سکولوں کی مخدوش عمارتوں کے حوالے سے تحریک التواء اسمبلی میں جمع

سکولوں کی مخدوش عمارتوں کے حوالے سے تحریک التواء اسمبلی میں جمع

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) مسلم لیگ ق کی رکن صوبائی اسمبلی خدیجہ عمر فاروقی صدر پاکستان مسلم لیگ شعبہ خواتین پنجاب نے پنجاب کے4727سکولوں کی خطرناک عمارتوں کی مرمت میں تاخیر پر پنجاب اسمبلی میں تحریک التوائے کار جمع کروادی ہے۔

اپنی تحریک التوائے کار جمع کروانے کے بعد انہوں نے صحافوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم کی لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے خطرناک قرار دی گئی سکولوں کی عمارتیں معصوم بچوں کی جانوں کیلئے خطرہ کا باعث بن چکی ہیں حالیہ بارشوں سے پنجاب بھر کے 4727سکولوں کی خطرناک اور بوسیدہ عمارتیں مستقبل کے معماروں معصوم بچوں کی زندگیوں کے لیے ہر وقت ان پر لٹکتی ہوئی تلوار کی مانند ہیں ہزاروں سکولز کی بوسیدہ اور غیر مرمت شدہ عمارتیں کسی بھی وقت بڑے حادث کا باعث بن سکتی ہیں جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجتے ہوئے گھبراتے ہیں ۔ خدیجہ فاروقی نے کہا کہ پنجاب بھر کے سکولوں کی خطرناک قرار دی گئی عمارتیں جن میں 3868جزوی طور پر خطرناک اور859مکمل طور پر خطرناک ہیں جبکہ لاہور کی کل127سکول کی عمارتیں خطرناک قرار دی جاچکی ہیں ان میں سے107جزوی اور 20کے قریب مکمل خطرے کی علامت قرار دی جاچکی ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف تو ترقیاتی کاموں میٹروٹرین پر اربوں خرچ کررہی ہے جبکہ دوسری طرف تعلیم کے شعبہ کو بالکل نذرانداز کردیا گیا ہے ۔بیشتر سکولوں میں تعمیرو مرمت کا کام تین سال سے فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے رکا ہوا ہے جس کے باعث بوسیدہ اور خطرناک سکول کی عمارتیں بچوں کے لیے خطرے کا باعث بن چکی ہیں اور اساتذہ بھی ان سکولوں میں پڑھاتے ہوئے خوف کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت فی الفور سکولز کے شعبہ کی طرف متوجہ ہوں اور بچوں کی جانوں کے تحفظ کیلئے سکولوں کی عمارتوں کی مرمت و تعمیر فنڈز مہیا کرے ۔اور جب تک ان خطرناک عمارتوں کی تعمیر و مرمت کا کام مکمل نہیں ہوتا ان سکولوں کو دیگر سکولوں میں منتقل کیا جائے تاکہ قیمتی جانوں کے نقصان سے بچاجاسکے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -