اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ (14)

اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ (14)

مولاناصفی الرحمن مبارکپوری اپنی کتاب " الرحیق المختوم " میں لکھتے ہیں : "نبی کریمؐ ایسے جمالِ خلق اور کمالِ خلق سے متصف تھے جو حیطۂ بیان سے باہر ہے۔ اس جمال و کمال کا اثر یہ تھا کہ دل آپؐ کی تعظیم اور قدرومنزلت کے جذبات سے خود بخود لبریز ہو جاتے تھے۔ چنانچہ آپؐ کی حفاظت اور اجلال و تکریم میں لوگوں نے ایسی ایسی فداکاری و جاں نثاری کاثبوت دیا جس کی نظیر دنیا کی کسی اور شخصیت کے سلسلے میں پیش نہیں کی جا سکتی۔ آپؐ کے رفقاء اور ہم نشین وارفتگی کی حد تک آپؐ سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گوارا نہ تھا کہ آپؐ کو خراش تک آ جائے خواہ اس کے لیے ان کی گردنیں ہی کیوں نہ کاٹ دی جائیں۔ اس طرح کی محبت کی وجہ یہی تھی کہ عموماً جن کمالات پر جان چھڑکی جاتی ہے ان کمالات سے جس قدر حصہ وافر آپؐ کو عطاہوا تھاکسی اور انسان کو نہ ملا۔ "

اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جس طرح حضورؐ کی توقیر و تعظیم آپؐ کی حیات میں لازم تھی اسی طرح آپؐ کی وفات کے بعد بھی آپؐ کا احترام لازم ہے۔ (قاضی عیاض / الشفاء )

یہ تمام آیات اورا حادیث و آثار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایمان اور ادب بارگاہ مصطفی ؐ لازم و ملزوم ہیں کہ جو مذہب اپنے ماننے والوں کو رسولؐ کا اس درجہ مطیع اورفرماں بردار بناتا ہے کہ رسولؐ کی محفل میں اونچی آواز سے بات کرنے ، رسولؐ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آوازیں دینے ،رسولؐ سے آگے بڑھنے اور رسولؐ کو عام انسانوں کی طرح مخاطب کرنے کو " تمام اعمال کے ضیاع " کے مترادف قرار دے تو پھر پیروانِ محمد ؐ سے یہ کیسے تو قع کی جاسکتی ہے کہ کوئی بد بخت آپؐ کی ذات کو (نعوذ باللہ) ہدف طعن و ملامت بنائے اور اسے آزادی اظہار کے نام پر اپنے مکروہ اور شنیع دھندے کو دہرانے کا موقع دیا جائے تاکہ دوسرے بھی اس سے حوصلہ پکڑیں اور پھر توہین کے بازار کو گرم ہونے کا موقع دیا جائے۔ ایسا ممکن نہیں ہے لہٰذا ایسی ناپاک جسارت کی بیخ کنی کے لئے اسلامی قانون فوراً حرکت میں آتا ہے اور شاتم رسولؐ کو کیفر کردار تک پہنچاکر احترام رسولؐ کے قرآنی تقاضے کی تکمیل کرتا ہے۔

.iiiاسلام میں نبی ؐ کے اسو ۂ حسنہ کا واجب الاتباع ہونے کا تصور :

اسلام میں سرور عالمؐ کا جو مقام ہے اس کا احاطہ نہ کسی عدالتی فیصلے میں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی بشر کے لیے ممکن ہے کہ آپؐ کے مرتبہ ومقام کو ضبط تحریر میں لاسکے۔ خود اللہ رب العالمین ہی کی ذات آپؐ کے مقام و مرتبہ کو بہتر جانتی ہے ۔

آپؐ کی ذات بابرکات جہاں ایک طرف وحی الٰہی کی شارح ہے،وہیں دوسری طرف شارع بھی۔ آپؐ کاہر قول ' ہر فعل اور ہر عمل اللہ رب العزت کی مرضی و منشاء کا ترجمان ہے۔ اسلام نے اپنے پیغمبرؐ کی زندگی کو انسانیت کے لیے ایک بہترین نمونہ بنایا اور مسلمانوں کے لیے آپ ؐکی پیروی کو خدا کی محبت کا ذریعہ بتایا۔ قرآن مجیدکی واضح تصریحات کی روشنی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے دور سے آج تک تمام مسلمانوں نے بالاتفاق یہ تسلیم کیا ہے کہ قرآن کے بعد قانون کا دوسرا ماخذ نبی کریمؐ کی سنت ہے۔ سنت کے ماخذِ قانون ہونے اور واجب الاتباع ہونے پر امت کا اجماع ہے۔ امت محمد یہ کا یہ واضح مؤقف ہے کہ آپؐ کی ذات بحیثیت معلم و مربی ، بحیثیت پیشوا و نمونہ تقلید ، بحیثیت شارح قرآن مجید ، بحیثیت قاضی ، بحیثیت حاکم و فرمانروا اور بحیثیت شارع، اتباع اور پیروی کی لازم حیثیت رکھتی ہے۔

بیاں کے روپ میں قرآن تجھ پہ اترا تھا

عمل کے روپ میں قرآں عطاکیاتونے

(نعیم صدیقی)

جیسا کہ پہلے بیان کیا ہے کہ رسولؐ شارح قرآن بھی تھے اور خدا کے مقرر کردہ شارع بھی۔ان کا منصب یہ بھی تھا کہ " لوگوں کے لیے خدا کے نازل کردہ احکام کی تشریح کریں " اور یہ بھی کہ " پاک چیزیں لوگوں کے لیے حلال کریں اور ناپاک چیزوں کو اُن پر حرام کر دیں"۔ قرآن مجیدبار بار اس امر کی صراحت کرتا ہے کہ رسول ہونے کی حیثیت سے جو فرائض رسولؐ اللہ پر عائد کیے گئے تھے اور جو خدمات آپؐ کے سپر دکی گئی تھیں اْن کی انجام دہی میں آپؐ اپنے ذاتی خیالات و خواہشات کے مطابق کام کرنے کے لیے آزاد نہ تھے بلکہ وحی الٰہی کے پابند تھے جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے کہ میں تو صرف جو کچھ میرے پاس وحی آتی ہے اس کا اتباع کرتا ہوں

آپ کہہ دیجئے! کہ میں اس کی پیروی کرتا ہو ں جو مجھ پر میرے رب کی طرف سے حکم بھیجا گیا ہے۔

ترجمہ:’’کہ تمہارے ساتھی نے نہ راہ گم کی ہے اور نہ ٹیڑھی راہ پر ہے۔اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے‘‘ اور عقل بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اگر کسی شخص کو خدا کی طرف سے رسول مقرر کیا جائے تو پھر اُسے رسالت کا کام اپنی خواہشات و رجحانات اور ذاتی آرا کے مطابق انجام دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی بلکہ وہ وحی الٰہی اور امر الٰہی کا پابند ہے۔ ابتدائی دور سے لے کر آج تک مسلمان اس امر پر یکسو ہیں کہ حضور ؐنے اپنے قول و عمل سے اسلامی انداز ۔فکر اور دین کے اصول و احکام کی جو تشریح فرمائی ہے ، اس میں آپؐ کی پیروی ہم پرواجب بھی ہے اور ہمارے ایمان کی بنیاد بھی۔ جو کچھ رسولؐ دیں و ہ لے لو اور جس سے وہ منع کر دیں اْس سے رْک جاؤ،جس قول و عمل کی سند آپؐ دیں صرف اُسی کو اپنے لیے نمونہ سمجھو، جس کو و ہ حق بتائیں اْسی کو معیار حق تصور کرو ، جو فیصلہ وہ دیں اْسی فیصلے کی طرف رجوع کرو ، ان کے فیصلے کی بظاہر ہی نہیں دل سے تائید کرو ، اور پھر اگر اللہ کی محبت مطلوب ہے تو اللہ کے رسولؐ کی اتباع کرو۔ یہ وہ اختیارات ہیں جو احکم الحاکمین اللہ رب العزت نے آپؐ کو تفویض کیے ہیں اور یہ ہے دین اسلام میں رسول ؐ کی اصل حیثیت جسے قرآن اتنی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے ۔

بیشک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ انہیں میں سے ایک رسول ان میں بھیجا (1) جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے یقیناًیہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ (آل عمران3۔ 164)

یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وہ غور و فکر کریں۔ (النحل ۔44)

وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو حلال بناتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں (الاعراف۔ 157 )

اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے۔(الحشر ۔7)

ہم نے ہر رسول ( علیہیم السلام) کو صرف اس لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے۔( النساء ۔64)

اس رسو لؐ کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ کی اطاعت کی (النساء ۔80)

ہدایت تو تمہیں اس وقت ملے گی جب رسولؐ کی ماتحتی کرو (النور ۔54 )

یقیناًتمہارے لئے رسولؐ اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے (الاحزاب ۔21 )

سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپؐ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپؐ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔ (النساء ۔65)

اے ایمان والو!فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسولؐ کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ (1) پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسولؐ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ (النسا ء ۔59)

کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو (آل عمران 3/31)

اسی آیت کے ضمن میں علامہ سید سلیمان ندویؒ نے اپنی معرکتہ الآراء تصنیف ’’ خطبات مدراس ‘‘میں اتباع رسولؐ کی اسی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے لکھا کہ "آپؐ کی اتباع یعنی آپ کی زندگی کی نقل و عکس کو خداکی محبت کا معیار بتایا۔ ایک لمحہ کے لیے نشۂ دینی سے سر مست ہو کر اپنی جان دینا آسان ہے مگر پوری عمر ہر چیز میں ' ہر حالت میں ' ہر کیفیت میں آپ ؐکی اتباع کے پل صراط کو اس طرح طے کرنا کہ کسی بات میں سنت محمدیؐ سے قدم اِ دھر اْدھر نہ ہو ' سب سے مشکل امتحان ہے۔ اس اتباع کے امتحان میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پورے اْترے اور اسی جذبہ سے صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین ، محدثین، مورخین اور ارباب سیر کا یہ اہم فرض قرار دیا کہ آپؐ کی ایک ایک بات ، ایک ایک چیز ، ایک ایک جنبش کو معلوم کریں ' پچھلوں کو بتائیں تاکہ اپنے اپنے امکان بھر ہر مسلمان اس پر چلنے کی کوشش کرے۔ اس نکتہ سے ظاہر ہو گا کہ آنحضرتؐ کی زندگی ان کے جاننے والوں کی نگاہ میں پوری کامل تھی ، تب ہی تو اسکی نقل کو انہوں نے کمال کا معیارِ یقین کیا "۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے آپؐ کی سیرت کے اسی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "چونکہ نوع انسانی کی سعادت و تنویر کا مبداء وجود انبیاء ہے اور حقیقت محمدؐ ان پر سب سے مافوق اور شمس و کواکب اور صباح و مصباح کے معاملے کا حکم رکھتی ہے ، اسی لیے حیات قائمہ و دائمہ کا نور الانوار اور مصباح المصباح وہی دائرہ ٹھہرا " اور مزید فرمایا کہ " قرآن کے بعد اگر کوئی اور ہستی لوح محفوظ ہو سکتی ہے تو وہ صرف وہی روح اعظم و خالد ہے جس کے ذکر کو خود قرآن نے اپنی آغوش حفظ و صیانت میں ہمیشہ کے لیے لیا ہے "۔ اس ضمن میں خود نبی کریمؐ کا یہ ارشاد ہی کافی و شافی ہے کہ

(تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اْس کی خواہشات اس شریعت کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔)

لہٰذا اس دین کی بنیاد نبی مہربانؐ کی ذات کی اتباع پر ہے ،یہ کیسے ممکن ہے کہ جو ذات شریعت کا منبع و مصدر اور ماخذ قانون ہو اور جو ذات امت محمدیہ کے ہر فرد کے لیے مشعل راہ ہو اس کی تضحیک وہرزہ سرائی کو برداشت کیا جائے ؟ نبی کریم ؐ کو بطور کامل نمونہ تسلیم کرتے ساتھ ہی یہ امر خود بخود لازم ٹھہرتا ہے کہ آپؐ کی ذات پر الزام تو درکنار کو ئی ادنیٰ سا شائبہ بھی اسلام کی عمارت کو منہدم کرنے کے لیے کافی ہے اس لیے شریعت کی حفاظت کے لیے ضروری تھا کہ آپؐ کی ذات گرامی اور ناموس کی حفاظت فرمائی جاتی اسی لیے شریعت نے گستاخی رسولؐ کے معاملے میں عدم استثناء کا رویہ اپنایا۔ یہ بات سمجھنا قطعاً مشکل نہیں ہے کہ اگر موجودہ دور میں ایک ریاست اپنے بانیوں اور آزادی کے لیڈروں کے احترام کی حفاظت کرتی ہے اور جس طرح ریاست کے دستور کو پامال کرنے والا باغی ٹھہرتا ہے اور جس طرح ریاست کے خلاف کام کرنے والا ریاست کا دشمن اور غدار تصور ہوتا ہے ، افواج کو بدنام کرنے والا اور عدلیہ کی تضحیک کرنے والاسخت سزا کا مستحق تو آخر کیا وجہ ہے کہ وہ دین جس کی بنیاد ہی نبی کریمؐ کی ذات ہے اس کی حرمت و تقدس کی حفاظت کے لیے مناسب اقدام نہ کیا جا تا ؟ (جاری ہے)

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...