وزیراعظم کا صرف بڑے صنعتکاروں و تاجروں کو فوقیت دینامناسب نہیں

وزیراعظم کا صرف بڑے صنعتکاروں و تاجروں کو فوقیت دینامناسب نہیں

کراچی (این این آئی)پاکستان اپیریل فورم کے چیئرمین اور پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیف کوآرڈینیٹر محمد جاوید بلوانی نے وزیر اعظم پاکستان کی حالیہ صرف بڑے صنعتکارو معروف تاجروں کے ساتھ ملاقات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ درمیانے او ر چھوٹے صنعتکاروں و تاجران کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف بڑے صنعتکاروں و تاجروں کو فوقیت دینامناسب نہیں۔ انھوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ وزرائے اعظم نے بھی امتیازی سلوک روا رکھتے ہوئے صرف بڑے صنعتکاروں کو فوقیت دی، موجودہ وزیر اعظم ملک کی معیشت اور صنعت و تجارت کے فروغ کے حوالے سے بلاتفریق و امتیاز تمام حقیقی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقات کریں اور مخصوص یا پسندیدہ طبقے کو ترجیح نہ دیں۔ درمیانے و چھوٹے صنعتکاروں و تاجران کا کردار معیشت کی ترقی میں زیادہ نمایاں ہے جو حکومت پاکستان کی وزارت تجارت سے لائسنس یافتہ و رجسٹرڈٹریڈ آرگنائزیشنز کے زریعے نمائندگی کرتے ہوئے حکومت کوصنعت و تجارت کی فروغ کے لئے اپنی تجاویز وسفارشات فراہم کرتے ہیں اور مسائل کی حل کیلئے رابطہ کرتے ہیں۔جاوید بلوانی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو کثیر التعداد چیلنجز کا سامنا ہے اور ایکسپورٹس میں مسلسل کمی کا رجحان ہے جو حکومت کی فوری توجہ چاہتاہے۔ ایکسپورٹس میں کمی کے ساتھ ساتھ تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری بھی کئی چیلنجز اور مسائل کا شکار ہے جس میں سرفہرست ایکسپورٹرز کو ریفنڈز کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کے سبب مالی دشواریوں کا سامنا ، مینوفیکچرنگ کی بڑھتی ہوئے لاگت، مہنگا خام مال ،بجلی، گیس اور پانی کے مہنگے نرخ اور خطے میں علاقائی ممالک کے ساتھ سخت مسابقت ہے۔

ویلیوایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹرکا کردار معیشت اور صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔اس تناظر میں وزیر اعظم کی صرف بڑے صنعتکاروں کو ملاقات کیلئے ترجیح دینا باعث تشویش ہے۔ درمیانے اور چھوٹے درجے کے صنعتکاروں کے مسائل بے شمار ہے اوروہ ہی اپنے مسائل کو قریب سے جانتے ہوئے ان کے حل کیلئے بہتر تجاویز و سفارشات دے سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اقوام عالم میں ایک اہم ملک اور معیشت کے حوالے سے منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ معیشت کے حوالے سے پالیسی سازی میں بلاامتیاز و تفریق تمام حقیقی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت ضروری ہے اور اس حوالے سے بڑے، درمیانے اور چھوٹے تمام صنعتکاروں کی ان کی سیکٹر کی مجاز ایسوسی ایشنز کے زریعے اعتماد میں لیا جائے اور تمام ضروری امور پر ان کی مشاورت کو اہمیت دی جائے اور یکطرفہ کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی 2012-13میں ایکسپورٹس 24.46بلین ڈالرز پر محیط تھیں جبکہ سال 2016-17میں ایکسپورٹس کا حجم 20.45بلین ڈالرزتھا۔اسطرح سال 2012-13کی ایکسپورٹس کا موازنہ 2016-17کی ایکسپورٹس سے کیا جائے تو ایکسپورٹس میں 16.40فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔انھوں نے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی جن کی حکومت کاروبار دوست ہونے کا دعویٰ کرتی ہے کو مطالبہ کیا کہ ایکسپورٹس میں کمی کے رجحان کا فوری نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پرپاکستان بھر کی ایکسپورٹ ایسوسی ایشنز کا فوری اجلاس طلب کریں جس میں بلاتفریق و امتیاز بڑے و چھوٹے تمام صنعتکاروں و ایکسپورٹرز کو ان کی نمائندہ ٹریڈ آرگنائزیشنز کے زریعے شرکت کیلئے مدعو کیا جائے تاکہ صنعت و تجارت کو درپیش مسائل کے حل،ایکسپورٹس کے اضافے میں حائل مشکلات و رکاوٹوں کو دور کرنے اور ملک کے مفاد عامہ میں معیشت کی ترقی کی فروغ کیلئے معنی خیزتجاویز و سفارشات دی جائیں۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...