کثیر الجہتی غربت

کثیر الجہتی غربت

کثیرالجہتی غربت نسبتاً ایک نیا تصور ہے جو 2010ء میں متعارف کرایا گیا۔اس تصور میں آمدنی کے علاوہ بہت سے دیگر امور میں بھی غربت کی پیمائش کی جاتی ہے۔مثلاً صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی، تعلیم کی سہولیات سے محرومی،غیر موزوں طرز زندگی، آمدنی کی قلت، بے بسی ، غیر معیاری کام اور تشدد کے خطرے سے دو چار ہونا وغیرہ۔

کثیرالجہتی غربت کی زندگی بسر کرنے والوں کی نصف سے زیادہ تعداد دیہات میں آباد ہے۔ اگر چہ پاکستان میں بحیثیت مجموعی غربت میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن اب بھی غربت ترقی کی راہ میں حائل سب سے بڑی سماجی اور اقتصادی رکاوٹ ہے۔

1990ء سے پہلے دنیا میں غربت کا اندازہ لگانے کے لئے فی کس آمدنی کا تخمینہ لگایا جاتا تھا۔ اندازہ کیا جاتا تھا کہ کسی شخص کو زندگی گزارنے کے لئے کم از کم کتنی رقم درکار ہوتی ہے اسے غربت کی آخری حد مان لیا جاتا تھا۔ اگرکسی شخص کی آمدن اس حد سے کم ہو تو سمجھا جاتا تھا کہ وہ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور کسی مُلک میں کتنے لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اس سے اس مُلک کی معاشی صورت حال کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔1990ء میں ڈاکٹر محبوب الحق اور امریتاسین نے HDI یعنی (Human Development Index) کے نام سے ایک نیا معیار غربت تیار کیا،جس میں تین بنیادی چیزوں صحت، تعلیم اور طرز زندگی کو شامل کیا گیا۔UNDP نے اس پر کام کیا اور اسے بہتر سے بہترین شکل دینے کی کوشش کی۔ HDI پر اعتراض تھا کہ اس میں بہت سے ایسے عناصرجو انسانی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں ، کو نظر ا نداز کیا گیا ہے۔ MPI یعنی (Multidimensional Poverty Index) اصل میں (HDI) ہی کی بہتر شکل ہے، اس میں بھی وہی تین بنیادی عناصر صحت، تعلیم اور طرز زندگی کو شامل کیا گیا ہے ۔ تینوں کو برابر رکھا گیا ہے مگر ان کے معیار کے تعین کے لئے بھی بہت سے عناصر، جنہیں پہلے نظر انداز کیا گیا تھا ، کو زیر بحث لایا گیا ہے۔پاکستان کے زمینی حالات کے مظابق MPI کو وسیع تناظر میں اور بھی وسعت دے کر زیادہ ایڈوانس شکل دے دی ہے تاکہ غربت کا کوئی پہلو نظروں سے اُوجھل نہ رہے۔ بنیادی عناصر صحت، تعلیم اور طرز زندگی ہی ہیں۔

غربت کے معیار کو جاننے کے لئے صحت، تعلیم اور طرز زندگی کو ایک ایک پوائنٹ دیا گیا ہے اور ہر پوائنٹ کو مزید صحت چار، تعلیم تین اور طرز زندگی سات حصوں میں بانٹے گئے ہیں۔ ان اوزان اور معیار کے حساب سے ہر شخص اور ہر خاندان کو دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص دو تہائی سے کم پوائنٹ حاصل کرتا ہے تو وہ غریب تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستانی حوالے سے MPI میں صحت کو جانچنے کے لئے چار چیزیں دیکھی گئی ہیں۔

1 ۔ Access to Health Units ۔کسی بیماری کی صورت میں ہسپتال، ہیلتھ یونٹ یا ڈاکٹر تک رسائی بہت سے لوگوں کو میسر نہیں۔ یہ بھی غربت کا پیمانہ قرار دیا گیا ہے۔

2 ۔ Immunisation ۔اس سسٹم کے تحت بچے کو بچپن میں ضروری ٹیکوں اور ادویات کی مدد سے متعدی بیماریوں کے خلاف مدافعت کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔

3 ۔ Ante-natal Care ۔اس سسٹم کے مطابق بچے کی پیدائش تک حاملہ عورتوں کی صحت کی پوری طرح نگرانی کی جاتی ہے۔ ان کو خوراک اورضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔

4 ۔Assisted Delivery ۔بچے کی پیدائش کے وقت آسان ڈلیوری کے لئے ضروری سہولیات۔

MPI نے تعلیم کے لئے تین چیزوں کو معیار بنایا ہے ۔

1۔Years of Schooling۔دیکھا جاتا ہے کہ بچہ تعلیم کے حصول کے لئے کتنے سال سکول گیا، عالمی معیار کے مطابق گھر کے ہر بالغ فرد کا کم از کم چھ سال سکول میں گیا ہونا لازمی ہے۔اس کے علاوہ سکول جانے والی عمر کے حامل ہر بچے کا آٹھویں جماعت تک سکول جانا لازمی ہے۔

2۔Child School Attendence۔ کسی علاقے کے سکول میں حاضر ہونے والے بچوں کی کل تعداد۔

3۔Educational Quality ۔تعلیم کے اچھے معیار کے لئے اس علاقے میں اچھے سکولوں، اچھے اساتذہ،اچھے ماحول ، سکولوں میں کھیلوں کے میدان اور بہت سی دوسری چیزوں کی موجودگی ضروری قرار دی جاتی ہے۔

طرز زندگی کے تعین کے لئے چھ مختلف چیزوں کو دیکھا جاتا ہے۔

1 ۔ Electricity ۔ بجلی کا استعمال اچھے طرز زندگی کی عکاسی کرتا ہے جب کہ اس سے محروم لوگ اچھے طرز زندگی سے محروم تصور کئے جاتے ہیں۔

2 ۔ Sanitation یعنی گھروں میں ٹائلٹ کی سہولت اور علاقے میں سیوریج کی حکومتی سطح پر فراہمی اچھا طرز زندگی جب کہ ان چیزوں کی مکمل عدم فراہمی یا ایسی فراہمی ،جو بہت سے لوگوں کے لئے مشترکہ ہو،برے طرز زندگی کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔

3 ۔Drinking Water ۔ لوگوں کا صاف پانی سے محروم ہونا، اچھا طرز زندگی نہیں سمجھا جاتا۔

4 ۔Flooring ۔گھروں میں جہاں ہر شخص کو بیٹھنا، اُٹھنا، چلنا ،پھرنا ہوتا ہے وہاں صاف ستھرے فرشوں کا ہوتا ایک بنیادی ضرورت سمجھا گیا ہے۔گھروں میں کچے فرش بُرے طرز زندگی کے عکاس ہیں۔

5۔Cooking Fuel۔لکڑی، کوئلہ اور اپلے اچھے گھروں میں اب استعمال نہیں ہوتے۔ ان کا استعمال غربت کی سطح پر شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ بہتر گھروں میں اب پکانے کے لئے گیس اور بجلی کا استعمال ہوتا ہے۔

6 ۔Walls ۔گھروں میں لوگوں کو تحفظ کے لئے گھر کے گرد چار دیواری کا ہونابھی ایک بنیادی ضرورت ہے۔

Assets ۔ اچھی زندگی کے لئے ہر شہری کے پاس اپنا ایک گھر، گاڑی،گھر میں فریج ، ائر کنڈیشنر، اچھا فرنیچر، ٹیلے فون ،ٹیلی ویژن اوراچھے برتن ، سمیت بہت سی چیزیں اچھے طرز زندگی کے لئے دنیا ضروری سمجھتی ہے، جبکہ ہر دیہاتی کے پاس ان کے علاوہ مال مویشی اور کچھ زرعی زمین بھی ضروری ہے۔ان سے محرومی بھی غربت ہے۔

عالمی سطح پر اس وقت MPI کے معیار کے حوالے سے سو(100) کم ترقی یافتہ ممالک میں کام ہو رہا ہے۔ ان ملکوں میں مکمل ملکی ،صرف شہری ، صرف دیہاتی، مذہبی، لسانی ، علاقہ جاتی ، ملازم، کاروباری، کاشتکار اور بہت سے دوسرے حوالوں سے علیحدہ علیحدہ لوگوں میں غربت کا معیار جاننے کے لئے کام ہو رہا ہے اور ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہمیں مختلف ملکوں کے درمیان تقابل۔ تما م طبقوں۔گروہوں اور گروپوں میں غربت کا معیاراور اس کی بنیادی وجہ جاننے میں آسانی ہو گئی ہے،جس کے سبب اس کے سد باب کے اقدامات کرنا بھی نسبتاًآسان ہوتا جا رہا ہے۔MPI غربت کی وجوہات کی مکمل تصویر سامنے لے آتا ہے۔

حال ہی میں جاری کئے گئے کثیرالجہتی غربت (MPI) کے پیمانے کے مطابق 39 فیصد پاکستانی کثیرالجہتی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں ،جن کی زیادہ تعداد دیہاتوں میں مقیم ہے۔بلا شبہ حکومت انفراسٹرکچر پر بہت محنت کر رہی ہے۔ سڑکوں، پلوں اور گلیوں ، نالیوں کی تعمیر پر کثیر رقوم خرچ ہو رہی ہیں، مگر MPI کے حوالے بہت سی چیزیں توجہ طلب ہیں جو فوری طور پر حکومتی توجہ کی مستحق ہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...