مظلوم خواتین اور خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی

مظلوم خواتین اور خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی

سپریم کورٹ نے پشاور، سوات، ایبٹ آباد اور کوہاٹ میں مصیبت زدہ خواتین کی امداد، تحفظ اور دیکھ بھال کے لئے بنائے گئے تمام کرائسسز سنٹرز بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت کی پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کو مسترد کر دیا ہے۔ جسٹس دوست محمد خان نے یہ ریمارکس بھی دیئے ہیں کہ خواتین کرائسسز سنٹرز کو بند کرنا خیبر پختونخوا میں گورننس کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ تحریک انصاف نے خواتین کی بہتری کے نام پر ووٹ لئے، اب اُن سے بدسلوکی کیوں کی جارہی ہے؟ جسٹس دوست محمد خان نے خیبرپختونخوا میں حکومتی کارکردگی پر جو ریمارکس دئیے ہیں، ان پر تحریک انصاف کی قیادت اور حکومت کو غور کرنا چاہئے۔ کیا یہ قول و فعل کا کھلا تضاد نہیں؟حکومت عالمی معاہدوں کے تحت سالانہ کروڑوں ڈالر امدادلیتی ہے، پی ٹی آئی خواتین کی اکثریت والی جماعت ہے لیکن خواتین کو ہی کیوں حقوق سے محروم کر رہی ہے؟ ملکی آبادی میں خواتین کو اہم حیثیت حاصل ہے اور کوئی بھی سیاسی جماعت یا حکومت خواتین کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتی۔ پاکستان تحریک انصاف تو اپنے جلسوں اور تقریبات میں خواتین کے لئے خصوصی انتظامات کرتی ہے، جہاں تک کے پی کے میں خواتین کے کرائسسز سنٹرز کو بند کرنے کی بات ہے تو اس فیصلے کی ہر سطح پر مخالفت ہی ہوگی۔ حیرت ہے کہ پارٹی چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ان سنٹرز کو بند کر دیا، جو مصیبت زدہ، بے سہارا اور مظلوم خواتین کی امداد کے لئے بنائے گئے تھے۔کرائسسزسنٹرز کے لئے انٹرنیشنل ڈونر ایجنسیوں سے خاصی معقول گرانٹ بھی ہر سال ملتی ہے، چنانچہ حکومتوں کو زیادہ مالی بوجھ برداشت نہیں کرنا پڑتا۔ ایسے لگتا ہے کہ سیاسی ضرورت پوری ہونے کے بعد مستحق اور مظلوم خواتین کی امداد کے کام کو فضول سمجھ لیا گیا۔ اسی لئے سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد خان نے تمام سنٹرز بحال کرنے کا حکم دیا۔ ویسے یہ سنٹرز پشاور ہائی کورٹ نے بحال کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف کے پی کے حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل کررکھی تھی، جو مسترد ہوگئی۔ اگر گڈ گورننس یہی ہے تو پھر حکومتی معاملات کا اللہ ہی حافظ۔ امید ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے تمام کرائسسز سنٹرز تمام سہولتوں کے ساتھ کھولے جائیں گے۔

مزید : اداریہ