خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے گڈگورننس کے دعوؤں کو ایک اور جھٹکا

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے گڈگورننس کے دعوؤں کو ایک اور جھٹکا

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں کہ اس نے صوبے میں گڈ گورننس کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں اور وہاں تبدیلی کی ایسی معطر ہوائیں چل رہی ہیں کہ اٹک کا پل پار کرتے ہی جسم و جاں راحت محسوس کرنے لگتے ہیں، ابھی حال ہی میں صوبائی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہاں سرکاری سکولوں میں تعلیم کا معیار اس قدر بلند کردیا گیا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو پرائیوٹ سکولوں سے نکلوا کر خوشی خوشی سرکاری سکولوں میں داخل کروا رہے ہیں اور ان بچوں کی لائن لگی ہوئی ہے جو سرکاری سکولوں کی اس چکا چوند روشنی سے متاثر ہوکر ان میں داخل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہمیں خود تو اس صورت حال کا تجربہ نہیں لیکن ایسی خبریں ضرور پڑنے کو ملیں جن میں کہا گیا تھا کہ صوبے کے کسی بھی تعلیمی بورڈ کی کوئی بھی پوزیشن (اول، دوم، سوم) کسی سرکاری سکول کے حصے میں نہیں آئی، ہم نے تحریک انصاف کے ایک ہمدرد سے پوچھا کہ کیا واقعی ایسا ہے تو انہوں نے اس براہ راست اور سیدھے سے سوال کا جواب ذرا ٹیڑھے انداز میں دیا اور کہا کہ تحریک انصاف کے سیاسی مخالفوں کو صوبے کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی وہ اگر آنکھیں کھول کر دیکھتے تو انہیں نظر آتا کہ صوبہ ترقی کی منزلیں مارتا آگے بڑھ رہا ہے، بلین ٹری سونامی کی وجہ سے ہریالی چاروں طرف نظر آتی ہے۔ ہم نے کہا چلئے درخت تو لگے ہوں گے لیکن یہ تعلیمی ترقی کا کیا معاملہ ہے اس کا ذمہ دار بھی انہوں نے سیاسی مخالفوں کو ٹھہرایا اور کہا پنجاب کی تعلیمی ترقی صرف اشتہاروں میں نظر آتی ہے یہاں کروڑوں بچے تو سکول بھی نہیں جاتے۔

صوبے کی گڈ گورننس پر بعض سوالات تو سیای مخالفین اٹھاتے ہیں جنہیں بڑی آسانی سے رد بھی کیا جاسکتا ہے لیکن ایک سوال سپریم کورٹ نے بھی اٹھا دیا ہے اور اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ خواتین کے کرائسز سنٹر بند کرنا خیبر پختونخوا میں گورننس کی بدترین مثال ہے، یہ سنٹر پشاور، سوات، ایبٹ آباد اور کوہاٹ میں مصیبت زدہ خواتین کی امداد، بحالی اور تحفظ کے لئے قائم کئے گئے تھے لیکن 2010ء میں فنڈز کی عدم دستیابی کی بناء پر صوبے کی سابق حکومت نے یہ سنٹر بند کردیئے جس پر ان سنٹروں میں کام کرنے والی خواتین نے کرائسز سنٹرز کی بحالی کے لئے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے سنٹر بحال کرنے کا حکم دیا لیکن موجودہ صوبائی حکومت نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کردی، اپیلٹ کورٹ نے نہ صرف پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے صوبائی حکومت کو یہ سنٹر بحال کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ بعض ایسے ریمارکس بھی دیئے ہیں جو تحریک انصاف کے گڈ گورننس کے دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں جسٹس دوست محمد نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے تحریک انصاف نے خواتین کے نام پر ووٹ لئے اب ان سے بدسلوکی کیوں؟ ان سنٹرز میں خواتین کی اکثریت ہے کیا حکومت خواتین کو ملازمتوں سے محروم رکھنا چاہتی ہے۔ فاضل جج نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے منشور میں لوگوں کو باشعور بنانے کا وعدہ کیا تھا یہ خواتین کی اکثریت والی جماعت ہے لیکن انہیں ہی حقوق سے محروم کررہی ہے خیبر پختونخوا حکومت بھی خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہے یہ سب سے بڑی نمائندہ ہونے کی دعویدار ہے۔اس لئے اب اسے صوبے میں خواتین کی حالت بہتر بنانے کے لئے کام کرنا چاہئے، فاضل جج نے مزید لکھا ہے کہ ان سنٹروں کو کھولنے سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ حکومت نے عالمی معاہدوں پر دستخط کئے ہوئے ہیں اور انہی معاہدوں کی بدولت سالانہ کروڑوں روپے وصول کئے جاتے ہیں اگر خواتین کو با اختیار نہیں بنانا تو پہلے ان عالمی معاہدوں سے باہر آئیں خواتین کو غلام بنانے کی بجائے انہیں با اختیار بنانا ہوگا، حکومت خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے مزید ٹھوس اور مربوط اقدامات کرے۔ خیبر پختونخوا میں رسم و رواج کے نام پر بعض ایسی ناروا پابندیاں ہیں جو قانون کے بھی خلاف ہیں لیکن یہ خلاف ورزیاں جاری رہتی ہیں، مثال کے طور پر الیکشن کے موقع پر بعض حلقوں میں امیدوار باہم طے کرلیتے ہیں کہ خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی چنانچہ کوئی خاتون اس مقصد کیلئے گھر سے نہیں نکلتی اور صرف مرد ووٹوں کی گنتی کے ذریعے امیدواروں کی کامیابی اور ناکامی کا اعلان کردیا جاتا ہے ایسے بعض معاملات جب عدالتوں میں پہنچے تو عدالتوں نے انتخابات کالعدم قرار دے دیا تاہم اب تک اس رسم کا پوری طرح قلع قمع نہیں کیا جاسکا۔ تحریک انصاف کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس کے جلسوں میں خواتین کی ایک قابل لحاظ تعداد شرکت کرتی ہے، دھرنے کے دنوں میں بھی خواتین ان میں شریک ہوتی تھیں یہ اس لئے ہے کہ تحریک انصاف خواتین کو ترقی کے یکساں مواقع دینے کے حق میں ہے لیکن عجیب اتفاق ہے کہ اس کی صوبائی حکومت نے خواتین کے لئے مختص کرائسز سنٹر بند کردیئے جہاں زیادہ تر خواتین ہی ملازمت کرتی تھیں، لیکن جب فنڈز کی عدم دستیابی کی بناء پر یہ سنٹر بند کردیئے گئے تو ملازم خواتین نے سنٹرورں کی بحالی کیلئے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے سنٹر بحال کرنے کا حکم دیدیا لیکن صوبائی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کردی اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبائی حکومت نہیں چاہتی تھی کہ یہ سنٹر بحال ہوں اس لئے اس نے بحالی کے خلاف ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے رجوع کرلیا، جس نے فیصلہ اس کے خلاف دیا، اب سپریم کورٹ کے حکم پر یہ سنٹر تو بحال ہوجائیں گے لیکن یہ سوال پوری شدت سے اٹھایا جاتا رہے گا، کہ کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ صوبائی حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل ہی نہ کرتی اور حکم پر عملدرآمد کردیتی لیکن ایسے لگتا ہے صوبائی حکام ہر قیمت پر یہ سنٹر بند کرنے پر تلے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے سپریم کورٹ تک مقدمہ لڑا، یہ اندازِ فکر خواتین کے بارے میں اس جماعت کے طرز عمل کے تضاد کو نمایاں کرتا ہے، جب عائشہ گلالئی کا معاملہ سامنے آیا تھا تو پارٹی نے جس انداز میں ان کے خلاف مہم چلائی تھی اس سے پارٹی کی سوچ سامنے آگئی تھی اب سپریم ورٹ کے ریمارکس نے اس کی گڈ گورننس پر مزید سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔

جھٹکا

مزید : تجزیہ