ریاض، 36 کروڑ 40 لاکھ 78 ہزار 500 روپے کا بکرا

ریاض، 36 کروڑ 40 لاکھ 78 ہزار 500 روپے کا بکرا
 ریاض، 36 کروڑ 40 لاکھ 78 ہزار 500 روپے کا بکرا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا میں آئے روز عجیب و غریب خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں جن میں سے اکثر تو ایسی ہوتی ہیں کہ انسان ان کی تفصیلات میں بھی نہیں جاتا۔ لیکن اب ایک ایسی خبر منظرعام پر آئی ہے جو عجیب و غریب سے بھی کچھ زیادہ ہے اور اس نے ہر کسی کی توجہ حاصل کر لی ہے۔عید قربان میں چند روز باقی ہیں اور ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی بساط سے بڑھ کر اور خوبصورت سے خوبصورت ترین جانور اللہ عزو جل کی راہ میں قربان کرے مگر ایسے میں ایک سعودی شہری سب پر بازی لے گیا ہے جس نے ایسا کام کر دکھایا ہے کہ بہت سے لوگ اگر اس کی تعریف کر رہے ہیں تو دوسری جانب اسے خاصی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ایک سعودی شہری نے ایک کروڑ 30 لاکھ سعودی ریال (36 کروڑ 40 لاکھ 78 ہزار 500 پاکستانی روپے) میں صرف ایک بکرا خرید کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔بکرا خریدنے والے سعودی شہری کا کہنا ہے کہ اس نے یہ اس لئے خریدا ہے کہ یہ انتہائی نایاب نسل سے تعلق رکھتا ہے اور وہ اسے عید الاضحی پر قربان کرنا چاہتا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ انتہائی منفرد خصوصیات کا حامل ہے جو اس سے پہلے کسی بھی نسل کے بکرے میں نہیں دیکھی گئیں۔جیسے ہی یہ خبر منظرعام پر آئی تو سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے اور ہر کوئی اس پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہے۔ ایک جانب جہاں بہت سے لوگ اتنی مہنگی قربانی پر تعریف کر رہے ہیں تو اکثر لوگوں نے اس شہری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’فضول خرچی‘ قرار دیا ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک تصویر میں یہ تو نظر آ رہا ہے کہ یہ بکرا اپنے رنگ، قد کاٹھ وغیرہ کے حساب سے واقعی منفرد اور نایاب نظر آ رہا ہے مگر اس کی وہ ’’نمایاں خصوصیات‘‘ تاحال منظرعام پر نہیں آئیں جن کی جانب مذکورہ سعودی شہری نے اشارہ کیا ہے۔سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں لائیو سٹاک کی قیمتوں میں ہر سال اتار چڑھاؤ دیکھا جاتا ہے مگر اس کے باوجود صرف ایک بکرے کیلئے 1 کروڑ 30 لاکھ ریال ادا کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔سوشل میڈیا پر بہت سے افراد اس قدر زیادہ قیمت سے متعلق بات کر رہے ہیں اور دوسری جانب بہت سی سنجیدہ شخصیات نے اس قدر زیادہ رقم خرچ کرنے پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب دنیا بھر میں معاشی بحران جاری ہے اور ایک بکرے پر کروڑوں روپے خرچ کئے جا سکتے ہیں تو یہی رقم یا اس سے آدھی ان لوگوں کی بحالی پر خرچ کی جا سکتی تھی جو غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔دنیا میں پناہ گزین کی تعداد بھی کم نہیں اور بیروزگاری بھی انتہاء پر ہے تو یہ رقم ان کیلئے بہتری کا پیغام لا سکتی تھی اور اس سے کئی زندگیاں بدلی جا سکتی تھیں۔ سعودی عرب میں قربانی کے کسی جانور کیلئے اب تک ادا کی گئی یہ سب سے بڑی رقم ہے اور اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔لائیو سٹاک ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مذکورہ بکرا اگرچہ واقعی انتہائی نایاب نسل سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی کئی منفرد خصوصیات ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اس کیلئے ادا کی گئی رقم بہت زیادہ ہے۔

بکرا/مہنگا

مزید : صفحہ اول