسلمانان ہند نے تاریخ کے اس نازک موڑ پر دامے، درمے، قدمے، سخنے ہر اعتبار سے اپنے ترک بھائیوں کا ساتھ دیا۔ مورخین اس امر پر متفق ہیں کہ ترکی کی جدوجہد آزادی میں تحریک خلافت کے موثر کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمانان ہند نے مصطفی کمال پاشا کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ترکوں پر اہل مغرب کی من مانی شرائط مسلط نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے یہ کام ایک ایسے وقت میں کیا جب وہ خود محکوم تھے۔

پاکستان اورترکی کے عوام کا اشتراک صرف ثقافتی اور تہذیبی رشتوں تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کی قومی شخصیات اور سیاسی رہنماؤں کے لئے بھی یکساں احترام کا رشتہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال ؒ کی مولانا جلال الدین رومی کے ساتھ بے پناہ عقیدت اورترکی کے عوام میں علامہ اقبال ؒ کی مقبولیت کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔علامہ اقبال ؒ کے کلام میں ترک عوام کی جدوجہد آزادی اوراتاترک کی دانشمندانہ قیادت کوخراج تحسین کی مثالیں ملتی ہیں۔علامہ محمد اقبال ؒ کی نگاہ میں اتاترک دنیائے اسلام کے وہ منفرد جرنیل تھے جن کے طفیل اسلام کو نئی روح اور نئی زندگی ملی۔ اسی طرح بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے اتاترک مصطفی کمال پاشا کو Grey Wolf کے لقب سے یاد کرتے ہوئے انہیں جدید ترکی کا عظیم معمار قرار دیا تھا۔

وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کو ترکی کے دورے کے دوران غیر معمولی پروٹوکول دیا گیا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس طرح کا پروٹوکول صرف سربراہان مملکت کو دیا جاتا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اپنی پہلے سے طے شدہ مصروفیات سے وقت نکال کر وزیر اعلی شہباز شریف سے خصوصی طور پر ملاقاتیں کیں ۔ وزیر اعلی شہباز شریف کی ترک صدر اور وزیر اعظم سے ملاقاتیں پہلے سے طے نہ تھیں تا ہم وزیر اعلی کی استنبول آمد پران ملاقاتوں کا اہتمام کیا گیاجو اس بات کا مظہر ہے کہ ترک لیڈر شپ پاکستان کی قیادت کو بہت اہمیت دیتی ہے ۔ ۔ایوان صدر میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے وزیر اعلی شہباز شریف کی ملاقات کا طے شدہ دورانیہ 60 منٹ تھا تا ہم یہ ملاقات 90 منٹ تک جاری رہی۔ ترک صدر نے بغاوت کی کوشش کے دوران وزیر اعلی شہباز شریف کی جانب سے بھرپور یکجہتی کے اظہار پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔ ایوان وزیر اعظم میں ترک وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات بھی طے شدہ دورانیہ سے طویل رہی اور2 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے دوران ترک وزیر اعظم نے پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کو جمہوریت کے خلاف ہونے والی بغاوت کے واقعات اور عوام کے ردعمل سے آگاہ کیااور ترک وزیر اعظم نے وزیر اعلی شہباز شریف اور ان کے وفد کو وہ مقامات بھی دکھائے جہاں تک باغی پہنچ چکے تھے تاہم بعد میں ترک عوام اور فورسز کی بھرپور مزاحمت کے باعث باغیوں کو ناکام لوٹنا پڑا۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف اور ان کے وفد کے اعزاز میں مےئر استنبول قادر توپباش کی طرف سے استنبول میں عشائیہ دیا گیا ۔ وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے اس موقع پراپنے خطاب میں کہا کہ ترکی میں گزشتہ دنوں بغاوت کی کوشش کو ناکام بنانے کا تمام تر کریڈٹ ترک صدر رجب طیب اردوان کی ولولہ انگیز قیادت اورترکی کے عوام کو جاتا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں ترک بھائیوں کیلئے پاکستان سے محبت اورخلوص کا پیغام لایا ہوں ۔میرے دورے کے پہلے ہی روز جس والہانہ انداز سے استقبال کیا گیاوہ میری زندگی کا قیمتی اثاثہ ہے اورجب بھی ترکی آیا ہوں محبت ،پیار اورخلوص کا ایک سمندر دیکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک ترک تعلقات کی مثال قوموں کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے ۔ترکی اپنے عظیم قائد صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں اقوام عالم کیلئے ایک مثالی ملک بن چکا ہے ۔ترک صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف ترکی کے دورے پر استنبول پہنچے تو استنبول اےئر پورٹ پر وزیر اعلی اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ترکی کے اعلی حکام اورترک رہنماؤں نے وزیراعلیٰ اوران کے وفد کو خوش آمدید کہا۔وزیراعلیٰ نے ائیرپورٹ کے لاؤنج میں ترک رہنماؤں سے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ اوروفد کے اراکین نے ترکی میں گزشتہ دنوں ہونیوالی بغاوت کی کوشش کے دوران جاں بحق ہونیوالے ترک بہن بھائیوں کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔ بھائیوں کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے استنبول میں ترکی کے وزیر صحت رجب اکدغان (Mr. Recep Akdag) سے ملاقات کی،جس میں ترکی کے تعاون سے پنجاب کے ہیلتھ کےئر سسٹم کو بہتر بنانے پراتفاق کیا گیا۔ترکش وزیر صحت نے کہا کہ ترکی کی جنگ آزادی میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے جو تاریخی کردارادا کیا وہ آج بھی ہمیں یاد ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اورحکومت نے گزشتہ ماہ ترکی میں بغاوت کی کوشش کے دوران ترکی کی حکومت اورعوام کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا اورپاکستان کی پارلیمنٹ پہلی پارلیمنٹ ہے جس نے ترکی میں بغاوت کی کوشش کی مذمت کی،اسی طرح وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف اوروزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے بھی اس مشکل کی گھڑی میں ترک قیادت اورعوام کا بھر پور ساتھ دیا،جس پر ہم ان کے بے حد شکرگزار ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اورترک یکجان دوقالب ہیں اورپاکستان اورترکی کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ترکش وزیر صحت نے اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے وزیراعلیٰ شہبازشریف سے ملاقات کی ۔وزیراعلیٰ پنجاب اورترکش وزیر صحت کی ملاقات کے دوران طے پایا کہ اگلے ماہ ترکی کے ہیلتھ کےئر کے ماہرین کا خصوصی وفد پنجاب کا دورہ کرے گااورترکش ہیلتھ ماہرین پنجاب کے ہیلتھ کےئر سسٹم کا مکمل جائزہ لیکر سفارشات پیش کریں گے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ ترکی کے ماہرین صحت کی سفارشات کی روشنی میں پنجاب میں موثر ہیلتھ کےئر سسٹم تشکیل دیا جائے گاجو کہ حقیقی معنوں میں مریضوں کو ریلیف فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ میرے دورہ ترکی سے پنجاب اورترکی کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کو بے پناہ فروغ ملے گا۔دریں اثناء استنبول میں ترکی کی وزارت صحت کے دفتر میں محکمہ صحت پنجاب اور ترکی کی وزارت صحت کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ ترکی کے وزیر صحت رجب اکدغان (Mr. Recep Akdag) بھی اس موقع پر موجود تھے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ جبکہ ترکی کی وزارت صحت کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر ایوب غماس (Dr. Eyup Gumus) نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے، جس کے تحت ترکی کی وزارت صحت پنجاب کے ہیلتھ کئیر سسٹم اور پبلک ہیلتھ کے پروگراموں کو بہتر بنانے کیلئے تعاون فراہم کرے گی اور پنجاب میں صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کیلئے ترکی کی وزارت صحت اپنے تجربات اور مہارت فراہم کرے گی، اسی طرح وزارت صحت ترکی اور پنجاب حکومت پبلک ہیلتھ کے شعبے میں بہتری کیلئے تعاون کو فروغ دیں گے۔ترکی کا پبلک ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ ، پنجاب کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں اصلاحات اور اسے جدید بنانے میں تکنیکی معاونت دے گا اور ہسپتالوں کی ویسٹ کو مناسب طریقے سے تلف کرنے کے انتظامات کیلئے باہمی تعاون کیا جائے گا۔ سٹرلائزیشن ،ڈس انفیکشن اورصحت کی دیکھ بھال کی سہولیات میں انفیکشن کنٹرول کیلئے بھی دو طرفہ اشتراک کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔ کانگو وائرس کے خاتمے کے لئے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے یہ معاہدہ ایک اہم سنگ میل ہے۔ہیلتھ کئیر سسٹم کی بہتری کیلئے ترکی کے ماڈل سے استفادہ کریں گے۔ انہو ں نے کہا کہ صوبے کے ہسپتالوں میں مریضوں کو وہی بہترین طبی سہولتیں دیں گے جو ترکی میں دستیاب ہیں اور معاہدہ پنجاب میں ہیلتھ کئیر سسٹم کوبہتر بنانے میں ممد و معاون ثابت ہوگا۔ ترکی کے وزیر صحت رجب اکدغان نے کہا کہ پنجاب حکومت کے ساتھ ہیلتھ کئیر سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے ہرممکن تعاون کریں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے استنبول میں ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے سپیکر اسماعیل خرامان(Mr.Ismail Kahraman)سے ملاقات کی،جس میں باہمی دلچسپی کے امور اوردوطرفہ تعلقات پر بات چیت ہوئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے عالمی رہنماؤں کے ہمراہ ترکی کے شہر استنبول میں یاویز سلطان سلیم پل کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے خصوصی دعوت دی تھی۔دنیا کے مختلف ممالک کے صدور اوروزرائے اعظم کے ہمراہ پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی افتتاحی تقریب میں شرکت دونوں ممالک کی گہری دوستی کی عکاس ہے ۔وزیر اعلی شہباز شریف نے جدید ترین اور فن تعمیر کا شاہکار پل بنانے پر ترک صدر رجب طیب اردوان اور دیگر رہنماؤں کو مبارکباد دی اور کہا کہ آپ کی ولولہ انگیز قیادت میں ترکی نے جو غیر معمولی ترقی کی ہے وہ اقوام عالم کے لئے ایک مثال ہے ۔ترک صدرکی قیادت میں ترکی کے انجینئرز اورماہرین نے یورپ اورایشیاء کے سنگم پر دنیا کاچوڑا ترین پل بنایا ہے۔یاویزسلطان سلیم پل انجینئرنگ اورفن تعمیر کا اعلی شاہکار ہے ۔پل کی تعمیر سے یورپ اورترکی کو ملانے والا ایک نیا روٹ ملا ہے ۔ افتتاحی تقریب میں دنیا کے مختلف ممالک کے وزراء اعظم اوررہنماؤں کی شرکت سے اس منفردپل کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے ۔ترک انجینئرز نے دنیا کابڑا جھولتا ہوا پل تعمیر کر کے فن تعمیر کا اعلی نمونہ پیش کیا ہے ۔ترک انجینئرز نے 60میٹر چوڑے اس پل پردو ریلوے لائن بھچاکراپنی اعلی مہارت کاثبوت دیا ہے۔وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے دیگر عالمی رہنماؤں کے ہمراہ پل کی افتتاحی تقریب کے موقع پر دعا بھی کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے استنبول میں ترکی کے ہاؤسنگ سیکٹر کے بین الاقوامی شہرت کے حامل ادارے ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ ایڈمنسٹریشن ترکی (TOKI) کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کی۔ترک وفد نے پنجاب کے ہاؤسنگ سیکٹر خصوصاً کم لاگت کے معیاری گھروں کی تعمیر کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ ملاقات میں طے پایا کہ ترکی کے ہاؤسنگ سیکٹر کے سب سے بڑے ادارے ٹوکی کے ماہرین کا وفد اکتوبر میں پنجاب آئے گا اور اس موقع پرکم آمدن والے خاندانوں کیلئے کم لاگت کے معیاری گھروں کی تعمیر کے منصوبے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت صوبے میں کم آمدن والے طبقات کو چھت فراہم کرنے کے ایک مربوط پروگرام پر عملدرآمد کر رہی ہے اور کم لاگت کے معیاری گھر تیار کرکے کم آمدن والے خاندانوں کو فراہم کرنا ہماری ترجیح ہے۔ہاؤسنگ سیکٹر کے ترک ماہرین کے دورہ پنجاب کے دوران وحدت کالونی میں کم لاگت کے معیاری گھروں کی تعمیر کے پائلٹ پراجیکٹ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خصوصاً پنجاب میں ہاؤسنگ سیکٹر انتہائی تیزی سے ترقی کر رہا ہے اوریہاں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے حکومت پنجاب اور ٹوکی(TOKI) کی مشترکہِ کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی جس کے ذریعے پنجاب حکومت ٹوکی کے تجربے اور مہارت سے استفادہ کرے گی اور اداروں کی استعدادکار میں اضافہ کیا جائے گا۔ ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ ایڈمنسٹریشن ترکی کے وفد نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کم لاگت والے معیاری گھرو ں کی تعمیر کے حوالے سے وزیراعلیٰ شہبازشریف کا وژن انتہائی شاندار ہے اور ہم پنجاب حکومت کے ساتھ کم لاگت والے معیاری گھروں کی تعمیر کیلئے ہرممکن تعاون کریں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے استنبول میں ترکی کی سرمایہ کار کمپنیوں اور بزنس ہاؤسز کے سربراہوں سے ملاقات کی۔ملاقات میں ترک سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات نے پاکستان خصوصاً پنجاب میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے سرمایہ کار کمپنیوں اور بزنس ہاؤسز کے سربراہان سے گفتگوکے دوران انہیں پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیے! پاکستان خصوصاً پنجاب میں سرمایہ کاری کریں۔ پاکستان اور پنجاب سرمایہ کاروں کیلئے بے پناہ مواقع رکھتا ہے۔ ترک بھائیوں کی سرمایہ کاری پر ان کا کھلے دل سے خیرمقدم کریں گے۔ پنجاب حکومت غیرملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات اور سہولتیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ اور پرامن ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے استنبول میں ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم(BinAli Yildirim) سے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیاگیا۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے گزشتہ ماہ بغاوت کی کوشش ناکام بنانے پر ترکی کے وزیراعظم اور عوام کو مبارک باد دی۔وزیر اعلی شہباز شریف نے ترک وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کے عوام نے جمہوریت کے ساتھ والہانہ محبت اور بھرپور عزم کا اظہار کیا ہے اوراس جدوجہد کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ترک عوام نے جمہوریت بچانے کیلئے بے مثال جرأت کا مظاہرہ کیا اور ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر جمہوریت کو بچایا اوربہادری کی نئی تاریخ رقم کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اور عوام نے مشکل کی گھڑی میں ترک لیڈرشپ اور عوام کا بھرپور ساتھ دیا کیونکہ ترکی اور پاکستان یکجان دو قالب ہیں اور ہمارے غم اور خوشیاں مشترکہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔ترکی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر ہمیں دلی دکھ اور افسوس ہے اور ہماری تمام تر ہمدردیاں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی جانب سے ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم کو دورہ پاکستان کی دعوت دی اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کی جانب سے ترک وزیر اعظم کو نیک خواہشات کا پیغام بھی دیا۔ترکی کے وزیر اعظم نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے انتہائی عزیز بھائیوں سے ملنے جلد پاکستان کا دورہ کروں گا۔ترک وزیر اعظم نے بغاوت کی کوشش کے دوران ترکی کے ساتھ بھرپور یکجہتی پر پاکستان کے وزیر اعظم ، وزیر اعلی شہباز شریف ، پارلیمنٹ اور عوام کے کردار کو سراہا۔ ترک وزیر اعظم نے بغاوت کے دوران پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات سے بھی وزیر اعلی شہباز شریف کو آگاہ کیا۔ ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ پاکستان نے بغاوت کی کوشش کے دوران جس طرح ترک قیادت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، وہ دونوں ملکوں کی تاریخی دوستی کی ایک مثال ہے۔ پاکستان اور ترکی کے دوست اور دشمن مشترکہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے ۔ترک وزیر اعظم نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے پاک ترک دوستی کے فروغ کیلئے مثالی کردار ادا کیا ہے اور شہباز شریف نے دونوں ملکوں کے تعلقات کی مضبوطی کے لئے جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔

وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے ایوان صدر استنبول میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔وزیر اعلی نے گزشتہ ماہ بغاوت کی کوشش ناکام بنانے پر ترک صدر رجب طیب اردوان کی عظیم قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے عزم، استقامت اور جرأت مندی سے حالات کا مقابلہ کیا اور آپ کی ایک کال پر ترک عوام دیوانہ وار جمہوریت کے دفاع کے لئے سڑکوں پر نکل آئے اور بغاوت کی سازش کو ناکام بنایا۔انہوں نے کہا کہ آپ کی عظیم قیادت میں ترکی میں عوام اور جمہوریت کو فتح ملی اور بغاوت کی یہ کوشش آپ کی عظیم قیادت میں ترکی کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے خلاف سازش تھی جسے ترک عوام نے اپنے اتحاد کی طاقت سے ناکام بنایا ۔میں اپنی اور پاکستانی عوام کی طرف سے آپ کو سازش کی ناکامی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ترکی میں جمہوریت کے خلاف سازش کی ناکامی اس امر کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ ترکی کے عوام اپنے عظیم عوامی رہنما اور جمہوریت سے والہانہ محبت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم اور عوام کی بے لوث خدمت کرنے کا ثمر آپ کوملا ہے۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بغاوت کی کوشش ترکی کو دوبارہ ترقی اور خوشحالی کے سفر سے اتارنے کی کوشش تھی جسے اللہ تعالی کی مدد اور عوام کی طاقت سے ناکام بنایا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف ، وزیر اعلی شہباز شریف اور پاکستانی عوام نے مشکل میں ہمارا ہر طرح سے ساتھ دیاجس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہمجھے علم ہے کہ آپ گزشتہ ماہ اس واقعہ کے فوری بعد ترکی آکرہمارے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔ آپ نے جس محبت ، خلوص اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے اس پر شکریہ ادا کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم پاک ترک تعلقات اور دوستی کے فروغ میں آپ کے کردار کے معترف ہیں ۔ ترک صدر نے کہا کہ دورہ پاکستان کے دوران اہل لاہور کی میزبانی کی خوشگوار یادیںآج بھی تازہ ہیں اور دورہ لاہور کے دوران ملنے والی محبت اور خلوص میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے ۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان اور ترکی کے درمیان برادرانہ تعلقات کو نئی جہت ملی ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کے دور حکومت میں پاک ترک تعلقات میں وسعت پیدا ہوئی ہے اور دونوں ممالک کی حکومتیں ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں ۔حکومت نے ترک سرمایہ کاروں کو پنجا ب میں سرمایہ کاری کے لئے ساز گار ماحول فراہم کیا ہے ۔ترکی نے پاکستا ن میں میگا پراجیکٹس تعمیر کرنے میں بھر پور معاونت کی ہے خصوصا پنجاب میں میٹرو بس سسٹم ،شاہراؤں اور ہسپتالوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔جنوبی پنجاب پاکستان کی زرعی شعبہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ترک حکومت نے جنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی اور وہاں کے مکینوں کو سہولیات کی فراہمی کے لئے متعدد پراجیکٹس مکمل کئے ہیں ۔ووکیشنل تربیتی اداروں کے اساتذہ کی بطور ٹرینر تربیت ،تعلیمی ادارو ں کو جدید خطوط پر استوار کرنے گائیڈ لائن فراہم کی ۔اسی طرح ڈی جی خان اور مظفر گڑھ کو ملانے کے علاوہ مظفر گڑھ اور علی پور کے درمیان115کلو میٹر لمبی سٹرکیں تعمیر کی۔مظفر گڑھ میں بین الاقوامی معیاری کا جدید ہسپتال قائم کیا ۔گزشتہ سیلاب میں جنوبی پنجاب میں تباہی پھیلا دی ،ترک حکومت نے سیلاب سے بے گھر ہونے والوں کے لئے1270گھرو ں پر مشتمل ماڈرن کالونی تعمیر کی جس میں زندگی کی تمام بنیادی سہولیات جن میں سکول،پارک،مسجد،ہسپتال،بھی قائم کیا گیا ہے ۔صوبائی دارالحکومت لاہور میں جدید سہولیات سے مزین سٹیٹ آف دی آرٹ پارکنگ سسٹم فراہم کرنے کے علاوہ لاہور سمیت پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں اعلی معیار کا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کا آغاز کیا ۔توانائی ،قدرتی وسائل کی تلاش اور پاکستان میں افرادی قوت کی تربیت بھی ترک حکومت کر رہی ہے ۔دہشت گردی کے ناسور پر قابو پانے کے لئے ترک پولیس کی معاونت سے ڈولفن فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ۔دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں اور پرائیویٹ کمپنی و سرمایہ کار پاکستان خصوصا پنجاب میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں ۔اس کے علاوہ ثقافتی تعلقات کو بھی نئی جہت ملی ہے ۔امید ہے کہ آئندہ بھی یہ تعلقات مزید مضبوط و مستحکم ہونگے اور دونوں ممالک کے مابین مثالی،معاشی،تجارتی اور سفارتی تعلقات میں مزید وسعت پیدا ہو گی

مزید :

ایڈیشن 1 -