سندھ کے دیہی اور شہری مسائل کو ن حل کریگا؟

سندھ کے دیہی اور شہری مسائل کو ن حل کریگا؟

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دورۂ کراچی کا بنیادی مقصد پورٹ قاسم پر وفاقی حکومت کے تعمیر ہونے والے ’’ ایل این جی‘‘ ٹرمینل کا افتتاح تھا اور کراچی سمیت اندرون سندھ وفاقی حکومت کے مالی وسائل سے زیر تکمیل ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا، وزیراعظم نے کراچی کے قیام کے دوران تاجروں سمیت کئی دیگر سیاسی اور غیر سیاسی ملاقاتیں کیں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چند ہفتے کی کارکردگی سے سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی طرح کا وزیراعظم ہونے کا ’’تاثر‘‘ عملاً ختم کر دیا ہے،بلکہ وہ اپنے اس خطاب کو جو انہوں نے اس منصب پر منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر یہ کہہ کر کیا تھا کہ ’’مَیں36دن یا36 گھنٹے وزیراعظم رہوں یہ میرے قائد میاں محمد نواز شریف اور میری پارٹی مسلم لیگ(ن) کی صوابدید ہے‘‘ مگر مَیں ملک کا وزیراعظم ہوں اور کام کروں گا‘‘ ’’کرسی گرم کرنے کے لئے وزیراعظم نہیں بنا‘‘ اپنے عمل سے آئین کے تحت حاصل اختیارات کا حامل با اختیار وزیراعظم ہونے کا تاثر قائم کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہیں، جس سے ان کے مخالف سیاسی حلقوں میں مایوسی پیدا ہونا فطری امر ہے۔رہی شیخ رشید اور عمران خان کے وزیراعظم کے خلاف ’’ ایل این جی‘‘ کے حوالے سے کرپشن کے الزامات کی بات جس کے بارے میں بڑے بلند و بانگ دعوے کئے جا رہے تھے کہ وہ جلد اس کیس کو ان کی نااہلی کی بنیاد کے لئے عدالتوں کا رخ کریں گے، عملاً کوئی پیش رفت نہیں کر پائے، بلکہ اب تو یہ دونوں حضرات عوام سے خطاب کرتے ہوئے ایل این جی کیس کا ذکر کرنے سے بھی گریز کرنے لگے ہیں۔ عمران خان، شیخ رشید یا تحریک انصاف کے کسی دوسرے قائد نے بھی سکھر کے جلسہ عام میں اس حوالے سے کوئی بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

جہاں تک معاملہ ہے25اگست کو ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے کاتو تحریک انصاف نے اس کی حاضری کے حوالے سے جو مبالغہ آمیز دعوے کئے وہ تو بالکل غیر حقیقی اور زمینی حقائق کے منافی تھے،جنہوں نے سکھر کے تفریحی مقام ’’لب مہران‘‘ کا وہ میدان دیکھا ہے جہاں یہ جلسہ ہوا تھا وہ کیسے مان سکتے ہیں کہ اس جگہ50ہزار کرسیاں لگائی جا سکتی ہیں تاہم تحریک انصاف کے مخالفوں کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ’’یہ ایک ناکام شو تھا‘‘ ۔ آزاد میڈیا کے نزدیک تحریک انصاف کا یہ ’’کامیاب شو آف پاور‘‘ تھا جس کی تپش پیپلزپارٹی کو محسوس ہوئی ہے،اس جلسے میں سرمایہ سکندر جتوئی اور ان کے بھتیجے مبین جتوئی کا تھا جبکہ حاضرین میں زیادہ تعداد شاہ محمود قریشی کے مریدوں کی تھی۔ عمران خان کا اصل ہدف سکھر کے جلسہ میں بھی زیادہ تر سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی ذات رہی اور ان کے ذہن پر لاہور میں ہونے والے حلقہ120کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ(ن) کی امیدوار کی ممکنہ کامیابی کا خوف چھایا رہا۔ آصف علی زرداری کو انہوں نے کرپشن کیس میں ’’نیب‘‘ احتساب عدالت سے بریت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،مگر اس حوالے سے بھی ’’نیب‘‘ اور میاں نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کے نگران جج کا دفاع کیا۔ سیاسی مخالفوں کی اس جلسے کے حوالے سے بیان بازی اور الزام تراشی سے قطع نظر ان کا سندھ آنا اور یہاں عوامی جلسے سے خطاب کرنا اس اعتبار سے خوش آئند ہے کہ اب دوسری ملک گیر سیاست کی دعویدار جماعتوں کو سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں کے ’’باسیوں‘‘ کو درپیش مسائل اور مشکلات کوواضح کرنا پڑے گا۔سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں کے مسائل اور مشکلات اس وقت تک کم ہو ہی نہیں سکتی ہیں، جب تک ملک گیر سیاست کی دعویدار جماعتیں ،دیہی سندھ اور شہری سندھ کے درمیان موجود خلیج کو پاٹنے اور ختم کرنے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ قابل عمل حل تلاش نہیں کریں گی۔ کوئی بھی وفاقی حکومت خواہ آج کی طرح مسلم لیگ(ن) کی ہو یا ماضی میں پیپلزپارٹی کی رہی ہو کسی نے سندھ میں موجود اس خلیج کو پاٹنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی۔ پیپلز پارٹی کو تو1988ء کے بعد جب بھی مرکز میں مخلوط حکومت بنانے کا موقع ملا ہے وہ سندھ میں موجود اس خلیج کو بڑھانے کا باعث بنی، لگتا ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم اس خلیج کو قائم رکھنے کے لئے2017ء میں ہونے والی چھٹی قومی مردم شماری کے عبوری نتائج کو ایشو بنائیں گی، کیونکہ مردم شماری کے عبوری نتائج میں دیہی سندھ اور شہری سندھ خصوصاً کراچی کی جو آبادی بتائی گئی ہے اس پر اندرون سندھ کے حوالے سے پیپلزپارٹی کا سخت موقف سامنے آیا ہے، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے تو مطالبہ کر دیا ہے کہ فوج اور محکمہ شماریات کے نتائج کو قوم کے سامنے لایا جائے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ سندھ کے ساتھ کس طرح زیادتی کی گئی ہے۔

کراچی کے حوالے سے تو سب ہی سیاسی جماعتیں یک زبان ہو گئی ہیں کہ اس کی حقیقی آبادی اور مردم شماری کے عبوری نتائج میں کوئی مناسبت ہی نہیں۔سندھ کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی سمیت ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف سب ہی سیاسی اور مذہبی جماعتیں اس کو مسترد کر کے احتجاج کرنے کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ وفاقی حکومت کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ جلد از جلد اس ایشو پر توجہ دینی چاہئے تاکہ سندھ بمقابلہ وفاق اور صوبہ پنجاب کے خلاف کالا باغ ڈیم کی طرح ’’نفرت‘‘ پھیلانے کا ایک اور موقع نہ مل سکے۔ اورہماری قومی سلامتی اور قومی یکجہتی کو پارہ پارہ دیکھنے کے خواہشمندوں کو مایوسی ہو۔

اب ذرا ذکر ہو جائے آصف علی زرداری کا ’’نیب‘‘ احتساب عدالت سے غیر قانونی کیس میں بری ہونے کا۔ آصف علی زرداری کے خلاف قائم مقدمات کی فہرست میں آخری مقدمہ تھا جس سے وہ احتساب عدالت سے باعزت بری قرار دیئے گئے ہیں، اگر یہ کہا جائے تو ریکارڈ کے مطابق غلط نہ ہو گا کہ آصف علی زرداری اِس وقت ملک کے واحد ایسے سیاست دان ہیں جن پر قومی خزانے اور قومی وسائل کی لوٹ مار، کرپشن اور بدعنوانی کے ذریعے ’’مال‘‘ بنانے کے جتنے بھی مقدمات تھے وہ ان سب میں عدالتوں سے ’’بری‘‘ ہو کر ’’دودھ کے دھلے‘‘ سیاست دان قرار پاگئے ہیں۔اس پر پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کا خاندان اور ان کے ذاتی وفا دار جشن منا رہے ہیں تو کیا غلط کر رہے ہیں؟ مگر سوال یہ نہیں ہے کہ آصف علی زرداری کس طرح بری ہوئے ہیں؟بنیادی سوال یہ ہے کہ ’’نیب‘‘ کی احتساب عدالتوں سے ان کے خلاف موجودہ فائلوں سے اصل دستاویزات کس نے اور کس طرح غائب کیں؟ کیس کا مرکزی گواہ پراسرار طور پر غائب کس طرح ہوا؟ آصف علی زرداری کے لئے البتہ کوئی ایسی خوش آئند بات نہیں ہے، فیصلہ ’’میرٹ‘‘ کے بجائے تکنیکی بنیاد پر ہوا ہے کہ فائل میں صرف فوٹو دستاویزات تھیں۔ اس کیس کو جتوانے میں آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کی کیس کو17سال تک لٹکانے کی صلاحیت کی داد دینا پڑتی ہے اس دور ان فائل سے اصل دستاویزات ہی غائب ہو گئیں اور اصل گواہ بھی گم ہو گیا۔ تاریخ میں یہ کیس بھی ’’میرٹ‘‘ کے بجائے تکنیکی بنیاد پر صادر کے جانے والے فصلوں کی طرح یاد رکھا جائے گا۔ قسمت اپنی اپنیمیاں نواز شریف تیکنیکی بنیاد پر سپریم کورٹ سے نااہل ہوگئے اور آصف زرداری احتساب عدالت سے تیکنیکی بنیاد پر بری ہوگئے۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...