ٗٗعدلیہ کے ساتھ وکلاء اور سیاستدانوں کے برتاؤکا فرق!

ٗٗعدلیہ کے ساتھ وکلاء اور سیاستدانوں کے برتاؤکا فرق!
 ٗٗعدلیہ کے ساتھ وکلاء اور سیاستدانوں کے برتاؤکا فرق!

  

مہذب معاشروں میں انصاف کی فراہمی کے لئے بنچ اور بار لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں بنچ اور بار کے درمیان اکثر تنازعات جنم لیتے رہتے ہیں۔چند روز قبل ایسا ہی ایک تنازعہ ملتان ہائی کورٹ بنچ کے جج اور ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر کے درمیان شروع ہوا ، جو اس قدر بڑھا کہ ایک بار پھر ملک میں وکلاء گردی کے واقعات رونما ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ قانون کے محافظ خود قانون کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں۔

طوفانِ بد تمیزی ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ملتان میں جسٹس قاسم خان کے ساتھ بر سر عدالت بد تمیزی کرنے والے اور ان کے کمرے کے باہر لگی ان کے نام کی تختی توڑنے والے ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر شیر زمان قریشی اور ان کے رفقاء نے قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے طاقت کے زور پر عدلیہ کو یر غمال بنانے کا طرزِ عمل اختیار کیا ہوا ہے اور ملک بھر سے وکلاء کی بڑی تعداد ناجائز طور پر ان کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں 5رکنی فل بنچ کی طرف سے ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے بعد تنازعہ اس قدر شدت اختیار کر گیا ہے کہ جب فل بنچ نے شیر زمان قریشی کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کئے تو وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے اس فیصلے کے خلا ف ملک بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور مطالبہ کیا کہ ملتان بار کے صدر کے خلاف جاری قانونی کارروائی کو فوری روکا جائے اور وارنٹ گرفتاری واپس لئے جائیں۔ ججوں اور وکلاء کے درمیان تناؤ یا ٹکراؤ میں اس وقت شدت آئی جب 22اگست کو فل بنچ نے صدرملتان بار کی وکالت کا لائسنس منسوخ کر کے پولیس کو ان کی گرفتاری کا حکم دیا ۔ اس پر ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر کے حامی وکلاء مشتعل ہوگئے اور یہ اشتعال انگیزی اس قدر بڑھی کہ کمرہ عدالت کا آہنی گیٹ اکھاڑ دیا گیا ، کمرہ عدالت پر حملہ کی کوشش کی گئی ، لاہور ہائی کورٹ کی عمارت پر شدید پتھراؤ کیا گیا ، جس سے کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے، وکلاء نے صحافیوں اور پولیس اہلکاروں پر بھی حملے کئے۔ اس کے بعد یہ ہنگامہ آرائی پھیل گئی اور وکلاء نے شاہراہِ قائداعظم بلاک کر کے پورے علاقہ میں کاروبارِ زندگی معطل کر دیا۔بار اور بنچ کے درمیان تصادم نظامِ انصاف کی موت کے مترادف ہے۔ایک طرف عدلیہ ملک کا مقدس ترین ادارہ ہے،جس کے ذمہ انصاف کی فراہمی کا فریضہ ہے، جبکہ دوسری جانب وکلاء ہیں، جو انصاف کی فراہمی کے لئے عدلیہ اور ججوں کی مدد کر تے ہیں اور ان کو قانون و انصاف کا محافظ بھی کہا جاتاہے۔ کالا کوٹ پہننے والے قانون کے ان محافظوں کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کے خلاف جاری اس شر انگیزی کو کم سے کم الفاظ میں بھی شرمناک کہا جا سکتا ہے۔

ایک ادنیٰ سطح کا قانون دان بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی فل بنچ کے سامنے ملتان بار کے صدر کی پیشی ضروری تھی اور انہیں قوانین و عدالتی پروٹوکول کے احترام میں سرنڈر کرتے ہوئے اپنے آپ کو بنچ کے سامنے پیش کرنا چاہئے تھا، لیکن انہوں نے نہ صرف فل بنچ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا، بلکہ اَنا کا مسئلہ بنا کر اپنے حامی وکلاء کے ساتھ مل کر اس معاملہ کو عدلیہ کے ساتھ ایک جنگ کی شکل دے دی ۔وکلاء کے اس شرمناک طرزِ عمل کے بعد عدلیہ کی توقیر پر اور قانون و انصاف کی عملداری پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ملتان بار کے صدر نے فل بنچ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا اور نہ صرف انکار کیا ،بلکہ پہلے سے بڑھ کر توہینِ عدالت کی کارروائیاں کیں اور ملک گیر سطح پر عدالتی نظام کو جام کرنے کی بھی کوشش کی ۔ آج اگر اعلیٰ عدلیہ نے اپنی صفوں میں موجود ان قانون شکن وکلاء کا کڑا محاسبہ نہ کیا تو کل یہی عدلیہ یا اس کا کوئی فل بنچ کسی حکومتی اور عوامی نمائندے کو کس حیثیت سے طلب کرنے کی ہمت کر سکے گا؟یہ وکلاء گردی اور وکلاء کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ کی بار بار توہین دیکھ کر تو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف جو عوام کے منتخب کردہ نمائندے تھے، ان کی طرف سے عدلیہ کے فل بنچ کے حکم پر’’متنازعہ‘‘ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے فل بنچ کی طرف سے اپنے خلاف آنے والے نا اہلی کے فیصلے کو بلا چوں و چراں تسلیم کرنے کے اقدام کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرنا چاہئے کہ انہوں نے اکثریتی عوامی حمایت حاصل ہونے کے باوجود اور اپنے حق میں ملک گیر احتجاج، بلکہ پہیہ جام کر دینے کی طاقت رکھنے کے باوجود نہ صرف عدلیہ کے حکم پر خود کو جے آئی ٹی کے روبرو پیش کیا، بلکہ فل بنچ کی طر ف سے کمزور بنیادوں پر کئے گئے سخت فیصلے کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ کے منصب کو خیر باد کہہ کر عدالتِ عظمیٰ کے وقار کا جھنڈا مزید بلند کر دیا ،جبکہ اس کے بر عکس آج خود اسی عدلیہ سے تعلق رکھنے والے وکلاء کا طرزِ عمل عوام کے اندر شدید مایوسی پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو دوسروں کو قانون کے سبق پڑھاتے نہیں تھکتے، لیکن خود اس قانون کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔عدلیہ کا تقدس مجروح کرنے والے ان وکلاء کو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی جیسے سیاست دانوں سے عدلیہ کا احترام سیکھنے کی ضرورت ہے۔حقیقت حال یہ ہے کہ اگر اس تمام صورتِ حال کے بعد اعلیٰ عدلیہ ان شر پسند اور قانون شکن وکلاء کے آگے ’’بلیک میل‘‘ ہو گئی اور عدلیہ نے وکلاء کی صفوں میں موجود ان کالی بھیڑوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں نہ لائی تو آئندہ ملک کے عوام اس کو مثال بنا کر وزیر اعظم یا کسی بھی عوامی نمائندے کے خلاف ہونے والے عدالتی فیصلے کو ماننے سے اسی طرح انکار کر دیں گے اور عدالتوں کو دباؤ میں لانے کے لئے ملک گیر سطح پر احتجاجی مہم چلا کر عدالتوں کو اپنے فیصلے واپس لینے پر مجبور کیا کریں گے ۔

مزید : کالم