پاکستانی میڈیا اور انگلش

پاکستانی میڈیا اور انگلش

ہمارے ہاں پاکستان میں پرنٹ میڈیا میں جو انگریزی روزنامے شائع ہوتے ہیں ان میں ڈان، ڈیلی ٹائمز، ٹریبون ایکسپریس، دی نیشن اور پاکستان ٹو ڈے وغیرہ شامل ہیں لیکن جوں جوں وقت گزر رہا ہے اور انگلش میڈیم سکولوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، انگریزی زبان کے روزناموں کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔

ہمارا یہ انگلش پرنٹ میڈیا پھر بھی غنیمت ہے لیکن انگلش الیکٹرانک میڈیا کی حالت بہت دگرگوں ہے۔ سوائے پی ٹی وی (انگلش) کے کوئی اور چینل ایسا نہیں جس کی نشریات انگریزی زبان میں ہواؤں کے دوش پر پھیل رہی ہوں۔ اردو ہماری قومی زبان ضرور ہے اور اس وجہ سے اس کی اہمیت و افادیت محتاجِ بیان نہیں۔لیکن پاکستان کا وہ طبقہ جوانگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں رواں اور مستعد ہے اس کی نصف میڈیائی تشنگی فرو کرنے کا کوئی بندوبست نہیں۔

سارے کے سارے نجی میڈیا چینل اردو زبان کے ہیں۔ دوسری علاقائی یا صوبائی زبانوں مثلاً سندھی، بلتی، شینا، پنجابی، بلوچی اور پشتو وغیرہ کے چینل بھی ہیں جو ایک تو پاکستان میں ان علاقائی / صوبائی زبانوں کے بولنے اور سمجھنے والوں کے سماجی اور لسانی تقاضے پورے کر رہے ہیں اور دوسرے پاکستان کی کثیر الثقافتی اقدار کے آئینہ دار بھی ہیں۔ تاہم اردو کی اہمیت قومی اور بین العلاقائی ہے۔

آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کے ہمسایہ ممالک میں چین کے بعد سب سے بڑا ہمسایہ بھارت ہے جہاں علاقائی میڈیا کے علاوہ انگریزی اور ہندی دونوں زبانوں کا ایک بڑا اور وسیع میڈیا موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انگریزی زبان کا انڈین میڈیا زیادہ تر ملک کے دانشور اور پڑھے لکھے اپر اور اپر مڈکل کلاس طبقے کی ضروریات پوری کرتا ہے اور علاوہ ازیں بھارت سے باہر جو کروڑوں ہندوستانی بستے ہیں، ان کی ضروریات کا کفیل بھی ہے۔ ہندی زبان کے کئی چینل بھی ہیں۔ (میں شدھ ہندی کی بات نہیں کر رہا جس کو صرف اونچی ذات کے پنڈت ہی سمجھ سکتے ہیں، وہ عوام کی زبان نہیں۔ بھارتی عوام کی زبان وہی ہندی ہے جو ہمارے پاکستان کی اردو کے مماثل ہے۔ تھوڑا بہت لب و لہجے کا فرق ضرور ہے لیکن اگر رسم الخط کی بات کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ انڈین اردو، دیونا گری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور پاکستانی ہندی، فارسی رسم الخط میں۔۔۔ یعنی جہاں تک بولنے اور سمجھنے کا تعلق ہے ہندی اور اردو تقریباً ایک ہیں، صرف رسم الخط کا فرق ہے)

لیکن مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ بھارت میں انگریزی زبان کی اساس، پاکستان کی نسبت کہیں قدیم، مضبوط اور مقبول ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یورپی، امریکی ، آسٹریلوی اور دوسرے ایشیائی ممالک میں بھارت کا تعارف اس کے انگریزی زبان کے الیکٹرانک چینلوں کا براہِ راست ثمر ہے۔ اگر یہ چینل نہ ہوں تو بھارت بھی پاکستان کی طرح اندرون بینی کا صیدِ زبوں بن کے رہ جائے گا اور بیرونی ممالک میں اس کو جاننے کے لئے صرف پریس میڈیا ہی میسر ہو گا۔ سب جانتے ہیں کہ پریس میڈیا کا حلقہ ء اثر، الیکٹرانک میڈیا کے مقابلے میں بہت محدود ہوتا ہے۔اور سارا پرنٹ میڈیا بھی آج کل انٹرنیٹ پر موجود ہوتا ہے۔

پاکستان میں انگریزی ای میڈیا کی غیر موجودگی کا سبب میری نظر میں یہ ہے کہ انگریزی زبان کے چینل کے ناظرین و سامعین کی تعداد نسبتاً بہت کم ہے۔ اس لئے انگریزی زبان کا کوئی بھی چینل کمرشل طور پر خود کفیل نہیں ہو سکتا۔ آپ کو یاد ہو گا، اول اول ڈان نے انگریزی زبان کا ایک چینل بھی شروع کیا تھا جو اس وجہ سے بند کرنا پڑا کہ اس کو کمرشلز کی مطلوبہ سپورٹ میسر نہ آ سکی۔ جو ’’کاروبار‘‘ مالی خسارے کا شکار ہو وہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا اور نہ ہی زیادہ دور تک جا سکتا ہے۔۔۔ اب لے دے کے پی ٹی وی (PTV) کا ایک انگریزی چینل ہے جس کے توسط سے پاکستان کی آواز دنیا میں ان لوگوں تک پہنچتی ہے جو اردو نہیں جانتے۔ لیکن یہ واحد انگریزی چینل بھی سرکاری سرپرستی میں چل رہا ہے اور مجھے 101فیصد یقین ہے کہ یہ معاشی طور پر خود کفیل نہیں ہوگا اور اسے حکومتی معاشی سرپرستی حاصل ہوگی۔ بالکل یہی بات دوسرے پرائیویٹ چینلوں پر بھی صادق آئے گی۔ اس کا ایک علاج یہ ہے کہ وزارت اطلاعات و نشریات کو ایک خاصی رقم اس مَد میں مختص کر دینی چاہیے کہ وہ نجی چینلوں کو مالی طور پر سپورٹ کرے۔ ہمارے ہاں مختلف نجی چینلوں کو ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کا ترجمان بھی خیال کیا جاتا ہے اور یہ بات کوئی ایسی انہونی بات نہیں۔ آخر PTV پر بھی تو صرف حکومتی موقف کو تائید و حمائت حاصل ہوتی ہے، حزب اختلاف کا نقطہ ء نظر اس پر اگر کبھی دیا بھی جاتا ہے تو لولا لنگڑا ہوتا ہے۔ اگر نجی چینلوں کو حکومت کی طرف سے مالی سپورٹ فراہم کرنے کے ساتھ یہ شرط بھی لگا دی جائے کہ وہ حکومت کا نقطہء نظر بھی پیش کریں تو پھر یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی۔ اگر حکومت نے انگریزی زبان کے نجی چینلوں کو فروغ دینا ہے تو ان کو غیر جانبدار ہو کر مالی سپورٹ بہم پہنچانے کی ضرورت ہوگی۔

یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اگر بیرونی ممالک میں پاکستان کا امیج صرف سرکاری سرپرستی میں چلنے والے انگریزی زبان کے چینلوں کا محتاج بنا دیا جائے تو ان پر کوئی اعتبار نہیں کرے گا۔ دنیا بھر کے بڑے بڑے میڈیا ہاؤس مشترکہ طور پر نجی اور سرکاری سرپرستی میں چل رہے ہیں اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔ حکومت جس طرح بیرونی ممالک میں پاکستان کی سیاسی اور دوسری قومی پالیسیوں کی لابنگ کرتی ہے اور اس پر کثیر سرمایہ خرچ کرتی ہے تو یہی کچھ انگلش ٹیلی ویژن چینلوں کے ساتھ بھی کیوں نہیں کیا جاسکتا؟

ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن آج دنیا ایک گلوبل گاؤں بن چکی ہے جس کی لنگوا فرانکا انگریزی ہے۔ کئی عشروں تک سوویت یونین نے انگریزی زبان سے بے اعتنائی برتی اور رشین زبان میں اپنی نشریات کو آن ائر کرتا رہا لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دنیا سے کٹ کے رہ گیا۔ اگر مغرب کو پراپیگنڈے کا طعنہ بھی دے دیا جائے تو اس کے باوجود بھی یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ انفرمیشن ٹیکنالوجی میں جو انقلاب لایا گیا ہے اس کے موجد وہ لوگ ہیں جو انگریزی خواں اور انگریزی داں ہیں۔ واٹس ایپ، یوٹیوب، انٹر فلیکس، فیس بک وغیرہ کی شروعات جن لوگوں نے کیں وہ انگریزی زبان ہی میں کئی گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انگریزی زبان کے سامعین و ناظرین کی تعداد دنیا کی دوسری زبانوں کی نسبت زیادہ تھی،اسی لئے ان کو مالی Push بھی حاصل ہوگئی۔

سوویت یونین جب تک روسی زبان کو اپنی سیاسی اور سماجی ترویج و ترقی کے لئے استعمال کرتا رہا، ناکام رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ماضیء قریب میں رشین ٹی وی (RT) جیسے چینلوں کا آغاز کیا جن کی وجہ سے روس کی آواز آج پورے گلوب میں سنی اور دیکھی جاتی ہے۔ اس چینل کے لئے روس نے پیسہ پانی کی طرح بہایا اور صدر پوٹن کے احکامات کے تحت مغرب کے بڑے بڑے میڈیا آئی کونوں کو ہائر کیا گیا اور ان کی خدمات سے استفادہ کیا گیا۔۔۔۔ بالکل یہی کچھ آج چین بھی کر رہا ہے لیکن روس اور چین کے انگلش میڈیا میں فرق یہ ہے کہ چین اپنے ہم قوم اور ہم زبان چینیوں کو ہی انگریزی زبان میں ٹریننگ دلا کر انہیں میڈیا پر لا رہا ہے اس لئے اس کا دائرۂ اثر، روس کے دائرۂ اثر سے کہیں کم ہے۔ مجھے نظر آ رہا ہے کہ زود یا بدیر، چین کو بھی روس کی پیروی کرنی پڑے گی اور انگریزی زبان کے چینلوں کے لئے ان لوگوں کو استعمال کرنا پڑے گا جن کی مادری زبان انگریزی ہوگی اور انہیں میڈیا کا خاطر خواہ تجربہ حاصل ہوگا۔

بھارت کے NDTV اور Zٹی وی دونوں نہ صرف ہندی میں نشریات پیش کرتے ہیں بلکہ انگریزی میں بھی ان کے میڈیا کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے۔ یہی چینل انڈیا سے باہر، انڈیا کی پہچان ہیں۔ مغرب کا معاشرہ جب ان نشریات کو دیکھتا اورسنتا ہے تو اس سے اثر لیتا ہے۔ آپ خود اپنے موبائل پر NDTV یا Z ٹی وی وغیرہ کو اَپ لوڈ کریں تو آپ کو بھارتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک فوری رسائی مل جائے گی۔ میں اکثر حیران ہوتا ہوں کہ میرے سمارٹ موبائل پر تصویر اور آواز کی جوکوالٹی ان انڈین چینلوں کی آتی ہے ویسی کسی بھی پاکستانی چینل کی نہیں آتی۔۔۔ بھارتی چینلوں کی Live Stream کا کیف و کم پاکستانی میڈیا سے کہیں زیادہ صاف، واضح اور بہتر ہے۔ اس کی ٹیکنیکل وجوہات کیا ہیں، اس پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں، آج کی دنیا میں جو قوم جدید ٹیکنالوجی سے بچھڑ جاتی ہے اسے اس بچھڑنے کی سزا ضرور ملتی ہے۔

بھارت کے متذکرہ بالا دونوں چینل ملک بھر میں اپنے جن رپورٹروں کو بھرتی کرتے ہیں ان کی سلیکشن وہ ملک کے انگلش میڈیم سکولوں اور کالجوں میں جا کر کرتے ہیں۔ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں سکول / کالج کا فلاں طالب علم کس جگہ رہتا ہے، اس کی مالی استطاعت کیا ہے اور اس کو گفتگو اور تبصرے کا کیا اور کتنا وقوف حاصل ہے۔ یہ چینل ان طلباء اور طالبات پر فوکس کرکے ان کو پرکشش مراعات اور تنخواہیں دیتے ہیں۔ اسی طرح ان کے اینکر پرسن بھی ہمارے اردو زبان کے بعض اینکر پرسنز کی طرح بہت خوش گفتار، خوش پوش، خوش شکل اور تیز و طرار ہیں۔ اور اسی طرح ان چینلوں کا باقی عملہ مثلاً پروڈیوسر، نیوز ایڈیٹر اور میڈیا ہیڈز بھی بڑے لکھے پڑھے، تیز اور رواں دواں انگریزی بولنے لکھنے اور پیش کرنے والے لوگ ہیں۔

میں سمجھتا ہوں پاکستان بھی انڈیا کی اس پریکٹس کی کاپی کر سکتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی انگریزی زبان میں بات کرنے والوں کی کمی نہیں۔ شرط یہ ہے کہ جوہرِ قابل کو تلاش کیا جائے۔ اور پھر اس کی قیمت بھی ادا کی جائے۔ جہاں تک انگریزی زبان کے کسی چینل کی مالی خود کفالت کا تعلق ہے تو وہ آہستہ آہستہ پروان چڑھے گی۔ میڈیا مالکان کو اس طرف ضرور توجہ دینی چاہیے اور انگلش چینلوں کے قیام میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ یہ انجام کار گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔ جس روز پاکستان میں انگریزی زبان کا کوئی چینل کلک کر گیا، اگلے روز سمجھ لو کہ ایسے چینلوں کی لائن لگ جائے گی۔۔۔ کیا اہلِ ثروت پاکستانی اس طرف توجہ فرمائیں گے؟

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...