عدالتوں میں دائر پٹیشن پر جلسہ ریلیاں کیا توہین عدالت نہیں؟

عدالتوں میں دائر پٹیشن پر جلسہ ریلیاں کیا توہین عدالت نہیں؟
عدالتوں میں دائر پٹیشن پر جلسہ ریلیاں کیا توہین عدالت نہیں؟

  

ایک دفعہ پھر کہا جا رہا ہے کہ ستمبر سیاسی طور پر گرم ہو گا۔تحریک انصاف ویسے تو کافی عرصہ سے سڑکوں پر ہے۔ لیکن ستمبر کہا جا رہا ہے کہ بہت گرم ہو گا۔ ویسے تو جو کہہ رہے ہیں ان کی اپنی کوئی ساکھ نہیں لیکن پتہ نہیں ہر بار ان کی بات قابل توجہ کیوں ٹھہرتی ہے۔جو کہہ رہے ہیں ان کے پاس بھی اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ ستمبر کیسے گرم ہو گا؟ کیا زیادہ جلسے جلوس ریلیاں ہونے کی وجہ سے گرم ہو گا؟ لیکن ایک سیاسی و جمہوری ماحول میں جلسے جلوس اور یلیاں کسی خاص قسم کی سیاسی گرمی کا باعث نہیں بن سکتے۔

سیاسی گرمی کا پیمانہ کیا ہے۔ اس کا ایک سادہ پیمانہ تو یہ ہے کہ ملک میں سیاسی انارکی ہو جائے۔ اپوزیشن اپنی سیاسی و احتجاجی تحریک سے ملک کا نظام جام کر دے ۔ اپوزیشن کی تحریک اس قدر پر اثر ہو گی کہ حکومت کے لئے حکومت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ نظام حکومت تہس نہس ہو جائے۔ اور حالات اس قدر خراب ہو جائیں کہ حکومت کے پاس گھر جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہ رہ جائے۔ لیکن اگر سیاسی گرما گرمی کا یہ پیمانہ ہے تو شاید ملک کی اپوزیشن اس وقت سیاسی طور پر اس پوزیشن میں نہیں کہ یہ ٹارگٹ حاصل کر سکے۔حالات ایسے نہیں ہیں کہ عام آدمی موجودہ اپوزیشن کی حمایت میں سڑکوں پر آجائے۔

سیاسی گرما گرمی کا دوسرا پیمانہ یہ ہو سکتا ہے کہ امپائر مداخلت کے لئے تیار ہو۔ لہذا اپوزیشن ایک مناسب حد تک حالات خراب کرے۔ جس کا براہ راست فائدہ تھرڈ ایمپائر اٹھائے۔ یہ وہی امپائر ہے جس کو دھرنے کے دنوں میں بھی پکارا جا تا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی اکثریت اس وقت اس بات پر متفق ہے کہ تھرڈامپائر اس وقت کسی بھی قسم کی مداخلت کے موڈ میں نہیں ہے۔ اس لئے یہ آپشن بھی قابل عمل نہیں لگ رہی۔ اسی طرح پارلیمنٹ کی پوزیشن بھی ایسی نہیں کہ وہاں سے کسی بھی قسم کی تبدیلی ممکن ہو سکے۔ میاں نواز شریف اور ان کی جماعت پارلیمنٹ میں مضبوط ہے کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر سے کوئی تبدیلی لانے کی پوزیشن میں نہیں۔

اب اگر کچھ ہو سکتا ہے تو وہ عد الت سے ہی ہو سکتاہے۔ پانامہ سمیت میاں نواز شریف پر ان کے مخالفین جو بھی الزمات لگا رہے ہیں ۔ان کو ثابت بھی انہوں نے عدالتوں میں ہی کرنا ہے۔ عدالت کا راستہ سب کے لئے کھلا بھی ہے۔ اور شاید اپوزیشن کو اگر کامیابی کی کوئی امید بھی ہے تو وہ عدالتوں سے ہی ہو سکتی ہے۔ باقی سب آپشن تو بند گلی میں پہنچ رہے ہیں۔ لہذا دھاندلی کے بعد اب پانامہ کا دوسرا مرحلہ بھی عدالتوں میں ہی طے ہو گا۔ شاید اپوزیشن کو بھی اس کا احساس ہو گیا ہے۔ اسی لئے سب فریقوں نے عدالتوں کا رخ کر لیا ہے۔ سب سے آخر میں تحریک انصاف نے بھی سپریم کورٹ میں وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف پٹیشن دائر کر دی ہے۔ اس سے قبل پیپلزپارٹی جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں بھی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر چکی ہیں۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن اور سپیکر کے پاس بھی ریفرنس دائر کئے جا چکے ہیں۔

ملک میں اس وقت دو معاملات پر شور ہے۔ ایک پانامہ اور دوسرا سانحہ ماڈل ٹاؤن ۔ پانامہ پر تو اپوزیشن کی اکثر جماعتیں سپریم کورٹ پہنچ گئی ہیں۔ جبکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن بھی اس وقت عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر پہلے پاکستان عوامی تحریک نے اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج کروانے کے لئے احتجاج کیا۔ اور بالا آخر ان کی مرضی کی ایف آئی آر درج ہو گئی۔ اس ایف آئی آر کے تحت جب ٹرائل درمیان میں پہنچا تو پاکستان عوامی تحریک نے استغاثہ دائر کر دیا۔ اب قانون کے تحت جب استغاثہ دائر ہو جائے تو ٹرائل رک جا تا ہے۔ اور ٹرائل رک گیا اور استغاثہ کی سماعت شروع ہو گئی جو جاری ہے۔ قانونی پوزیشن تو یہی ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا استغاثہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور سماعت جاری ہے۔ اس ضمن میں بھی عدالت کا ہی فیصلہ آخری فیصلہ ہو گا۔

سوال یہ ہے کہ جب اپوزیشن اپنے دونوں اہم مقدمات عدالت میں لے گئی ہے تو شور کیوں مچا رہی ہے؟ کیوں نہیں عدالت پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔ کیا عدالتوں کو دباؤ میں لانے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے۔ جب پانامہ پر سب نے عدالتوں میں پٹیشن دائر کر دی ہے تو پھر یہ احتجاج اور ریلیاں کس لئے ہیں۔ جب سانحہ ماڈل ٹاؤن پر پاکستان عوامی تحریک کے استغاثہ کی سما عت بھی تیزی سے جاری ہے۔ تو پھر شور کیا ہے۔

اس ضمن میں ایک رائے یہ ہے کہ اپوزیشن ایک دوہری حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔ ایک طرف عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف سڑکوں پر بھی شور مچا یا جا رہا ہے۔ اس کے بعد یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا یہ درست حکمت عملی ہے۔ کیا یہ عدالتوں پر دباؤ ڈالنے کے مترادف نہیں ہے۔کیا یہ عدالتوں سے مرضی کا انصاف لینے کی کوشش نہیں ہے۔ ورنہ ایک مہذب روایت تو یہی ہے کہ جب کوئی معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہو تو اس پر جلسوں میں بات نہیں کی جاتی۔ بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ معاملہ چونکہ عدالتوں میں زیر سماعت ہے اس لئے اس پر بات نہیں کی جا سکتی۔

اب اگر یہ صورتحال ایسے ہی ہے تو پھر اس کو کیسے روکا جائے۔ کیا ملک میں امن و امان کو قائم رکھنے کے لئے عدالتوں کو سیاسی جماعتوں اور عوام کو اس بات کا پابند بنانا ہو گا کہ جو مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان پر سیاست نہ کی جائے۔ ان پر سیاست کر کے عدالت پر دباؤ ڈالنا توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا۔اگر یہ بات درست مان لی جائے تو کیا ایسا نہیں کہ عدالتوں میں پٹیشن دائر ہونے کے بعد یہ فرض عدالتوں کا ہی ہے کہ وہ اپنا تقدس قائم رکھیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں بھی سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کے لئے عدالتوں کا تمسخر اڑاتی رہی ہیں۔ اور اب بھی یہی پالیسی جاری ہے۔ ماضی میں بھی عدلیہ نے اپنے تقدس کے تحفظ کے لئے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا یا۔اور شاید ایسا لگ رہا ہے کہ اب بھی نہیں اٹھائے گی۔

مزید :

کالم -