چینی کمپنی کا ملتان میٹروبس پراجیکٹ میں کام کا دعویٰ بوگس ثابت

چینی کمپنی کا ملتان میٹروبس پراجیکٹ میں کام کا دعویٰ بوگس ثابت

ملتان(نمائندہ خصوصی)پونے دو ارب روپے سے زائد مالیت کی منی لانڈرنگ میں ملوث چینی کمپنی کا ملتان میٹروبس پراجیکٹ میں کام کرنے کا دعویٰ بوگس ثابت ہوا۔ایم ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق منی لانڈرنگ کرنیوالی کیپٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹریکشن کمپنی نے نہ تو پری کوالیفکیشن کے پراسس میں حصہ لیا اور نہ ہی ٹینڈر حاصل کیا۔ملتان میٹروبس میں صرف چائنہ ریلوے فرسٹ گروپ ،حبیب رفیق کنسٹریکشن فرمز اورمیٹروکان سے جوائنٹ وینچرنے پیکج نمبر3کا کنٹریکٹ حاصل کیا پیکج نمبر3کا ایریا مچھلی مارکیٹ سے منظور آباد چوک تک ہے اس جوائنٹ وینچر نے ٹوٹل کنٹریکٹ تقریباًاڑھائی ارب روپے میں حاصل کیا۔اس جوائنٹ وینچر میں چائنہ ریلوے فرسٹ گروپ (سی آر ایف جی )کا حصہ 50فیصد،حبیب رفیق کنسٹریکشن کمپنی کا 25فیصد اور 25فیصد شیئر میٹراکان کا تھا۔معلوم ہوا ہے اس پروجیکٹ کے پیکج تھری پر کام کرنے جوائنٹ وینچر میں سی آر ایف جی کا صرف نام استعمال ہوا ۔ اس کمپنی کی ایڈمنسٹریشن ملتان میں برائے نام نظر آئی۔اصل کام حبیب رفیق اور میٹروکان نے سرانجام دیئے۔ان کمپنیوں کی کنسٹریکشن کے اثرات بھی آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں۔جس کیوجہ سے ایم ڈی اے کو سبکی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر چینی حکومت میں کمپنی کی جانب سے منی لانڈرنگ کی انکوائری ہورہی ہے ۔ اس کمپنی نے ملتان میٹروبس پروجیکٹ میں کام ہی نہیں کیا۔کیپٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹریکشن کمپنی کا کوئی نمائندہ نہ تو کنٹریکٹرز کی پری کوالیفکیشن میں شامل ہوا اور نہ ہی ٹینڈر پراسس میں آیا۔جبکہ اس کمپنی کے کسی نمائندہ نے پری کوالیفکیشن دستاویزات ہی حاصل نہیں کیں۔دوسری جانب اڑھائی ارب روپے کے کنٹریکٹ سے پونے دو ارب روپے کے منافع کی اطلاعات نے ابہام پیدا کررکھا ہے۔ملتان میٹروبس پروجیکٹ جو کہ پہلے ہی شفافیت کیوجہ سے ابہام کا شکار ہے ۔اب منی لانڈرنگ کی اطلاعات نے اس پراجیکٹ پر کام کرنیوالے سابق کمشنر ملتان ڈویژن اسداللہ خان،سابق ایڈیشنل ڈی جی ایم ڈی اے الطاف حسین ساریو سمیت دیگر افسران کی غیر جانبداری پر سوال کھڑے کردیتے ہیں۔جبکہ سابق چیف انجینئر صابر خان سدوزئی کی اس پروجیکٹ پر تعیناتی اور بار بار توسیع سے معنی خیز سوال پیدا ہوتے ہیں جبکہ انجینئر خالد پرویز کی مدت ملازمت میں اضافہ نے بھی منفی خدشات کو تقویت دی ہے کہ ان افسران کو بار بار توسیع دیکر کس راز پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

چینی کمپنی

مزید : صفحہ اول