پی ایم ڈی سی فاطمہ جناح میڈیکل کالج کویونیورسٹی کے طور پر رجسٹرڈ کر لے تو کوئی اعتراض نہیں

پی ایم ڈی سی فاطمہ جناح میڈیکل کالج کویونیورسٹی کے طور پر رجسٹرڈ کر لے تو ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کو ہائر ایجوکیشن کمشن کی طرف سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ پی ایم ڈی سی اگر فاطمہ جناح میڈیکل کالج کویونیورسٹی کے طور پر رجسٹرڈ کرلے تو ہائرایجوکیشن کمشن کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ہائرایجوکیشن کمشن کے ڈائریکٹر جنرل کے اس بیان کے بعد مسٹر جسٹس شاہد وحید نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب سمیت پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے ۔ درخواست گزار طالبات کا موقف ہے کہ 2005 ء تک کالج کا انتظامی کنٹرول پنجاب یونیورسٹی کے ماتحت تھا، پنجاب یونیورسٹی ہی اس کالج کی طالبات کو ڈگریاں جاری کرتی تھی ، اس کالج کے اچھے معیار تعلیم کو دیکھتے ہوئے اس کو یونیورسٹی کادرجہ دے دیا گیا۔ 2015ء میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج یونیورسٹی ایکٹ بنا دیا گیا، ابھی تک یونیورسٹی رولزنہیں بنائے گئے جس وجہ سے یہ کالج بطور یونیورسٹی فنکشنل نہیں ہو سکا، اب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس کو یونیورسٹی کا درجہ دینے سے انکار کر دیا،پی ایم ڈی سی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ تدریسی کالج کی عدم موجودگی کے باعث نئی یونیورسٹی کوفعال نہیں کیا جا سکتا،ڈی جی ہائر ایجوکیشن کمیشن نذیر حسین نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اگرپی ایم ڈی سی فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کو رجسٹرڈ کر لے تو ایچ ای سی کو کوئی اعتراض نہیں،عدالتی حکم پر سیکرٹری صحت عدالت میں پیش ہوئے اور ان کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل راجہ عارف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ساہیوال میڈیکل کالج کو فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے تدریسی کالج کا درجہ دینے کے لئے سمری بھجوا دی گئی ہے جس پر عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

مزید : علاقائی