ڈاکٹر عبدالقدیر کو انکی حفاظت کیلئے نظر بند کیا:پرویز مشرف

ڈاکٹر عبدالقدیر کو انکی حفاظت کیلئے نظر بند کیا:پرویز مشرف

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے ڈاکٹر عبدالقدیر کو حفاظت دینے کیلئے نظر بند کیاگیا وہ ہمارے قومی ہیرہ ہیں، انکی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ داؤد ابراہیم کو پیدا کرنیوالا بھارت خود ہے اور بھارت آج بھی یہ ظلم روا رکھے ہوئے ہے تو ایسے لوگ دوبارہ بھی پیداہوتے رہیں گے،اکبر بگٹی کو مار نے کا میرا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا ،حکومت پاکستان کی رٹ کو جو بھی چیلنج کرے گا اس کیساتھ یہ ہی سلوک ہو گا،پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کافیصلہ بالکل ٹھیک ہے ،انہوں نے جوبویا وہی کاٹا جبکہ عوام بھی اس فیصلے سے بہت خوش ہیں۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں انکامزید کہنا تھا زندگی میں ان کو سب سے زیادہ شرمندگی اسوقت اٹھانا پڑی جب امریکہ کے دورے کے دوران سی آئی اے چیف نے ان کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دستخط شدہ دستاویزات دکھائے ،جس میں وہ ایران کیساتھ نیوکلیر پارٹس کا تبادلہ کرنے کی باتیں کر رہے تھے ،ڈاکٹر عبدالقدیر نے اس کام کیلئے ایک سری لنکن ایجنٹ رکھا ہواتھا جو سی آئی اے کیلئے بھی کام کرتا تھا یہ جو بھی معلومات اس کو دیتے وہ جا کر امریکہ کو بتا دیتا، ان کی حرکات پہلے ہی مشکوک تھیں لیکن چونکہ یہ ایک خفیہ کام کر رہے تھے اس لئے ہم ان سے زیادہ پوچھ گچھ نہیں کرتے تھے،میرے ہی کہنے پر انہوں نے قوم سے معافی مانگی ، نظر بندی کا فیصلہ ان کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا تھا کیونکہ خطرہ تھا اس معاملے کے بعد ان پر کوئی جان لیوا حملہ نہ ہو جائے،امریکہ نے اس معاملے میں ہمیں بہت پریشرائز کیا لیکن ہم نے ان کو ان کے حوالے نہیں کیا کیونکہ وہ ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ نواز شریف کے بھارت کیساتھ تعلقات ذاتی نوعیت کے ہیں اگر بھارت کیساتھ آپ کے ایجنڈے میں کشمیر کا ذکرہی نہیں تو پھر آپ کا کیساتعلق؟میرے بھارت کیساتھ تعلقات صرف پاکستان کیلئے تھے لیکن یہ لوگ ان کیساتھ کاروبار کررہے ہیں۔ 2013سے لے کر چار سے پانچ ارب ڈالر کا کاروبار کیا گیا ہے۔داؤد ابراہیم کی پاکستان موجودگی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں ہے ،یہ صرف بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا ہے ،ان کا میڈیایہ بات کرتا نہیں کہ ان کا موجودہ وزیر اعظم گجرات میں 2000مسلمانوں کا قاتل ہے ۔اکبر بگٹی کو مار نے کا میرا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا ،حکومت پاکستان کی رٹ کو جو بھی چیلنج کرے گا اس کیساتھ یہ ہی سلوک ہو گا۔

مزید : صفحہ آخر