سیاسی میڈیا ،غیر سیاسی اسٹیبلشمنٹ

سیاسی میڈیا ،غیر سیاسی اسٹیبلشمنٹ
 سیاسی میڈیا ،غیر سیاسی اسٹیبلشمنٹ

  

میڈیا کا ایک مخصوص حصہ اپنے تئیں ضرور کوشش کررہا ہے کہ پنجاب میں نون لیگ کی مقبولیت کو وہ کاری ضرب لگا سکے جس سے 2018میں اس کی جیت کے امکانات مخدوش ہو جائیں۔ جناب پرویز رشید نے لاہور میں میڈیا سے ایک حالیہ گفتگو میں گلہ کیا ہے کہ معاشی محاذ پر حکومتی کامیابیوں پر جو کچھ انٹرنیشنل میڈیا کو نظر آرہا ہے وہ پاکستانی میڈیا کو نظر نہیں آرہا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے لیکن انہیں اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ میڈیا جب تک بات کا بتنگڑ نہ بنالے اس کو مطلوبہ ریٹنگ میسر نہیں آتی ہے جو کمرشلز کے حصول کے لئے ضروری ہوتی ہے اور اچھی ریٹنگ تبھی آتی ہے جب میڈیا حکومت کے خلاف بے سروپاہی سہی تنقید کرتا ہے ۔ دوسری جانب وزیر اعظم نواز شریف نے میڈیا سے جو فاصلہ رکھا ہوا ہے اس سے بھی میڈیا کے کئی سنیئر اراکین نالاں ہیں اور اپنے کالموں اور تحریروں کے ذریعے اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔ پھر الیکٹرانک میڈیا میں نوجوانوں کی کثیر تعداد ایسی ہے جو عمران خان کی فین ہے اور خبر بناتے ہوئے یا پروگرام کرتے ہوئے سنجیدگی اور ذمہ داری کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر حکومت کے سر وہ کچھ بھی تھوپ دیتی ہے جس کا حکومت کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوتا۔

ایک جانب میڈیا سرگرم ہے تو دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کی پولیٹیکل ایکسٹینشن بھی آئے روز بڑھتی جا رہی ہے ۔ کراچی میں اسٹیبلشمنٹ کی ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم کی اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی جاری ہے، سب دیکھ رہے ہیں کہ آیا ایم کیو ایم اپنے شیرازے کو بکھرنے سے بچا پائے گی ؟....عین ممکن تھا کہ مصطفی کمال کی پاک سر زمین پارٹی اپنی اہمیت کھو بیٹھتی لیکن الطاف حسین کی جانب سے کی جانے والی ایک غلطی نے اس مردہ گھوڑے میں دوبارہ سے جان ڈال دی ہے ،سیاست میں اسی لئے غلطی کی گنجائش کم ہوتی ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ نے بڑے صبر کے ساتھ اس لمحے کا انتظار کیا اور جونہی موقع بنا اس نے عزیز آباد کو عبرت آبادبنادیا۔ اب ایم کیو ایم انتظار کرے گی کہ اسٹیبلشمنٹ کوئی غلطی کرے اور اسے دوبارہ سے کھڑے ہونے کا موقع مل سکے۔وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ابھی اپنے کارڈز پوری طرح اوپن نہیں کئے ، اس لئے ایم کیو ایم کے پاس محتاط ردعمل کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، وہ ابھی اس ہوا کے تھمنے کا انتظار کرے گی جو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اس کے خلاف چل رہی ہے۔ایم کیو ایم کی اب تک کامیابی یہ ہے کہ اس کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، ماسوائے چند ایک مستثنیات کے، متحد ہیں۔ اسی طرح یہ تاثر بھی قائم ہے کہ ا س کے باوجود کہ بھارتی ایجنسی را کے لئے کام کرنے کے الزام، ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل اور خود الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریروں نے ایم کیو ایم کے حامیوں کا مقدمہ کمزور کردیا ہے، ایم کیو ایم کے ووٹر زسپورٹر زکی اکثریت ابھی تک اس کے ساتھ ہے اورپاک سر زمین پارٹی کراچی میں کم اور کراچی کے باہر زیادہ ڈسکس ہو رہی ہے۔

ایک ایسے وقت جب کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کے زیر عتاب ہیں ،عمران خان میڈیا کے ایک مخصوص ٹولے کے برتے پر پنجاب میں اپنے قدم جمانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں وہی جماعت وزارت عظمیٰ کی حقدار ہو گی جو پنجاب میں جیتے گی ۔ بظاہر اس کے امکانات کم ہیں کیونکہ اگلے ایک سال میں عمران خان کے ایک ایسے لیڈر کے طور پر ابھرنے کے مواقع کم نظر آرہے ہیں جو پنجاب کے پاپولر ووٹ کو اپنی طرف متوجہ کرلے۔ ایسی آخری لیڈر شپ بے نظیر بھٹو کی تھی جو پنجاب کے پاپولر ووٹ کو اپنے والد کی طرح متاثر کرسکی تھیں۔ ان کے بعد سے کسی سیاسی لیڈر میں اتنا ’تپڑ ‘ نظر نہیں آرہا کہ فوری طور پر ایسا کوئی کرشمہ دکھاسکے ، خاص طور پر جب کہ شفاف انتخابات کا نعرہ اس قدر اہمیت اختیار کرچکا ہے کہ اب فرشتوں کے لئے کسی منظور نظر پارٹی کے لئے انتخابی نتائج کو تبدیل کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہ ہوگا۔

اگر اسٹیبلشمنٹ اسی طرح غیر سیاسی رہتی ہے جس طرح 2014کے دھرنے میں رہی تھی تو میڈیا کا کھلا سیاسی ایجنڈا نون لیگ کی راہ میں کوئی بڑا روڑا نہیں اٹکا سکے گا۔ البتہ اگر اسٹیبلشمنٹ کچھ ایسا سوچ رہی ہے جس کا برملا اظہار شیخ رشید کرتے رہتے ہیں تو میڈیا کی مہم جوئی سونے پر سہاگہ ثابت ہو سکتی ہے ۔ اس صورت حال میں ایم کیو ایم ہی نہیں ، پیپلز پارٹی اورنون لیگ کو بھی پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا تاکہ جمہوریت گزند پہنچنے سے بچایا جاسکے۔

مزید :

کالم -