لاہور گونگا ہے؟

لاہور گونگا ہے؟

انیس برسوں بعد مردم شماری ہوئی، ایک مرتبہ پھر میاں نواز شریف کی حکومت نے ہی جرات کرتے ہوئے یہ آئینی ضرورت پوری کی، حالانکہ اس دوران فوجی آمر پرویز مشرف اوراس کے بعد پیپلزپارٹی کے جناب آصف علی زرداری کی حکومتیں بھی قائم رہیں، ان دونوں حکمرانوں کا کراچی سے ایک خاص تعلق رہا، میں کراچی سے تعلق اور ان کی نااہلی کا ذکر اِس لئے کر رہا ہوں کہ اس وقت کراچی نے ہی مردم شماری پر سب سے زیادہ شور مچارکھا ہے، وہاں کے کچھ سیانے شائد کراچی کی آبادی کو چین سے بھی زیادہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں اس بات کا دکھ کم ہے کہ کراچی کی آبادی کیوں ڈیڑھ کروڑ ظاہر کی گئی، زیادہ بڑا دُکھ تو یہ ہے کہ لاہور کی آبادی ایک کروڑگیارہ لاکھ کیسے ہو گئی۔ وہ انتہائی چالاکی کے ساتھ سندھ اور پنجاب کی بجائے کراچی اور لاہور کا تقابل کر رہے ہیں ، جان لیجئے، سندھ کو این ایف سی ایوارڈ اور قومی اسمبلی کی سیٹوں میں کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا، مگر پنجاب کو ان دونوں شعبوں میں نقصان ہو گا، کیونکہ پنجاب کی شرح اضافہ کو مُلک بھر میں سب سے کم ظاہر کیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کی سیاست کا انحصار ہی پنجاب کو گالی دینے پر ہے، وہ لوگ جو لاہور کی شرح اضافہ ایک سو سولہ فیصد ظاہر ہونے پر زبانیں منہ میں ہی نہیں ڈال رہے وہ ، تمام کے تمام، پشاور میں شرح اضافہ کے ایک سو فیصد ہونے پر گھنگنیاں ڈالے بیٹھے ہیں، کیونکہ مسئلہ شرح اضافہ نہیں ہے،مسئلہ تو لاہور اور پنجاب سے دشمنی کے گمراہ کن نعرے ہیں۔

شماریات ڈویژن نے اپنے اعداد و شمار پر سٹینڈ لیا ہے جو اسے لینا بھی چاہئے تھا کہ آبادی کا تعین اور اس کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کسی دباو یا خواہشات پر نہیں ہو سکتی کہ کراچی کے کچھ نمائندہ لوگ کراچی کو دنیا کا سب سے بڑا شہر ثابت کرنا چاہتے ہیں تو ا س کے لئے دھڑا دھڑ بیانات بھی دیتے ہیں اور جب یہ بیانات مختلف اخبارات میں چھپ جاتے اور گوگل سرچ میں بھی آجاتے ہیں تو وہ گوگل کو دلیل بنا کے لے آتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ کراچی میں پیپلزپارٹی والے سالہا سال تک قائم علی شاہ جیسی غیر فعال شخصیت کو وزیراعلیٰ رکھیں، وہاں نو گو ایریاز ہوں، بوری بند نعشیں ملتی ہوں، کراچی شہر عالمی رینکنگ میں گندے ترین شہروں میں چھٹے یا ساتویں نمبر پر ہو تو آپ محض معاشی ترقی اور محصولات کے اکٹھے ہونے کے گمراہ کن اعداد وشمار کی بنیاد پر شرح آبادی میں اضافے کے خواب کو حقیقت ثابت نہیں کر سکتے۔ مجھے اجازت دیجئے کہ ’ کراچی پاکستان کے ستر فیصد فنڈز جنریٹ کرتا اور پاکستان کو پالتا ہے‘ کے پروپیگنڈے کی حقیقت بھی لگے ہاتھوں بیان کردوں۔ اس وقت پاکستان میں کام کرنے والی زیادہ تر ملک گیر اور بین الاقوامی کمپنیوں کے صدر دفاتر کراچی میں ہیں ، ان میں موبائل فونوں کی سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی ہیں اور ہمارے وہ بنک بھی ہیں جن میں ملک بھر سے عوام اپنی کمائی اور بچتیں جمع کرواتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر کراچی پورٹ پر اترنے والا سامان ہے جو چاہے لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ یا پشاور ہی کے لئے کیوں نہ ہو اس کی درآمد پر ڈیوٹی پورٹ پر ہی واجب اور ادا ہوجاتی ہے۔ اب میں لاہور میں بیٹھ کے فون کارڈ لوڈ کرتا اور کوئٹہ کال کرتا ہوں تو اس کا ٹیکس کراچی میں موبائل فون والے جمع کرواتے ہیں، میرے پیسے درہ آدم خیل کی برانچ میں جمع ہوتے ہیں اور اس کا ٹیکس بھی کراچی میں ہی کٹتا ہے۔ اس وقت ظاہر یہ کیا جاتا ہے کہ کراچی میں ہی تمام کاروبار ہوتا ہے باقی پاکستان تو بس چھان بورے پر ہی گزارا کرتا ہے۔

جب ہم ان انیس برسوں کی بات کرتے ہیں تو ہمیں کراچی میں بیٹھے ہوئے قائم علی شا ہ کے مقابلے میں لاہور میں شہباز شریف نظر آتا ہے جو چھوٹی سی چھوٹی مشکل پر اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، لاہور میں ڈینگی آتا ہے تو ثابت ہوتا ہے کہ پنجاب والے اپنی گورننس سے اس وبا کا مقابلہ سری لنکا سمیت ان تمام ممالک سے بہتر کر سکتے ہیں جو سالہا سال سے اس کے ماہر ہونے کے دعوے کر رہے ہیں۔ پولیس کی طرف سے زیادتی ہو یا ہسپتال میں سہولتوں کی عدم فراہمی، شہباز شریف عوام کے ساتھ کھڑا ہوتا اور غفلت کے ذمہ داروں کو کڑی سزا دے رہا ہوتا ہے۔ کراچی میں ہمیں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نظر نہیں آتا مگر یہاں برسوں سے میٹرو بس چلتی ہے اور اب میٹرو ٹرین چلنے والی ہے۔ یہاں صفائی کا برس ہا برس سے یہ نظام ہے کہ کوڑے کے ڈھیر تو ایک طرف رہے عیدا لاضحی پر جانوروں کی آنتیں، انتڑیاں اور فضلہ ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے پھینکے ہی نہیں گئے تھے۔ لاہور کے پھیلاو کا ذکر میں نے گذشتہ کالم میں تفصیل سے کر دیا تھا۔ یہ وہ شہر ہے جس کی سڑکوں کی تعمیر نے بہت ساروں کے کلیجے جلائے ہیں اوریہی وہ شہر ہے، جس میں غنڈوں اور بدمعاشوں کے حقوق کے تحفظ کی اس وقت باتیں کی گئیں جب آج سے بیس برس پہلے انہیں پولیس مقابلوں میں پار کیا گیا مگر ا س کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاہورمیں کراچی جیسا کوئی نو گو ایریا نہ تھا اور نہ ہے ۔ سب سے بڑھ کے لاہوریوں کے روئیے کی تعریف ہونی چاہئے کہ یہ لاہور میں آنے والے اپنے پختون اور بلوچ بھائیوں کو گلے سے لگاتے ہیں۔ انہیں صحت، تعلیم اور روزگار کی تمام سہولتیں فراہم کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ہمیشہ لاہور کی طرف انگلی اٹھائی جاتی ہے،اس کو گالی دی جاتی ہے، مگر لاہور خاموش رہتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا لاہور گونگا ہے، کیا لاہور لاوارث ہے؟

میں اپنے کراچی کے بھائیوں سے کہوں گا، ظاہر ہے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اپنے سندھی بھائیوں سے کہوں گا کہ ان دونوں میں بہت فرق ہے اور اس فرق کو اندرون سندھ جا کے زیادہ دیکھا جا سکتا ہے۔ پروپیگنڈہ کرنے والے میرے جنوبی پنجاب کی بات کرتے ہیں، مگر جب سوا ل اندرون سندھ کا اٹھتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ جنوبی پنجاب کا مقابلہ کرنے کے لئے اندرون سندھ کو سینکڑوں برس درکار ہوں گے۔ میں جانتا ہوں کہ جب لاہور اور پنجاب کی بات کی جائے تو بہت سارے سوال اٹھا دئیے جاتے ہیں، مگر جب لاہور اور پنجاب کی ضروریات، حقوق اور مفادات کے خلاف آل پارٹیز کانفرنسیں اعلان کی جاتی ہیں تو کوئی سوال نہیں کرتا۔ کیا اب لاہور کو ایسی ہی کانفرنس نہیں کرنی چاہئے جس میں وہ پوچھے کہ وہ کون سی کمی اور کوتاہی ہے جس کی بنیاد پر اس کی آبادی میں شرح اضافہ کو ملک بھر میں سب سے کم ظاہر کیا جا رہا ہے، شور مچانے والے سندھ سے بھی کم شرح اضافہ، کیا یہ کوئی سازش تو نہیں ہے کہ اس کا قومی وسائل اور قومی نمائندگی میں شئیر مزید کم کر دیا جائے۔

ہاں ، اصل بات رہ گئی جو میں نے اپنے کراچی کے بھائیوں سے کہنی ہے، وہ یہ کہ مردم شماری کے اور بھی بہت سارے ایسے پہلو ہیں جن پر بات کرنا اس نفرت اور تعصب کو پھیلانے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ ہمیں بات کرنی چاہئے کہ خواتین جو کہ آبادی کا اکاون یا باون فیصد حصہ سمجھی جاتی تھیں وہ اڑتالیس فیصد پر کیسے آ گئیں یعنی اس وقت ملک میں 51 لاکھ، 34ہزار، 542 عورتیں مردوں سے کم ہیں۔ بیٹیاں کم پیدا ہونے کا رجحان کیسے کامیاب ہوا اورا س کے اس معاشرے پر کیا اثرات ہوں گے جہاں مذہب اور روایات کے تحت ایک سے زائد بیویاں رکھنے کی اجازت اور سہولت ہے۔ دوسرے پونے اکیس کروڑ کی آبادی کے لئے تین کروڑ بائیس لاکھ پانچ ہزار مکان ہیں] یعنی سات افراد کے لئے ایک ، ہم اپنے شہریوں کو گھر کیسے دے سکتے ہیں، یہ زیادہ بڑا اور اہم سوال ہے۔ ابھی یہ اعداد وشمار سامنے آنے باقی ہیں کہ ہمارے کتنے گھروں میں ٹوائلٹس موجود ہیں اور کتنی آبادی کو ابھی تک یہ بنیادی سہولت حاصل نہیں کہ ہمارے ہمسایہ ملک میں چند برس پہلے تک آدھی آبادی ٹوائلٹس سے محروم سمجھی جاتی تھی اور وہاں الیکشن جیتنے والے مودی کو اس بارے ایک خصوصی نعرہ دینا پڑا تھا۔ مجھے اپنے ملک میں مسیحی اور ہندو برادریوں کی اصل تعدادکا بھی انتظار ہے تاکہ ہم اکثریت کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہوئے ان کے حقوق کا بھی خیال رکھ سکیں مگر ہمارے کچھ دوستوں نے بات اُلجھا دی ہے، میں جو خواتین، گھروں اور اقلیتوں کے مسائل پر آخری پیرا گراف پر پورا کالم لکھنا چاہتا تھا مگر مجھے مجبور کر دیا گیا ہے کہ میں اپنے کالم کا عنوان رکھوں کہ کیا لاہور گونگا ہے؟

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...