وارد کے چوری شدہ کالنگ کارڈز کی فروخت کا انکشاف، صارفین متاثر

وارد کے چوری شدہ کالنگ کارڈز کی فروخت کا انکشاف، صارفین متاثر

  

ملتان(کرائم رپورٹر) وارد ٹیلی کام کے چوری شدہ کالنگ کارڈز کا مارکیٹ میں فروخت ہونے کا انکشاف،جس سے لاکھوں کی تعد اد میں وارد کے صارفین متاثر ہوسکتے ہیں۔اس بارے معلوم ہوا ہے کہ ملتان میں ہائی کورٹ کے قریب واقع وارد بزنس سنٹر جو کہ جنوبی پنجاب کے 6کروڑ صارفین کا ہیڈ آفس کہلایا جاتا ہے ۔یہاں گزشتہ 4روز(بقیہ نمبر41صفحہ7پر )

سے مختلف صارفین نے اس بارے شکایت درج کرائی ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے دکان سے وارد کا کارڈ خریدا اور جب اسے سکریچ کر کے لوڈ کیا تو اکائنٹ میں بیلنس آنے کی بجائے اگے سے آپریٹر کی جانب سے (voucher stolen)لکھا آتا ہے مطلب کہ کارڈ سیریل نمبر چوری کا ہے۔ جس پر انہوں نے بزنس سنٹر رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ کسی نے مارکیٹ میں چوری کے سیریل نمبر والے کارڈز فروخت کیے ہیں۔جس سے لاکھوں کی تعداد میں صارفین کو نقصان کا سامنا پڑ سکتا ہے ،جس کی انہیں شکایات موصول ہورہی ہیں ۔اس بارے میں ریجنل ہیڈ وارد ٹیلیکوم ملتان عثمان شاہین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے" روزنامہ پاکستان "سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کے عملے نے اس بارے میں نہیں بتایا تاہم کالنگ کارڈز کی سیریل بلاک اس صورت میں کی جاتی ہے جب کالنگ کارڈ کی سیریل نمبر چوری کرلی جائے ،یا فرنچائز سے کالنگ کارڈز چوری کر لیے جائیں تو شکایات پرکمپنی اسے بلاک کر دیتی ہے۔البتہ ایسے بلاک شدہ کالنگ کارڈز کا مارکیٹ میں فروخت ہونا خطرناک فعل ہے ا سے کمپنی کو نقصان پہنچے گا اور صارفین کو بھی ۔اس بارے ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس کی مکمل انکوائری کریں گے۔ اس حوالے سے وہ میں ملوث ملزمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کریں گے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -