غیر سفارتی رویہ اختیار کرنے پر وائٹ ہاﺅس کی پاکستانی سفیر کو سرزنش، خط لکھ دیا

غیر سفارتی رویہ اختیار کرنے پر وائٹ ہاﺅس کی پاکستانی سفیر کو سرزنش، خط لکھ ...
غیر سفارتی رویہ اختیار کرنے پر وائٹ ہاﺅس کی پاکستانی سفیر کو سرزنش، خط لکھ دیا

  

واشنگٹن (ویب ڈیسک) ایک ایسے موقع پر جب پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی حمایت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اور وہ بھی خصوصاً امریکی انتظامیہ میں جہاں پاکستان کا مثبت تاثر مضبوط کیا جا سکے، اس وقت وائٹ ہاﺅس کی جانب سے امریکا میں متعین پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی کی سرزنش کی گئی ہے۔ وائٹ ہاﺅس نے اپنے خط میں جلیل عباس جیلانی کو ان کے اقدامات پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کر د جنگجوﺅں کیخلاف ترکی کی کارروائی ناقابل قبول ہے ، اسے فوری بند ہونا چاہئیے : امریکہ

روزنامہ جنگ کے مطابق وائٹ ہاﺅس کے سرکاری خط میں اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور غیر سفارتی اقدامات کرنے پر جلیل عباس جیلانی سے ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق، یہ خط سفیر کی جانب سے مئی 2016ءمیں ایک تصویر ٹوئیٹر پر پوسٹ کرنے کے سلسلے میں جاری کیا گیا ہے۔ اس تصویر میں جلیل عباس جیلانی، ان کی اہلیہ اور امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹوئیٹ میں جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ ”پاکستان ہاﺅس میں امریکی خاتونِ اول کی مہمان نوازی ہمارے لیے باعث مسرت تھی۔“ تصویر کے ساتھ جاری کی جانے والی اس ٹوئیٹ سے ایسا تاثر ملا کہ سفیر جلیل عباس جیلانی کے امریکا کے صدر اور ان کے اہل خانہ (فرسٹ فیملی) کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ نتیجتاً، میڈیا کے ایک حلقے نے یہ تجزیہ کیا کہ جلیل عباس جیلانی اور مشیل اوباما کے درمیان باہمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بھارتی ریاست کیرالہ سے شروع ہونیوالی پریم کہانی آسٹریلیا میں اپنے انجام کو پہنچ گئی، اختتام ایسا کہ ہرآنکھ اشکبار ،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے۔ اوباما انتظامیہ نے اس وقت سبسڈی پر پاکستان کو 8 لڑاکا طیارے فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ امریکا نے طالبان رہنما ملا اختر منصور کو ہلاک کرنے کیلئے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے ڈرون حملہ بھی کیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مناسب نہیں تھے لیکن سفیر کی ٹوئیٹ سے ایسا لگا کہ معاملات بالکل ٹھیک ہیں۔ ذریعے کے مطابق، وائٹ ہاﺅس اس تاثر سے مایوس ہوا کیونکہ ایسا تاثر جعلی تھا، وائٹ ہاﺅس نے یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ خاتونِ اول کا سفیر کی رہائش گاہ کا مختصر دورہ ذاتی نوعیت کا تھا اور اس دورے سے کسی بھی طرح کا سیاسی فائدہ اٹھانا غیر پیشہ ورانہ حرکت ہے۔ مسز اوباما کو سفیر کی رہائش گاہ، جسے پاکستان ہاﺅس کے نام سے پہچانا جاتا ہے، پر آنے کی دعوت دی گئی تھی تاکہ وہ سفیر کے بیٹے کی گریجویشن کی تقریب میں شرکت کر سکیں۔ سفیر جلیل عباس کے چھوٹے صاحبزادے اسی اسکول میں پڑھتے ہیں جہاں صدر اوباما کی صاحبزادیاں زیر تعلیم ہیں۔

روزنامہ پاکستان کی تازہ ترین اور دلچسپ خبریں اپنے موبائل اور کمپیوٹر پر براہ راست حاصل کرنے کیلئے یہاں کلک کریں‎

اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دفتر خارجہ نے بھی اس ٹوئیٹ کا نوٹس لیا اور اسے بھی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تصویر ٹوئیٹ کرنے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد سفیر کو اسے ہٹانا پڑا۔ جب سفیر سے اس واقعہ پر موقف معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے ایک ہی سطر کا جواب دیتے ہوئے اسے غلط قرار دیا۔ جلیل عباس جیلانی نے دسمبر 2013ءمیں سفارت کا عہدہ سنبھالا تھا، وہ 2014ئ میں ریٹائر ہونا تھے لیکن انہیں دو سال کی توسیع دی گئی۔ وہ آئندہ سال کے اوائل میں عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -