این ایف سی ایوارڈ میں چھوٹے صوبوں کی حق تلفی کی جار ہی ہے :مظفر سید ایڈ ووکیٹ

این ایف سی ایوارڈ میں چھوٹے صوبوں کی حق تلفی کی جار ہی ہے :مظفر سید ایڈ ووکیٹ

  

پشاور( پاکستان نیوز)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ دوسرے کئی معاملات کی طرح قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ پر بھی خیبر پختونخوا سمیت چھوٹے صوبوں کی نہ صرف حق تلفی کی جارہی ہے بلکہ ہمارے جائز اور آئینی مطالبات کو نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے کے مصداق مسلسل نظر انداز کیا جارہاہے جس سے عوامی سطح پر بھی تشویش میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔وہ سول سیکرٹریٹ پشاور کے کمیٹی روم میں نویں این ایف سی ایوارڈ کے تیاری سے متعلق ایک جائزہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے جس میں پروفیسر محمد ابراہیم خان،محمد احتشام خان اور شمائل احمد بٹ ایڈوکیٹ سمیت این ایف سی ارکان، کنسلٹنٹ اور قانونی ماہرین کے علاوہ سیکرٹری خزانہ علی رضہ بھٹہ، ایڈیشنل سیکرٹری محمد ادریس مروت اور متعلقہ سیکشن افسران نے شرکت کی اور معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ضروری فیصلے بھی کئے۔مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ وفاق نے اٹھارہویںآئینی ترمیم سے کافی پہلے بننے والے ساتویں این ایف سی کا پہلا ششماہی جائزہ اجلاس اسلام آباد میں کل منگل کو ایسے وقت میں طلب کیا ہے جب اگلی ششماہی اور متعلقہ مالی سال بھی ختم ہو چکا ہے حالانکہ مرکز ہمیں کچھ دینے میں مخلص ہوتا تو یہ اجلاس کم ازکم جنوری فروری کے دوران ہوتا تاکہ صوبوں کو اپنے مسائل و مطالبات پیش کرنے کے علاوہ عملی طور پر کچھہ مالی فوائد بھی مل سکتے ۔مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ موجودہ حالات میں وفاق کا صوبوں اور انکے عوام سے اخلاص اور طرز عمل سوالیہ نشان بن چکا ہے اور حقیقت میں صوبوں کی برداشت بھی جواب دینے لگی ہے۔وفاق نے ہمیں مطمئن کرنا ہے تو پرانے این ایف سی پر بے وقت اجلاس بلانے کی بجائے نئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کرے تاکہ صوبوں کے لوگوں کو کچھ ریلیف ملے، وہ سکون کی سانس لے سکیں اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور قدرتی آفات کے شکار غریب عوام اور تباہ حال انفراسڑکچر کی بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جا سکیں۔صوبائی وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ پرانے یعنی ساتویں این ایف سی کے صدارتی ایوارڈ میں شق نو کی ذیلی شق پانچ کے تحت جائزہ اجلاس سہ ماہی بنیا د پر بلانا طے ہے مگر بے وقت ششماہی اجلاس بلانا آئینی تقاضوں اور عوام کی غربت کا مذاق کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ پرانے این ایف سی پر اجلاس بلانے اور صوبوں کو سروے اور سٹڈیز کے جھمیلوں میں الجھانے سے بہتر ہے کہ وفاق نئے این ایف سی ایوارڈ کیلئے ورکنگ گروپ کا اجلاس بلائے اور نئی مردم شماری و مالی تقسیم سمیت اہم امور پر بنیادی فیصلے کرے جس کی بدولت مرکز اور صوبوں کے مابین ورکنگ ریلیشن شپ بہتر ہوگی اور عوام کا احساس محرومی دور ہو گا نیزقومی ہم آہنگی اور یکجہتی کو تقویت ملے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -