واشنگٹن: بلوچ علیحدگی پسندوں کا ناکام شو، امریکی شخصیات کا شرکت سے انکار

واشنگٹن: بلوچ علیحدگی پسندوں کا ناکام شو، امریکی شخصیات کا شرکت سے انکار

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی حامی تنظیم ’’امریکن فرینڈز آف بلوچستان‘‘ کا گزشتہ روز وا شنگٹن میں ہونیوالا شو بری طرح ناکام ہوگیا، نیشنل پریس کلب میں ہونیوالی تقریب میں منتظمین کی کوشش کے باوجود امریکی حکومت کی کسی شخصیت نے شرکت نہیں کی، چند ماہ قبل یہاں وجود میں آنیوالی اس تنظیم کی تقریب کا مقصد بلوچستان کے سابق گورنر اکبر بگٹی کی گیارہویں برسی منا نے کے بہانے پاکستان سے بلوچستان کی علیحدگی کی مذموم سازش کیلئے حمایت حاصل کرنا تھا، اکبر بگٹی کے پوتے اور باغی لیڈر براہمداغ بگٹی نے لوئنٹرز لینڈ سے براہ راست ٹیلی فونک تقریر میں پاکستان کیخلاف زہر اگلا اور امریکی حکومت کی نئی افغان پالیسی میں پاکستان کے بارے میں سخت رویہ اختیار کرنے کی تعریف کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا کہ وہ خطے میں اپنے دوستوں دشمنوں میں فرق کو سمجھنے کی کو شش کرے۔ تقریب میں کانگریس کے عملے کی ایک ادنی رکن اور انسانی حقوق کی علمبرداری کا دعویٰ کرنیوالی کیتھرین پورٹر نے بھی تقریر کی اور علیحدگی پسندوں کی حمایت کی۔ میزبان تنظیم کے احمد مستی خاں نے اپنی تقریر میں پاکستانی حکومت پر سینکڑوں بلوچوں کو لاپتہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ یاد رہے تقریب کے دعوت نامے میں مقررین میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کا نام بھی شامل تھا جو اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ انہوں نے نمائندہ ’’پاکستان‘‘ کے رابطے کرنے پر بتایا کہ انہوں نے تقریب سے خطاب کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا اور ویسے بھی مجھے ان علیحدگی پسندوں کے ایجنڈے سے اتفاق نہیں ہے تو میں تقریب میں شرکت کیوں کرتا۔ واشنگٹن میں پاکستان کے محب وطن طبقے نے بلوچ علیحدگی پسندوں کی حامی تنظیم کے قیام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے یہ علیحدگی پسند جو حکومت پر الزام لگا رہے ہیں خود بلوچوں کے قتل میں ملوث ہیں، بلوچستان پاکستان میں شامل رہ کر ترقی کی منازل طے کررہا ہے اور سی پیک کی تکمیل سے اس صوبے کے حالات مزید بہتر ہوجائیں گے۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...