جہد مسلسل کی مثال : ادیب جاودانی

جہد مسلسل کی مثال : ادیب جاودانی
 جہد مسلسل کی مثال : ادیب جاودانی

  

ادیب جاودانی کا حقیقی نام تو علی محمد تھا مگر چونکہ انہیں شاعری سے بھی شغف تھا اور وہ شعر بھی کہتے تھے اس لئے انہوں نے اپنا تخلص ادیب جاودانی رکھ لیا جو بعد ازاں زبان زد عام ہو گیا۔ ان کی منزل اخبار کے لئے رپورٹنگ نہ تھی۔ اس لئے انہوں نے 1977ء میں شہر لاہور کا رخ کیا اور ’’اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں۔

قسمتِ نوع بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں،،کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے شاہ عالم کے علاقے میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر مون لائٹ سکول سسٹم کے نام سے ایک کامیاب تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی۔ آغاز میں یہ سکول صرف ایک کمرے پر مشتمل تھا ۔ اس سکول کو بام عروج تک پہنچانے میں بلا شبہ ان کی اہلیہ نے بھی شب و روز محنت کی اور ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ آج اس سکول کی لاہور کے علاوہ گجرات اور فیصل آباد میں بھی کل 8 شاخیں قائم کی جا چکی ہیں۔ وہ صرف انسانیت کے قدردان نہیں تھے، بلکہ اس سے بڑھ کر دوست نواز اور تعلیم دوست بھی تھے۔ انہیں یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ گزشتہ 3 دہائیوں سے مسلسل آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوی ایشن کے بلامقابلہ صدر منتخب ہو رہے تھے۔

وطن عزیز کے تعلیمی نظام میں ایک قابل ذکر کردار نجی تعلیمی اداروں کا ہے اور نجی تعلیمی اداروں کے گوناگوں مسائل کو حل کروانے میں ادیب جاودانی جیسی خدمات کسی کے حصے میں نہیں آئیں۔ اس سلسلے میں وہ اپنی وفات کے دن تک فعال رہے۔ انہوں نے 1981ء میں مون ڈائجسٹ کا اجراء کیا اس کے ساتھ ساتھ نوائے وقت میں احوال دیگر کے عنوان سے کالم نگاری کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ ان کا کالم ان کی رسم قل والے دن بھی اخبار کی زینت بنا۔

وہ ملک کی مشہور اخباری تنظیموں سی پی این ای اور اے پی این ایس سے بھی وابستہ رہے اور ان میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے۔ وہ ایک نظریاتی اور محب وطن شخصیت کے مالک تھے۔ وہ صوفی برکت علی لدھیانوی کے بہت بڑے معتقد تھے۔ انہوں نے مون ڈائجسٹ کے کئی ایک خصوصی شمارے صوفی برکت علی کے نام سے معنون کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ ان کی زندگی جہد مسلسل، مستقل مزاجی، لگن، شوق اور ولولے سے عبارت ہے۔ انہوں نے صحافتی اور تعلیمی حلقوں میں انتھک محنت سے اپنا آپ منوایا ہے۔

مزید : کالم