چین میں ایک گاؤں کنواروں کا بھی۔۔۔

چین میں ایک گاؤں کنواروں کا بھی۔۔۔
چین میں ایک گاؤں کنواروں کا بھی۔۔۔

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) شادی کرکے گھر بسانا تقریبا دنیا کے ہر فرد کی خواہش ہے لیکن چین میں کچھ انوکھا ہی ہے جہاں ایک پورا گاؤں نہ صرف کنواروں کا ہے بلکہ اس کے رہائشی تمام کے تمام مرد ہیں۔ لاویا نامی یہ گاؤںمشرقی چین میں واقع ہے ۔ 2014 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں کی کل 1600 کی آبادی میں 30 سے 55 سال کی عمر کے 112 کنوارے مرد تھے۔ جو انتہائی غیر معمولی بات ہے۔

گاؤں کے باسی کہتے ہیں یہاں کی ثقافت میں لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دی جاتی ہے،اسی وجہ سے 1980 کے دہائی کے بعد کمیونسٹ پارٹی کی ایک بچے والی پالیسی نے اسقاطِ حمل کو بڑھاوا دیاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکیسویں صدی میں مردوں کی شادی کے مواقع کم ہو گئے۔یہاں آمد و رفت مشکل ہے اور خواتین یہاں بسنا ہی نہیں چاہتیں۔لاویا چونکہ دور دراز علاقہ ہے اس لیے یہاں بنایا گیا کوئی نیا گھر بھی کسی عورت کو واپس آ کر کسی کی بیوی بننے پر رضا مند نہیں کر سکا۔یہ محض ’کنواروں کا گاؤں نہیں ہے بلکہ یہ چینی دیہات کی مشکلات کا عکاس بھی ہے۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -