مری ، پنڈی پوائنٹ سے سرکٹی دو ٹکڑے نعش ریسکیو 1122کے اہلکار کی نکلی

مری ، پنڈی پوائنٹ سے سرکٹی دو ٹکڑے نعش ریسکیو 1122کے اہلکار کی نکلی

مری (خبر نگار) مری میں پنڈی پوائنٹ سے ملحقہ علاقے سے ملنے والی سرکٹی دو ٹکڑے نعش ریسکیو 1122کے اہلکار رضوان علی راجپوت کی نکلی کہ یہ نعش ریسکیو 1122کے اہلکار کی ہے جوچند روز سے نہ صرف اپنے گھر سے لاپتہ ہے بلکہ ادارے سے چھٹی لینے کے بعد دو روز سے غیر حاضر ہے ۔تفصیلات کے مطابق پنڈی پوائنٹ کے قریب سرکٹی دو ٹکڑے نعش کر کے جنگل میں پھینکا گیا تھا اس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ نعش ریسکیو 1122کے ایک اہلکار کی ہے ، اس کے بھائی نے گزشتہ روز ریسکیو 1122 کے کنٹرول روم میں ٹیلی فون پر اپنے بھائی رضوان علی راجپوت کی حاضری کے بارے میں دریافت کیا تھا تو اسے بتایا گیاکہ مذکورہ اہکلار تین روزکی چھٹی کے بعد دو روز سے غیر حاظر تھا جس پر اس کے بھائی نے کہا کہ جنگل سے ملنے والی نعش اس کے بھائی کی ہی ہے کیونکہ گزشتہ پانچ دن سے گھر والوں کو رضوان علی کے موبائل فون پر رابط نہیں ہو رہا ۔ پولیس کو ریسکیو 1122کے اہلکار کی گاڑی بھی مل گئی ہے جس میں مبینہ طور پر خون کی موجودگی کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں ۔ مذکورہ اہلکار جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس کی شادی جس عورت سے ہوئی اس عورت کے کردار کو مشکوک گردانا جاتا تھا۔ متعلقہ ادارے ،عوامی حلقوں اور قریبی لوگوں میں روز اول سے ہی چہ مہ گوئیاں ہو رہی ہیں ۔ملنے والے تمام شواہد کی کڑیاں ملتی نظر آ رہی ہیں تاہم ہر شخص اس سلسلے میں انتہائی محتاط نظر آتا ہے ۔ادھرای ڈی پی او مری رضاء اللہ خان نے بھی سرکٹی دو ٹکڑے نعش کے بارے میں اہم ترین پیش رفت کا عندیہ دیا ہے جس سے مذکورہ سربریدہ نعش کی کڑیاں واضع طور پر ریسکیو 1122 کے پانچ روز سے لاپتہ اہلکار سے ملتی ہیں ۔ لاپتہ نوجوان کی گاڑی میں سے خون کودھبے دھونے کی کوشش کی گئی تھی مگر وہاں خون کی موجودگی نے متعدد کڑیوں کو آپس میں ملا دیا ہے ۔ واضع رہے کہ پنڈی پوائنٹ سے جیسز اینڈ میری سکول کی جانب جانے والی سڑک پر چند روز قبل ملنے والی لعش کو دوشیزہ قرار دیا گیا تھا بعد اذاں انکشاف ہوا تھاکہ یہ جواں سالہ مرد کی نعش تھی ۔ شہر میں مختلف مقامات پر عوام سر جوڑے اس اندھے قتل کے متعلق لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کرتے رہے اور اس قسم کا یہ مری میں پہلا واقعہ ہے۔بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نعش کو جس بے دردی سے کاٹا گیا اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اندھا قتل غیرت کے نام پر بھی ہو سکتا ہے۔عوام میں اس اندھے قتل کے متعلق شدید خوف و ہراس اور تشویش پائی جا رہی ہے۔

 

مزید : کراچی صفحہ اول