نئی مردم شماری ، پارلیمنٹ قومی اسمبلی نشستوں کی تعداد کا ازسرنو تعین کرنے کی پابند ہو گی

نئی مردم شماری ، پارلیمنٹ قومی اسمبلی نشستوں کی تعداد کا ازسرنو تعین کرنے کی ...

لاہور(کامران مغل)نئی مردم شماری کے سرکاری نتائج کے نوٹیفکیشن کے بعد پارلیمنٹ قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد کا ازسرنو تعین کرنے کی پابند ہو گی تاہم مردم شماری کے تناظر میں صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ آئینی تقاضہ نہیں ہے۔آئینی ماہرین کے مطابق دستور کے آرٹیکل 51(5)میں واضح کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں نشستوں کا تعین سرکاری طور پر شائع شدہ گزشتہ آخری مردم شماری کے مطابق آبادی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔قومی اسمبلی کی موجودہ نشستیں 1998ء کی مردم شماری کے مطابق مقرر کی گئی ہیں ۔1998ء کی مردم شماری کے مطابق اس وقت ملک کی آبادی 13کروڑ 8لاکھ 57ہزار717تھی جبکہ اب یہ آبادی 20کروڑ70لاکھ ہوچکی ہے ۔اس وقت اسمبلی میں عمومی نشستیں 272ہیں جبکہ خواتین کے لئے 60اور اقلیتوں کے لئے 10نشستیں مخصوص ہیں جو کہ مجموعی طور پر342بنتی ہیں ۔آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ آبادی کے تناسب سے قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کی آئینی طور پر پابند ہے تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ نشستوں میں اتنے فیصد ہی اضافہ کیا جائے جتنے فیصد اضافہ آبادی میں ہوا ہے ۔قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کے لئے آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں اور یہ کام سادہ قانون سازی کے ذریعے عمل میں لایا جاسکتا ہے ۔آئین کے آرٹیکل51میں مردم شماری کے مطابق آبادی کی بنیاد پر ہر صوبے ،وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات اور وفاقی دارالحکومت کے لئے قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد مقرر کرنا ضروری ہے جبکہ صوبائی اسمبلیوں سے متعلق آئین کے آرٹیکل106میں ایسی کوئی پابندی عائد نہیں ہے ۔آئین کے آرٹیکل 222کے تحت انتخابی حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں ۔قانون کے تحت یہ حلقہ بندیاں الیکشن کمشن قومی اسمبلی کے لئے مختص کی گئی نشستوں کی بنیاد پر کرتا ہے ۔اس سال ہونے والی مردم شماری قیام پاکستان کے بعد سے چھٹی مردم شماری ہے ،پہلی مردم شماری 1951ء میں ہوئی تھی جس کے تحت مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان)کی آبادی 3کروڑ37لاکھ تھی ۔دوسری مردم شماری 1961ء میں ہوئی جس کے تحت مغربی پاکستان کی آبادی 4کروڑ 28لاکھ نفوس پر مشتمل تھی ۔تیسری مردم شماری کا 1971ء میں اعلان ہوا لیکن ملکی حالات کے پیش نظر اسے ملتوی کردیا گیا اور پھر یہ مردم شماری 1972ء میں کی گئی جس کے تحت پاکستان کی آبادی 6کروڑ30لاکھ تھی ۔چوتھی مردم شماری 1981ء میں ہوئی جس کے تحت پاکستان کی آبادی 8کروڑ 37لاکھ 87ہزار تھی ۔پانچویں مردم شماری 1998ء میں کی گئی جس کے تحت پاکستان کی آبادی 13کروڑ 8لاکھ 57ہزار717تھی ۔آئین کے آرٹیکل160(2)کے تحت قومی مالیاتی کمشن (این ایف سی )محصولات کی خالص قومی آمدنی کی وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم کا فارمولا طے کرتا ہے ۔علاوہ ازیں یہ کمشن وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومتوں کو امدادی رقوم کی فراہمی کا بھی فیصلہ کرتا ہے ،الیکشن کمشن کے اس عمل کو این ایف سی ایوارڈ کہا جاتا ہے اور اس ایوارڈ کا اعلان صوبوں اور وفاق کی آبادی کو پیش نظر رکھ کر کیا جاتا ہے ۔تاحال 2017ء کی مردم شماری کے نتائج کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ہے ،الیکشن کمشن نے بھی مردم شماری کے جلد ازجلد اعلان کا مطالبہ کیا ہے کیوں کہ نئی انتخابی حلقہ بندیوں کے لئے کم ازکم 6ماہ کے وقت کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔

نئی مردم شماری

مزید : صفحہ آخر