عدلیہ سے لڑتا نہیں ان کیساتھ بھاگتا ہوں جب تک کہ وہ تھک نہ جائیں ، 62اور 63کا معاملہ آنیوالی اسمبلی کا مینڈیٹ ہے ہمارا نہین : زرداری

عدلیہ سے لڑتا نہیں ان کیساتھ بھاگتا ہوں جب تک کہ وہ تھک نہ جائیں ، 62اور 63کا ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے این آر او میں جمہو ر یت ، الیکشن اور نوازشریف کی واپسی بھی تھی جبکہ پرویز مشرف کی وردی نہ اترواتے تو وہ آج بھی بیٹھے ہوتے۔ عدلیہ سے لڑتا نہیں بلکہ ان کیساتھ بھاگتا ہوں جب تک وہ تھک نہ جائیں،مک مکا کہہ دینا بہت آسان ہے، مگر ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے۔ کبھی کرپشن کی اور نہ اس کی حوصلہ افزائی کی، 5 سال صدر رہا میرے پاس تمام پاورز تھے، رضاکارانہ طور پر تمام اختیارات واپس کیے۔ پیپلزپارٹی نے کبھی انتقامی کارروائی نہیں کی، چاہتا تو نواز شریف کو پنجاب حکومت نہ دیتا لیکن پھر میں مشرف کو نہیں نکال پاتا، حکومتیں آتی جاتی رہتیں۔62 اور 63 کا معاملہ آنیوالی اسمبلی کا مینڈیٹ ہے ہوگا وہ ترمیم کرسکتی ہے، یہ ہمارا مینڈ یٹ نہیں ہے۔ بی بی شہید دو مرتبہ ایوانوں سے نکالی گئیں مگر ہم نے کوئی مارچ نہیں کیا۔ مغل بادشاہ نے پارلیمنٹ میں آنا پسند نہیں کیا، میں نے ان کی حکومت بچائی، ابھی ان کی میری جنگ شروع نہیں ہوئی، ابھی میں ان سے ناراض نہیں ہوا، یہ دوستوں کیساتھ کیسا کرتے ہیں، جسٹس کھوسہ نے جو کہہ دیا اس سے بڑی تاریخ کوئی نہیں لکھ سکتا، اللہ رحم کرے اور ان سے بچائے۔ ہمیں پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا چاہیے جس کیلئے ہم ہمیشہ ڈائیلاگ کرتے رہیں گے۔ الیکشن میں جانا ہر کسی کا حق ہے، ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، میری نظر میں اس بار آزاد امیدوار ز یا دہ ہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفر نس کرتے ہوئے انکا کہنا تھا ہمارے ہر کیس کی چار سے پانچ سو پیشیاں ہیں اور ہمیں پتا تھا ہم پر سیاسی کیسز بنائے گئے ہیں۔ غلام اسحاق خان کے دور میں مجھ پر 12کیسز بنائے گئے، مجھے ایم پی او کے تحت بند کیا گیا، دیگر کیسز میں قید میں ر کھا گیا لیکن میں نے اپنے سب کیسز جیل میں بیٹھ کر لڑے۔ میرے خلاف کیسز لمبے عرصے کیلئے چلائے گئے، انہوں نے سوچا کیس نہیں چلائیں گے تو نوکری چلی جائے گی، انہو ں نے جتنے کیسز مجھ پر بنائے میں جیت گیا۔ ہم نے کبھی کرپشن کی اور نہ اس کی حوصلہ افزائی کی، یہ نہیں کہتا معاشرہ بہت صاف ہے یا ہوسکتا ہے مگر ہم نے ہمیشہ کوشش کی، کوئی کلرک بھی اختیارات واپس نہیں دیتا، میں 5 سال صدر رہا میر ے پاس تمام پاورز تھے، میں نے رضا کا ر ا نہ طور پر تمام اختیارات واپس کیے۔ ہمارے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا، ایسا اس لیے کیا کہ کہہ سکوں میرے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا۔ آج بھی میرا وزیراعظم 21 ریفرنس کا سامنا کررہا ہے، نوازشریف قسم کھاتے ہیں کہ وہ انہوں نے نہیں بنائے، راجہ پرویز اشرف10 ارب کے ریفرنس پر پیش ہورہے ہیں، ہر ریفرنس جھوٹا ہے اب انہیں کون روکے گا۔ اگر پاور اپنے پاس رکھتا تو کابینہ کی میٹنگ سمیت ہر چیز میرے پاس ہوتی، مجھ پر کوئی داغ دھبہ اس لیے نہیں آسکا کہ میں نے کوئی پاور یا دھبہ اپنے پاس نہیں رکھا۔ نیب کا اپنا مائنڈ سیٹ ہے، سندھ میں غریبوں کو اٹھا کر لے آتے ہیں، انہیں بلیک میل کرتے ہیں اور بارگینگ کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ہماری ہرجمہوریت میں اتفاق رائے ہوتا ہے، ہماری سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں فیصلے لیے جاتے ہیں، میں اکیلا کوئی فیصلہ نہیں لے سکتا مگر بلاول کو کوئی ناں نہیں کہہ سکتا۔باسٹھ تریسٹھ پر ہمارے اپوزیشن لیڈر کہہ چکے ہیں یہ آنیوالی اسمبلی کا مینڈیٹ ہوگا وہ کرسکتی ہے، یہ ہمارا مینڈیٹ نہیں ۔ ہم نے 73 کا آئین بحال کرکے نیا آئینی پیکیج دیدیا ہے، اب ان کو چار سال ملے یہ اس پر نہیں چلے، الیکشن میں جانا ہر کسی کا حق ہے، ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، وہ بھی آئیں گے ہم بھی آئیں گے، عمران خان بھی آئیں گے، میری نظر میں اس بار آزاد امیدوار زیادہ ہیں۔ جیل میں میری زبان اور گردن کاٹی گئی ،عدالت نے ثابت کیا یہ خودکشی نہیں بلکہ یہ تشدد کیا گیاہے۔ مجھے ایم پی او کے تحت بند کیا گیا،سارے مقدمے جیل میں بیٹھ کر لڑے اور تمام میں بری ہوا ،جب میں جیل سے نکلا تو مجھے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ،جیل سپریٹنڈنٹ نے کہا سر سامان یہیں رہنے دیں آپ نے دوبارہ آناہے۔ مشرف نے بھی مجھ پر دو مقدمات بنائے تھے۔

زرداری

 

مزید : صفحہ اول