انفارمیشن ٹیکنالوجی کو موجود دہد میں گیم چینجر کی حیثیت حاصل ہے ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

انفارمیشن ٹیکنالوجی کو موجود دہد میں گیم چینجر کی حیثیت حاصل ہے ، چیف جسٹس ...

  

 لاہور (نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو موجودہ عہد میں گیم چینجرکی حیثیت حاصل ہے جس کی مدد سے عدالتی نظام کو فاسٹ ٹریک پر لایا جاسکتا ہے، زیر التواء مقدمات کی جلد پیروی ہو سکتی ہے، عدالتی فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر ختم ہو سکتی ہے اور انصاف کی جلدفراہمی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں لا اینڈ جسٹس کمشن آف پاکستان کے زیر اہتمام سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ عدالتی سسٹم کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لئے آئی ٹی کو محض آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ تک چھوڑ دینا کافی نہیں اس کے لئے جوڈیشل افسران اور جج صاحبان کو اونر شپ لینا ہوگی اور عملی طور پر عدالتی نظام میں آئی ٹی کو رائج کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ٹی کے بغیرپنجاب میں تیرہ لاکھ اورصرف لاہور ہائیکورٹ میں ڈیڑھ لاکھ کیسز بلا تاخیر نمٹائے نہیں جاسکتے اس کیلئے سمارٹ جسٹس ڈیلوری سسٹم نافذ کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ میں24 سو جوڈیشل افسران اور60 ہائیکورٹ ججز کے تمام کیسرز کو روائتی طریقے سے ریکارڈ کرنا اورفوری طور پر ان کی مانیٹرنگ ممکن نہیں اس کے لئے جامع آئی ٹی سسٹم بنانا پڑے گا کہ سٹریٹجک انداز میں کیسزکی رجسٹریشن اور پیروی یقینی بنانا ہوگی تاکہ کیسز کی شیلف لائف میں کمی لائی جاسکے۔ انہوں نے اس موقع پر کیس مینجمنٹ پلان، ڈیٹا کولیکشن، کاز لسٹ، نوٹس جاری کئے جانے ، سٹے آرڈز،عدالتوں میں پیشی، مقدمات کی تاریخیں دیء جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پنجاب ہائیکورٹ میں مقدمات کی اہمیت کے اعتبار سے درجہ بندی کی حکمت عملی وضع کر دی گئی ہے تاکہ ریئل ٹائم میں مقدمات کے فیصلے ہو سکیں اور انصاف کے حصول میں طویل انتظار کا سلسلہ ختم ہو سکے اور مقدمات کے فیصلوں میں تاریخوں پر تاریخیں نہ پڑیں اور چیزیں طویل عرصہ تک سٹے آرڈز پر نہ چلتی رہیں۔ انہوں نے کہاکہ پرانے مقدمات کو سرخ، سٹے آرڈرز کے مقدمات کو پیلے اور سینئر سٹیزنز کے مقدمات کو بھی مخصوص رنگ سے نمایاں کیاگیا ہے تاکہ اس کی سماعت جلد ممکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ نادراکے قریبی تعاون سے مقدمات کے جلد تصفیے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ آئی ٹی کو پورے عدالتی نظام میں رائج کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں اگر قومی سطح پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کے تعاون سے ایسا ممکن ہو سکے تو صرف سمارٹ فون پر ملک بھر کے مقدمات کو باآسانی دیکھا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 5 ستمبر سے شروع ہونے والے نئے عدالتی سال شروع ہونے والے نیا مانیٹرنگ سسٹم نافذ کیا جا رہاہے جس سے مقدمات کی جلد پیروی میں مدد ملی گی۔

جسٹس منصور علی شاہ

مزید :

صفحہ آخر -