’بھارت کی اس حرکت سے پورے ایشیاءمیں رہنے والوں کی زندگیاں اب خطرے میں ہیں!‘ ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی، بھارت کا وہ خطرناک کام بے نقاب کردیا جس کے بارے میں ہم نے سوچا ہی نہ تھا

’بھارت کی اس حرکت سے پورے ایشیاءمیں رہنے والوں کی زندگیاں اب خطرے میں ہیں!‘ ...
’بھارت کی اس حرکت سے پورے ایشیاءمیں رہنے والوں کی زندگیاں اب خطرے میں ہیں!‘ ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی، بھارت کا وہ خطرناک کام بے نقاب کردیا جس کے بارے میں ہم نے سوچا ہی نہ تھا

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) قطب شمالی اور قطب جنوبی کے بعد کرہ ارض پر برف کا سب سے بڑا زخیرہ کوہ ہمالیہ، کوہ ہندوکش اور سطح مرتفع تبت کا علاقہ ہے، جسے ”تیسرا قطب“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس خطے کی بدقسمتی دیکھئیے کہ ماحولیاتی آلودگی کا چیمپیئن قرار پانے والے ملک بھارت کے طفیل نہ صرف دنیا اس تیسرے قطب سے محروم ہونے والی ہے بلکہ ایشیائی ممالک کی سلامتی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہمالیہ، ہندوکش اور سطح مرتفع تبت میں واقع گلیشیئر حیرتناک رفتار سے پگھل رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ بھارت کی پیدا کردہ غیر معمولی فضائی آلودگی اور خصوصاً بلیک کاربن کا ڈھیروں اخراج ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ تیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئر اس خطے میں آباد اربوں انسانوں کی زندگی کے لئے خطرہ بن گئے ہیں۔

کیا آپ اس تصویر میں چیتا ڈھونڈ سکتے ہیں؟ ایک تصویر جس نے دنیا کو چکرا کر رکھ دیا

تحقیقات میں گلیشیئر پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ بھارت میں پیدا ہونے والی فضائی آلودگی اور فوسل ایندھن و حیاتیاتی ایندھن جلانے کو قرار دیاگیا ہے۔ اس ایندھن کے جلنے کے باعث بلیک کاربن پیدا ہوتا ہے جو فضا میں ایک دبیز تہہ بنادیتا ہے، جس کی وجہ سے سورج سے زمین پر منتقل ہونے والی حرارت ماحول میں واپس نہیں جاسکتی اور درجہ حرارت بتدریج بڑھتا چلا جاتا ہے۔ برف کی سطح پر بھی بلیک کاربن کی باریک تہہ بن جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ زیادہ حرارت جذب کرتی ہے اور جذب ہونے والی حرارت کا اخراج بھی نہیں ہوپاتا۔

تیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے منفی اثرات یوں تو تمام دنیا پر مرتب ہوں گے لیکن ان گلیشیئرز کے قریب واقع ایشیائی ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، سنگین خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔ اس موضوع پر تحقیقات کرنے والے متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ نہ کیا اور بے تحاشہ ماحولیاتی آلودگی اور بلیک کاربن کے اخراج پر قابو نہ پایا تو چند دہائیوں میں جنوبی ایشیاءسمندر برد ہو چکا ہو گا ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -