فوری طور پر آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے، جاوید ہاشمی کا مشورہ

فوری طور پر آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے، جاوید ہاشمی کا مشورہ

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں حالیہ بیان پر ملک کے طول و عرض میں مذمت اور احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور وطن عزیز کے خلاف اس ہرزہ سرائی پر نہ صرف پوری قوم متحد ہے بلکہ سیاسی جماعتیں بھی اس کے خلاف متحد اور متفق نظر آتی ہیں اور برملا بیان جاری کر رہے ہیں کہ قومی سلامتی پر کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا امریکی صدر کے بیان کے خلاف پورے جنوبی پنجاب میں احتجاجی مظاہروں اور جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں دفاع پاکستان کونسل تحریک ‘مجلس وحدت المسلمین سمیت دوسری تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں شامل ہیں ملتان سے بھی جلوس نکالے گئے مقررین نے ملک کی نظریاتی سرحدوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم دہرایا افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی بھی کیا اور اعادہ کیا کہ پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور امریکی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر قوم کا متحد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم کے اندرونی طور پر جو بھی اختلافات ہوں جب وقت پڑے گا تو یہ قوم ایک دم اکٹھی ہو جائے گی اور اس بات کو نہ صرف امریکی بلکہ دوسرے ممالک کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے وقت میں بیان جاری کیا ہے جب ایک طرف تو وزیراعظم کی تبدیلی ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف چین کے ساتھ اقتصادی روابط مضبوط ہو رہے ہیں جس میں نہ صرف روس شامل ہے بلکہ یورپ اور مشرق بعید کے ممالک بھی اس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں اور چین چاہے گا کہ وہ اس اقتصادی راہداری کو ضرور مکمل کرے ۔ اس بات کا اعادہ چین اپنے پالیسی بیان میں بھی کر چکا ہے اور واضح طور پر پاکستان کی حمایت کا اعلان بھی ہو چکا ہے جبکہ دوسری جانب روس بھی اس مسئلہ پر پاکستان کے ساتھ ہے اور پالیسی بیان میں اپنی حمایت کا اعادہ کر چکا ہے اب اگر امریکہ ایسے موقعہ پر افغان طالبان کی کوئٹہ اور پشاور میں موجودگی کو بہانہ بنا کر کوئی کاروائی کی کوشش کرتا ہے تو اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کیلئے اسے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے کیونکہ قبل ازیں بھی امریکہ 3ٹریلین ڈالرز سے زیادہ کی رقم خرچ کر کے افغانستان سے کچھ حاصل نہیں کر سکا بلکہ نقصان ہی اٹھایا ہے اور آج اس کی افواج کے اندر کوئی بھی افغانستان آنے کو شاید تیار نہ ہو کیونکہ جو فوجی یہاں سے واپس گئے ہیں وہ اس وقت امریکی افواج میں ہونے کے باوجود سخت ترین ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اب امریکی حکومت کو ان کی طرف توجہ دینا چاہیے افغانستان پر ان کی توجہ کی ضرورت اب نہیں رہی ۔

سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے ڈونلڈٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے امریکہ کیلئے تباہ کن قرار دیا ہے اور حکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دیں اب پوری قوم متحد ہے اپنے دفاعی اداروں کی صلاحتیوں پر فخر کرتی ہے اور سی پیک منصوبے پر حکومت اور قوم دونوں کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ادھر تحریک انصاف کے مرکزی وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے برملا کہا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ کے بیان تحریک انصاف سیاست نہیں کرے گی اور قومی اسمبلی میں حکومت کا موقف سننے کے بعد اپنا ٹھوس موقف جاری کریں گے اب وہ کیا ٹھوس موقف اختیار کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کی مدت چار کرنے کے مشورے کو خاص پذیرائی حاصل نہیں ہو پائے گی انہوں نے لاہور کے حلقہ 120میں انتخاب کے حوالے سے ن لیگ پر سخت تنقید کی اور حلقہ میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کیا اور مشورہ بھی دیا کہ ن لیگ عدلیہ سے محاذ آرائی کی سیاست چھوڑ دے کیونکہ ان کے اس عمل سے ان کی جماعت کے سینئر رہنما سخت ناراض ہیں یہ کون لوگ ہیں، یہ معلوم نہیںآنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن دوسری طرف تحریک انصاف نے ملتان سمیت مختلف اضلاع میں جنوبی پنجاب کے صدر اسحاق خان خاکوانی نے پارٹی قیادت کی ہدایت پر ضلع اور شہروں کی تنظیموں کا اعلان کر دیا ہے اس سے پارٹی کے ڈسپلن کو بر قرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

پیپلز پارٹی کے قائد اور سابق صدر آصف علی زرداری کی نیب ریفرنس سے بریت کی خوشی میں جنوبی پنجاب کے پارٹی کارکنوں نے جشن منایا اور اسے پیپلز پارٹی کیلئے خوشی کی نوید قرار دیا جبکہ جشن منانے والوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو مخاطب کر کے کہا کہ آصف علی زرداری کو جھوٹے مقدمات میں نیب میں پھنسوانے والے خود نیب کا سامنا کر رہے ہیں کارکنوں نے بھنگڑے ڈالے اور مٹھائیاں بھی تقسیم کیں اب کیا کہیے اور کیا کیجئے کارکن اپنے رہنماؤں کیلئے کس حد تک جا سکتے ہیں اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ادھر ملک میں ایک عرصے کے بعد ہونے والی مردم شماری نے بھی ہلچل مچا دی ہے اور اس کے ابتدائی اعدادو شمار پر تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے عبوری نتائج کے مطابق پنجاب کی آبادی 11کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ان عبوری نتائج میں دیہی علاقوں سے شہروں میں نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے اس لئے شہروں کی آبادی 36.38فیصد بڑھ گئی ہے جو حکومت اور پالیسی سازوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ اگر دیہاتوں سے شہروں کو نقل مکانی کی یہی رفتار رہی تو شہروں کے حالات خراب ہو سکتے ہیں ۔

مزید : ایڈیشن 1