کیا سندھ حکومت کے پاس کوئی ٹھوس شواہد ہیں؟

کیا سندھ حکومت کے پاس کوئی ٹھوس شواہد ہیں؟

سندھ کی حکومت نے مردم شماری کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے اور اِس مسئلے پر غور کے لئے کل جماعتی کانفرنس(اے پی سی) بلانے کا اعلان کیا ہے،جبکہ صوبے کی باقی جماعتیں بھی حکومت کے ساتھ یک زبان ہیں۔پیپلزپارٹی کے رہنما اور سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ سندھ کی آبادی کم ظاہر کرنا وفا ق کی سازش ہے۔سندھ اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا اپنا حق لے کر رہیں گے۔اُن کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ایک منصوبہ بندی کے تحت سندھ کی آبادی کم ظاہر کی ہے۔ سرائیکستان عوامی اتحاد کے رہنماؤں نے نتائج مسترد کرتے ہوئے درست مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔نثار کھوڑو کا یہ بھی کہنا ہے کہ مردم شماری کے دوران سندھ نے خدشات ظاہر کر کے مطالبہ کیا تھا کہ گھر شماری کے دوران ہی گھر کے ہر فرد کو فارم کی فوٹو کاپی فراہم کی جائے تاکہ کوئی بھی گھر شمار ہونے سے نہ رہ جائے،مگر وفاقی حکومت نے سندھ کے خدشات پر کان نہیں دھرے اور لمبے عرصے تک مردم شماری کے نتائج راز میں رکھے گئے ہیں۔وفاقی حکومت کا یہ عمل سندھ کے ساتھ بددیانتی اور سازش ہے۔

وفاقی حکومت نے چھٹی مردم شماری اور خانہ شماری کے عبوری نتائج پر سندھ حکومت کے اعتراضات مسترد کر دیئے ہیں اور کہا ہے کہ نتائج میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی یہ اعداد و شمار شفاف طریقے سے جمع کئے گئے۔ مردم شماری کے عبوری نتائج کی اشاعت بھی بذریعہ قانون سازی جلد از جلد ممکن بنائی جائے گی تاکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نئے اعداد و شمار کے مطابق حلقہ بندی کا عمل شروع کر سکے۔فی الحال حلقوں کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے، نئے حلقے بنانے کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہو گی۔رکن مردم شماری حبیب اللہ خٹک نے بتایا ہے کہ بلوچستان کے سوا تینوں صوبوں نے خصوصی رابطہ کمیٹیاں تشکیل دی تھیں تاکہ مردم شماری کے عمل کا مشاہدہ اور نگرانی کی جا سکے اُن کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے تفصیلی نتائج کی تیاری کے لئے سات سے آٹھ ماہ کا وقت درکار ہو گا۔

ابھی مردم شماری شروع بھی نہیں ہوئی تھی اور محض تیاریوں کے اعلانات سامنے آ رہے تھے، تو بعض حلقے اِس سلسلے میں ’’خدشات‘‘ کا اظہار کر رہے تھے جن کی سرے سے کوئی بنیاد ہی نہیں تھی،البتہ یہ اندازہ ضرور ہو گیا تھا کہ مردم شماری کے نتائج کو مخصوص مفادات کے تحت متنازعہ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔اب بظاہر ان کوششوں کا آغازکر دیا گیا ہے ابھی محض عبوری نتائج سامنے آئے ہیں،جنہیں سندھ کی صوبائی حکومت نے مسترد کر دیا یہ استرداد کس بنیاد پر کیا گیا اور اعداد و شمار کو چیلنج کیا جا رہا ہے،اُن کی حقیقت کیا ہے اس کی کوئی تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں،محض خدشات کی بنیاد پر ایسا ایشو کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی ہے پہلے تو یہ مفروضہ قائم کیا گیا کہ سندھ کی جتنی آبادی بتائی گئی ہے عام خیال کے مطابق یہ آبادی اس سے زیادہ ہونی چاہئے،اب اِس کی بنیاد کیا ہے؟کسی کو کچھ معلوم نہیں،کیا سندھ کی حکومت کے پاس کوئی متبادل اعداد و شمار ہیں جو اس نے اپنے طور پر جمع کئے ہوں جن کی بنیاد پر وفاقی حکومت کے اعلان کردہ عبوری نتائج کو چیلنج کیا جا رہا ہے؟اگر سندھ حکومت کے پاس واقعی ایسے کوئی اعداد و شمار ہیں تو وہ سامنے لائے اور ان کی بنیاد پر اپنا مقدمہ کھڑا کرے،لیکن اس کی بجائے سارے معاملے کو ایک دم سیاسی بنا دیا گیا ہے، جس کی سرے سے کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔گویا پہلے ایک بات فرض کی گئی پھر اس کے گرد ایک کہانی گھڑی گئی اور یہ کہہ دیا گیا کہ یہ نتائج قبول نہیں ہیں،کیوں قبول نہیں ہیں، اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی جا رہی ہے، ساتھ ہی آل پارٹیز کانفرنس کا اعلان کر دیا گیا ہے یعنی تنازعہ پہلے بنانے کی کوشش کی گئی اور اس پر غور و خوض کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بعد میں ہو گی،حالانکہ یہ پراسس اس کے برعکس ہونا چاہئے تھا، اگر واقعی کوئی جائز شکایات تھیں اور ہیں اور ایسی شکایات کے حق میں شواہد بھی موجود ہیں تو پہلے کانفرنس میں اس پر اچھی طرح غور کر لیا جاتا اور اگر واقعتا کوئی شواہد سامنے آتے تو اُن کی روشنی میں کوئی لائحہ عمل بھی بنایا جا سکتا تھا، لیکن ایسے لگتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے جذبات کو اُبھارنے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے، حالانکہ پیپلزپارٹی جس کی سندھ میں حکومت ہے اور شہری سندھ کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان اختلافات کی جو پوزیشن ہے اور جس طرح دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیاں کرتی رہتی ہیں اور ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے کراچی کے میئر ترقیاتی فنڈز نہ ملنے کے متعلق جو شورو غوغا ہر وقت کرتے رہتے ہیں اُن کو پیشِ نظر رکھیں تو دونوں جماعتوں کے نقطہ نظر میں مقام اتصال کہیں نظر نہیں آتا،چند روز قبل ایم کیو ایم پاکستان نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی تو پیپلزپارٹی سمیت کوئی جماعت وہاں نہیں گئی،کیا اب ایم کیو ایم پاکستان سب بھول کر شریک ہو گی؟اِس معاملے میں بہت ہی جلد بازی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے،اِدھر مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں عبوری نتائج سامنے آئے اور کوئی وقت ضائع کئے بغیر سندھ حکومت نے اُنہیں بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے محض ظن و تخمین کی بنیاد پر مسترد کر دیا اور ساتھ ہی اے پی سی بھی بُلا لی۔

سندھ حکومت کو اعتراض ہے کہ طویل عرصے تک نتائج کو راز میں رکھا گیا یہ بھی خوب بات ہے،مردم شماری مئی میں مکمل ہوئی اس کے بعد عبوری نتائج تین ماہ سے بھی کم وقت میں تیار ہو گئے،حالانکہ حتمی نتائج کے لئے مزید آٹھ ماہ تک درکار ہیں اِس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نتائج کو کسی خاص مقصد کے لئے’’راز‘‘ میں رکھا گیا تھا۔اگر سندھ کو ایسے ہی خدشات تھے تو کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ پیپلزپارٹی اُس وقت مردم شماری کرا لیتی جب وفاقی حکومت بھی اس کے پاس تھی اور سندھ کی حکومت بھی، جو مردم شماری نو سال کی تاخیر سے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اب ہوئی ہے یہ دراصل 2008ء میں ہو جانی چاہئے تھی اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومتیں قائم ہو چکی تھیں اگر ایسا ہو جاتا تو وفاق اور سندھ میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہونے کی وجہ سے کوئی تنازعہ بھی پیدا نہ ہوتا،لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپنی ذمے داری پوری نہیں کی،یہاں تک کہ2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بن گئی اس حکومت نے بھی اپنی ذمے داری سے پہلو تہی کیا۔معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو بھی یہ موقف اختیار کیا گیا کہ مردم شماری کے لئے فوج دستیاب نہیں ہے اِس لئے فی الحال اسے ملتوی رکھا جائے،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہر کام کے لئے فوج کی خدمات حاصل کرنا ضروری نہیں ہے،پھر حکومت کو دو ماہ کا وقت دیا کہ اس عرصے میں مردم شماری کا آغاز کر دیا جائے چنانچہ حکومت کو اِس حکم کے تحت ایسا کرنا پڑا۔

سندھ حکومت کو مردم شماری کے نتائج پر جو اعتراضات ہیں وہ ٹھوس شکل میں سامنے آنے چاہئیں اگر یہ خدشہ حقیقت پر مبنی ہے کہ سندھ کی آبادی کم ظاہر کی گئی ہے تو پھر اس کے ٹھوس شواہد بھی سامنے آنے چاہئیں۔کیا سندھ حکومت کے پاس ایسے کوئی ثبوت موجود ہیں یا وفاق کے ساتھ ایک تنازع کھڑا کرنے کے لئے یہ معاملہ اُٹھا دیا؟اس سے پہلے بھی احتساب کمیشن کے معاملے پر وفاق اور سندھ کے اختلافات موجود ہیں۔سندھ اسمبلی نے ایک ایسے معاملے پر قانون سازی کر دی ہے جس پر وفاقی قانون پہلے سے موجود ہے، ایسی صورت میں نئی قانون سازی کی ضرورت نہ تھی،لیکن سندھ حکومت نے صوبائی خود مختاری کے نام پر ایک ایسا قانون منظور کر دیا جو آئین کے صریحاً خلاف ہے،ابھی تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوا کہ ایک نیا تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش شروع کر دی گئی ہے، حالانکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہمیشہ ہی وفاق اور صوبے میں الگ الگ سیاسی جماعتوں کی حکومتیں رہیں، کل کلاں ایسی صورتِ حال بھی پیدا ہو سکتی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک ہی سیاسی جماعت کے پاس ہوں،سندھ حکومت اگر ٹھوس شواہد سامنے لاتی ہے تو وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ ان پر غور کرے اور مناسب ازالہ بھی کرے، لیکن اگر ہر وقت کوئی نہ کوئی ہنگامہ کھڑا رکھنے کی حکمتِ عملی کے لئے مردم شماری کے نتائج کو استعمال کیا گیا ہے تو بہت ہی افسوس ناک ہے۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...