پاک امریکہ تعلقات نہیں نیا مورڑ ہنگامہ خیز ثابت ہوگا؟

پاک امریکہ تعلقات نہیں نیا مورڑ ہنگامہ خیز ثابت ہوگا؟

حالیہ بارش کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کے موسم میں رات کے وقت ہلکی خنکی پیدا ہوگئی ہے البتہ دن کے وقت حبس اور گرمی بدستور موجود ہے ، ان دنوں پاکستان اورامریکہ کے درمیان تعلقات میں جو نیا موڑ آیا ہے اس پر سیاسی حلقوں میں پاکستان کی آئندہ حکمت عملی کیا ہوگی،امریکہ پاکستان کیخلاف کس حد تک جاسکتا ہے اس حوالے سے بحث و بیانات کاسلسلہ جاری ہے،پاکستان نے امریکی نائب وزیرخارجہ ایلس ویلز کی میزبانی سے بھی معذرت کرلی جنہوں نے گزشتہ پیر کو اسلام آباد پہنچنا تھا ، تاکہ ٹرمپ کی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد پیداہونیوالی صورتحال کو معمول پر لایاجاسکے اور پاکستان کو اعتماد میں لیا جاسکے،امریکی محکمہ خارجہ نے موجودہ صورتحال میں نائب وزیر خارجہ ویلز کے دورے کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا تھا،امریکہ کیساتھ حالیہ معاملے پرپاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ،مسلح افواج اورقوم متحد ہے وزیرخارجہ خواجہ آصف کا اس حوالے سے بیان سامنے آیا ہے انکا کہنا تھا کہ ہم نے افغان مہاجرین کی 30,سال سے زیادہ عرصہ خدمت کی ، امریکہ کو پاکستان پر یقین نہیں تو افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجنے کا بندوبست کرے ، پاکستان نے اپنے علاقے سے دہشت گردی کا صفایا کردیا ہے ، قیام امن کیلئے پاکستان کے دو لاکھ فوجی کام کر رہے ہیں ۔ افغانستان کے فوجی طالبان کو امریکی اسلحہ بیچتے ہیں ، امریکہ افغانستان کے مسئلے کا حل خود تلاش کرے ، پاکستان امریکہ کا بااعتماد ساتھی رہا ہے ، ہم نے اتحادی بن کر بہت نقصانات اٹھائے ہیں ، ہم امریکہ سے تعلقات برقرار رکھ کر غلط فہمیاں دور کرناچاہتے ہیں ، افغانستان کا امن واپس لایا جاسکتا ہے ، یہ ہماری بھی ضرورت ہے ۔ وزیردفاع خرم دستگیر نے بھی ٹرمپ کے بیان پر لب کشائی کی انکا کہنا تھا کہ امریکہ کو ویتنام کی جنگ میں شکست ہوئی ، امریکہ پاکستان پر فنگر پوائنٹنگ نہ کرے،فغان جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جا سکتی، ہماری مسلح افواج بہترین صلاحیتوں کی حامل ہے ، روس اور چین نے پاکستان کے حق میں بیان دیا ، امریکہ کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے ، ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے لوگ خود حکومت چلائیں۔ اوبامہ کی سٹریٹجی میں پاکستان میں حالات مختلف تھے ، 2013میں حکومت میں آنے کے بعد حالات میں تبدیلی آئی، امریکی ہم سے سبق سیکھنے پر تیار نہیں ہیں 2014میں چین نے پاکستان میں انویسٹمنٹ کرنے کا ارادہ کیا ، پہلے سی پیک گوادر تک تھا ، سی پیک منصوبے سے ترقی کی راہیں کھل رہی ہیں ، امریکہ کو اس پر تشویش ہے، وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے بھی امریکہ کو یاد دلایا کہ پاکستانی قوم کے علاوہ کسی نے دہشت گردی کے خلاف اتنی قرنیاں نہیں دیں ہم دہشت گردی کی جنگ امریکہ کو خوش کرنے کیلئے نہیں لڑ رہے بلکہ قائداعظم کے پاکستان کیلئے لڑ رہے ہیں جو لوگ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام کرنا چاہتے ہیں وہ ناکام ہوں گے۔

ادھر ایوان بالا میں سینیٹ کی ہول کمیٹی کے اجلاس میں امریکی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے امریکی صدر کے پاکستان پر الزامات کیخلاف اراکین سینیٹ کے احساسات بالخصوص ایوان بالا میں 23اگست کو ہونے والی تقاریرکے اہم نکات سے آگاہ کرنیکی سفارش کی گئی ہے ، اراکین سینیٹ سخت احتجاج کے لئے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے سامنے مشترکہ دھرنا دینے اور امریکی سفارت خانے کے توسیعی منصوبے کو رکوانے کے مطالبات کر چکے ہیں ،دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ کے باعث وسیع پیمانے پر جانی نقصانات پاکستانی معیشت کے 150ارب ڈالرکے نقصانات،جنگ کی کامیابی کیلئے پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود کے استعمال اور دیگر قربانیوں پرامریکی سفیرکو تفصیلی بریفنگ کی تجویز دی گئی ہے پاک امریکہ تعلقات پر نظرثانی اور خارجہ امور کے بارے میں پارلیمنٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کیلئے بین الوزارتی ٹاسک فورس قائم کرنے کی سفارش کر تے ہوئے آزاد و خود مختار خارجہ پالیسی کے بارے میں ڈرافٹ کمیٹی کے مسودے کی توثیق کر دی گئی، قرار داد کی صورت میں ان سفارشات کو حکومت کو کو بھجوایا جائے گا موجودہ حالات میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا دورہ امریکہ کو ملتوی کرنے اور نائب وزیرخارجہ امریکہ کو دورہ پاکستان سے روکنے کے اقدامات کی حمایت کی گئی ، وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے سینیٹ کی ہول کمیٹی کے اجلاس میں آگاہ کیا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کے معاملے پر سب ایک ’’صفحہ‘‘ پر ہیں، پوری قوم متحد ہو چکی ہے عید الاضحی کے بعد 5,6,7ستمبرکو پاکستانی سفیروں اور اہم شخصیات کا مشترکہ مشاورتی اجلاس ہوگا۔

ملی یکجہتی کونسل نے حکومت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکیوں کے معاملے پر فوراً آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے ،پوری قوم کی طرف سے امریکی دھمکیوں کاموثر جواب دیا جائے ، ،ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان پالیسی پاکستا ن کے خلاف ہرزہ سرائی سے مرعوب ہونے کی قطاً ضرورت نہیں ہے ،امریکہ کی نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں اتحادی ہونے سے پاکستان کوشدید نقصان کے علاوہ کچھ نہیں ملا اس اتحاد کو خیرباد کہہ دینا چاہیے حکمرانوں کو بھی امریکی دھمکیوں کے جواب میں آرمی چیف کی طرح کا جرات مندانہ بیان دیا چاہیے ملی یکجہتی کونسل عسکری قیادت کے بیان کی حمایت کرتی ہے قوم کسی بھی مشکل وقت میں پاک فوج کی پشت پر ہو گی۔

حکومتی مخالفت کے باوجود سینیٹ میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی غیر ملکی قرضوں سے نجات کیلئے ٹائم فریم مقرر کرنے اور واضح روڈ میپ کے اعلان کی قرار داد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا،سینیٹر سراج الحق نے قرار داد پیش کی کہ یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ حکومت ملکی و غیر ملکی قرضوں سے نجات کیلئے وقت مقرر کرتے ہوئے ایک واضح روڈ میپ کا اعلان کرے۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے وزیر قانون زاہد حامد سے حکومتی موقف کے بارے میں رائے لی انہوں نے قرار داد کی مخالفت کی چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر سراج الحق کی قرار داد پر رائے شماری کرائی، حکومتی مخالفت کے باوجود قرار داد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...