ہمدردی کے مارے ہوئے

ہمدردی کے مارے ہوئے

بلدیاتی انتخابات میں انتخابی مہم کے دوران دو امیدواروں کی اپنے اپنے حامیوں سمیت ایک گلی میں مڈبھیڑ ہوئی تو مخالفانہ نعرے بازی پہلے ہاتھا پائی ، پھر مکے بازی اور بالآخر اینٹ پتھر چلانے میں بدل گئی ، اچانک ہائے ہائے کی آواز آنے لگی ، معلوم ہوا کہ ایک امیدوار کے ماتھے پر کوئی پتھر لگ گیا ہے جس سے خون نکل آیا ہے ، صورت حال بگڑتی دیکھ کر سب لوگ تتر بتر ہوگئے ، مضروب امیدوار نے وہی پتھر اٹھایا اور گھر گھر دروازہ کھٹکھٹا کر اپنے ماتھے سے رستا خون اور پتھر دکھاتے ہوئے بتاتا چلا گیا کہ اس کو مخالف نے مارا ہے ، شام تک علاقے کی سیاسی ہوا اس کے حق میں چل پڑی اور اگلی صبح بیلٹ باکس سے ساری پرچیاں اسی کے نام سے نکلیں، ہمدردی کے ووٹ نے کام کر دکھایا اور مخالف امیدوار مضبوط ہونے کے باوجود ہار گیا!

برصغیر پاک وہند ایسے ہمدردی کے مارے ہوئے سیاستدانوں سے بھرا پڑا ہے ، انڈیا میں گاندھی خاندان ، پاکستان میں بھٹو خاندان، بنگلہ دیش میں مجیب خاندان تو ایک طرف سری لنکا میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے ۔ ہر جگہ ایک گاندھی، ایک بھٹو، ایک مجیب اور ایک نواز شریف پاپولر ہوتا ہے اور پھر ان کے طرفداروں کی فوج ظفر موج ان کے نام پر کھڑے کھمبے کو بھی ووٹ دے کر نظر آتی ہے ۔ دوسرے معنوں میں ہمدردی کا ووٹ سمیٹنے کے لئے آپ کو پاپولر ہونا پڑتا ہے ، خواہ ہمارے بلدیاتی امیدوار کی طرح پتھر کھانے سے ہو جائیں، بے نظیر بھٹو کی طرح گولی کھاکر ہو جائیں، ذوالفقار علی بھٹو کی طرح پھانسی پر جھول کر ہوجائیں یا نواز شریف کی طرح عدالت عظمیٰ سے نااہل ہو کر ہو جائیں ، عوام جسے کاندھے پر بٹھالیتے ہیں، پھر وہ چاہے بھی تو اتر نہیں سکتا!

محترمہ کلثوم نواز کا کیس ہی لے لیجئے، ادھر ان کی حلقہ 120میں ضمنی انتخابات کے لئے نامزدگی ہوئی ادھر ان کے گلے میں کینسر کی تشخیص ہو گئی ، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ فوری طور پر پارٹی اور پارٹی کے کارکن انہیں آرام کا مشورہ دیتے ہوئے ان کی نامزدگی واپس لے لیتے لیکن ہوا اس کے عین برعکس اور اب فضا ایسی بنتی جا رہی ہے کہ ان کے مخالفین بھی ان کے خلاف بات کرنے سے کتراتے ہیں کہ اگر ان کے مرض کا تمسخر اڑایا تو کہیں اپنا ووٹر ہی ناراض نہ ہو جائے !

ادھر برطانیہ میں دیکھ لیجئے کہ ملکہ کی ضعیف العمری کے باوجود لوگ انہیں تاج برطانیہ پہنے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں ، انگریز تعلیم میں ہم سے آگے ہیں ، تہذیب و تمدن میں نمایاں ہیں لیکن ان کے ہاں بھی ملکہ برطانیہ وہاں کے عوام کی ہمدردی کی ماری ہوئی ہیں جبکہ شہزادہ چارلس بادشاہ نہ بننے کے غم میں سوکھتے جا رہے ہیں۔ اور سنئے، جاپان میں بادشاہ نے قانون میں ترمیم کرواکر اپنی جان چھڑوانے کا فیصلہ کیا ہے وگرنہ وہاں بھی ایک دفعہ بادشاہ ہمیشہ کا بادشاہ ہی تصور ہوتا تھا۔

امریکہ میں البتہ صورت حال مختلف ہے ، وہاں عام انتخابات کے قریب ہی سیاستدان پاپولر ہوتے ہیں ، ایک سال تک تقریر ی مقابلے جاری رہتے ہیں ،ا پنے اپنے منشور پیش کئے جاتے ہیں ، دفاع کیا جاتا ہے ، پھر لوگ آپ کو پارٹی کنونشن میں منتخب کرتے ہیں ، آپ کے لئے چندہ جمع کرتے ہیں ، آپ کو الیکشن لڑواتے ہیں ، جیت جائیں تو خوش، ہار گئے تو بھول بھال کر اگلے چار سال کے لئے اپنے اپنے کام میں جت جاتے ہیں اور صدر امریکہ وائٹ ہاؤس میں نوکری پر لگ جاتا ہے ، اللہ اللہ ، خیر سلاّ......وہاں ہماری طرح لاشوں کو کندھوں پر ڈال نہیں پھرا جاتا کیونکہ وہاں ادارے مضبوط ہیں ، ہمارے ہاں ہمدردیاں مضبوط ہیں!

کسی گاؤں میں بارات گئی ، رات ٹھہرنا پڑا ، پوری بارات کو کھلے میدان میں چارپائیاں بچھاکر سلادیا گیا، رات کو ایک باراتی کی پیاس سے آنکھ کھلی اور چوہدری کے ملازم بشیر سے کہا کہ پانی پلائے ، وہ ایک گلاس پانی بھرلایا، اتنے میں ایک اور جاگا اور کہنے لگا کہ بشیر مجھے بھی پلانا، تمھیں ثواب ہوگا، پھر باری باری ساری بارات اٹھ بیٹھی اور ہر کوئی بشیرے کو ثواب کا لالچ دے کر پانی طلب کرنے لگا، بشیرے نے کچھ دیر تو جگ گلاس بھر بھر کر پانی پلایا ، جب پانی سر سے گزرتا دیکھا تو ڈیوڑھی جا کر جگ گلاس پھینکا اورایک کھولی میں لیٹ گیا۔ باہر لوگ پانی پانی کر رہے تھے ، دیر ہوئی تو چوہدری خود اٹھا اور بشیرے کی تلاش میں گھر گیا۔ کھولی میں لیٹا دیکھ کر اسے ٹانگ ماری اور پوچھا کون ہے تو وہ دھیرے سے بولا ، چوہدری صاحب، میں ہوں بشیرا، ثواب کا مارا ہوا!

ہمارے نواز شریف کا حال بھی بشیرے جیسا ہو چکا ہے ، سینہ ان کا چیرا گیا ہے ، آواز ان کی پھٹ چکی ہے ، بے جا دوڑ دھوپ کی سکت ان میں نہیں رہی لیکن ہم ان سے ہمدردی میں ان کی جان لینے کے درپے ہیں ، وہ ہماری ہمدردیوں کے مارے ہوئے ہیں، اللہ ان کی مشکل آسان کرے!

مزید : کالم